اسرافیل کی موت

Verses

اسرافیل کی موت

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
وہ خداؤں کا مقرّب، وہ خداوندِکلام
صوت انسانی کی روح ِجاوداں
آسمانوں کی ندائے بے کراں
آج ساکت مثل ِ حرفِ ناتمام
مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ!

آؤ، اسرافیل کے اس خوابِ بے ہنگام پر آنسو بہائیں
آرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاس
جیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسے
ریگ ساحل پر، چمکتی دھوپ میں، چپ چاپ
اپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہے!
اس کی دستار، اس کے گیسو، اس کی ریش
کیسے خاک آلودہ ہیں!
تھے کبھی جن کی تہیں بود و نبود!
کیسے اس کا صور، اس کے لب سے دور،
اپنی چیخوں، اپنی فریادوں میں گم
جھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زود!

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاوء
وہ مجسّم ہمہمہ تھا، وہ مجسّم زمزمہ
وہ ازل سے تا ابد پھیلی ھوئی غیبی صداؤں کا نشاں!

مرگِ اسرافیل سے
حلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گر،
ابن آدم زلف در خاک و نزاز
حضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تار
آسمانوں کی صفیر آتی نہیں
عالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیں!

مرگِ اسرافیل سے
اس جہاں پر بند آوازوں کا رزق
مطربوں کا رزق، اور سازوں کا رزق
اب مغنّی کس طرح گائے گا اور گائے کا کیا
سننے والوں کے دلوں کے تار چب!
اب کوئی رقاص کیا تھرکے گا، لہرائے گا کیا
بزم کے فرش و در و دیوار چپ!
اب خطیبِ شہر فرمائے گا کیا
مسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپ!
فِکر کا صیّاد اپنا دام پھیلائے گا کیا
طائرانِ منزل و کہسار چپ!

مرگِ اسرافیل ہے
گوش شنوا کی، لبِ گویا کی موت
چشم ِبینا کی، دلِ دانا کی موت
تھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہو
ــــــــ اہل دل کی اہل دل سے گفتگو
اہل دل ــــــــــ جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلو!
اب تنانا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گم
اب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گم!
یہ ہمارا آخری ملجا بھی گم!

مرگِ اسرافیل سے،
اس جہاں کا وقت جیسے سو گیا، پتھرا گیا
جیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیا،
ایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیں
ایسا سنّاٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیں!

مرگِ اسرافیل سے
دیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھی
زباں بندی کے خواب!
جس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہو
اس خداوندی کے خواب!

عجیب رنگ تیرے حُسن کا، لگاؤ میں تھا

Verses

عجیب رنگ تیرے حُسن کا، لگاؤ میں تھا
گلاب جیسے کڑی دُھوپ کے الاؤ میں تھا

ہے جس کی یاد میری فردِ جُرم کی سُرخی
اسی کا عکس میرے ایک ایک گھاؤ میں تھا

یہاں وہاں سے کنارے مُجھے بُلاتے رہے
مگر مَیں وقت کا دریا تھا اور بہاؤ میں تھا

عروسِ گُل کو صبا جیسے گدگدا کے چلے
کچھ ایسا پیار کا عالم تیرے سبھاؤ میں تھا

مَیں پُر سکوں ہوُں، مگر میرا دل ہی جانتا ہے
جو انتشار محبّت کے رکھ رکھاؤ میں تھا

غزل کے رُوپ میں تہذیب گا رہی تھی ندیم
میرا کمال، میرے فن کے اس رچاؤ میں تھا

بھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر بول میں کیا کروں۔۔۔۔عمران شناور

Verses

بھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر بول میں کیا کروں
جینے دیتی نہیں اس کی پہلی نظر بول میں کیا کروں

تیرگی خوب ہے، کوئی ہمدم نہیں، کوئی رہبر نہیں
مجھ کو درپیش ہے ایک لمبا سفر بول میں کیا کروں

خود سے ہی بھاگ کر میں کہاں جاؤں گا، یونہی مر جاؤں گا
کوئی صورت بھی آتی نہیں اب نظر بول میں کیا کروں‌

میری تنہائی نے مجھ کو رسوا کیا، گھر بھی زندان ہے
مجھ پہ ہنسنے لگے اب تو دیوار و در بول میں کیا کروں

اڑ بھی سکتا نہیں، آگ ایسی لگی، کس کو الزام دوں
دھیرے دھیرے جلے ہیں مرے بال و پر بول میں کیا کروں

تو مرا ہو گیا، میں ترا ہو گیا، اب کوئی غم نہیں
پھر بھی دل میں بچھڑنے کا رہتا ہے ڈر بول میں کیا کروں

عمران شناور

ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہے

Verses

ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہے
پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!

سورج گھر سے نکل چکا تھا کرنیں تیز کیے
شبنم گُل سے پوچھ رہی تھی ”مہلت کتنی ہے!“

بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیں
شہر میں دیکھو سناٹے کی دہشت کتنی ہے!

لفظ تو سب کے اِک جیسے ہیں‘ کیسے بات کھلے؟
دُنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!

سپنے بیچنے آ تو گئے ہو‘ لیکن دیکھ تو لو
دُنیا کے بازار میں ان کی قیمت کتنی ہے!

دیکھ غزالِ رم خوردہ کی پھیلی آنکھوں میں
ہم کیسے بتلائیں دل میں وحشت کتنی ہے!

ایک ادھورا وعدہ اُس کا‘ ایک شکستہ دل‘
لُٹ بھی گئی تو شہرِ وفا کی دولت کتنی ہے!

میں ساحل ہوں امجد اور وہ دریا جیسا ہے
کتنی دُوری ہے دونوں میں‘ قربت کتنی ہے

Hum Mein Hai Kya Humen Koi

hum me hai kya ke hum me koi haseena chahe
sirf jazbaat hai, jazbaaat me kya rakhkha hai
hum me hai kya ke hum me koi haseena chahe

a) itna deewana na ban ai dil-e-betaab sambhal
woh agar mil bhi liye tujhse, to itna na machal <2>
be-taalukh si mulaaqat me kya rakhkha hai
hum me hai kya ke hum me koi haseena chahe

b) muskurahat ko mohabbat ka ishara na samajh
mil liye honge woh yunhi unhe apna na samajh <2>
aise nadaan khayalat me kya rakhkha hai
hum me hai kya ke hum me koi haseena chahe

Naach Haseena Naach

naach haseena naach ki duniya dekhe
thumak-thumak ke naach ki duniyaa dekhe
tere ishaaro pe naache zamana
tu mere ishaaro pe naach ki duniya dekhe
naach haseena naach ...

inkaar ki gunjaaish nahin -2
takraar ki gunjaaish nahin
ab maan jaa bas jaan jaa meri nazarein pehchaan jaa
jhoom hasina jhoom ki duniya dekhe
naach haseena naach ...

la la laa

جیتا ہی نہیں ہو جسے آزارِ محبت

Verses

جیتا ہی نہیں ہو جسے آزارِ محبت
مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمارِ محبت

ہر جنس کی خواہاں ملے بازار جہاں میں
لیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت

اس راز کو رکھ جی ہی میں تاجی بچے تیرا
زنہار جو کرتا ہو تُو اظہار محبت

بے کار نہ رہ عشق میں تُو رونے سے ہرگز
یہ گریہ ہی ہے آبِ رُخِ کارِ محبت

جن پر ستم تمام قفس کی فضا کے تھے

Verses

جن پر ستم تمام قفس کی فضا کے تھے
مجرم وہ لوگ اپنی شکست انا کے تھے

اے دشت ہجر ہم سے حساب کرم نہ مانگ
پاؤں میں آبلے تھے مگر ابتدا کے تھے

لب پر سجا لیے تھے یونہی اجنبی سے نام
دل میں تمام زخم کسی آشنا کے تھے

پتوں سے بھر رھے تھے ہواؤں کی جھولیاں
گرتے ھوئے شجر بھی سخی انتہا کے تھے

گہرے سمندروں میں کہاں عکس آسماں
پانی میں جتنے رنگ تھے سارے خلا کے تھے

اب دھول اوڑھنا بھی میسر نہیں جنہیں
وارث وہ اہل دل کبھی ارض و سما کے تھے

جن سے الجھ رھی تھیں ہواؤں کی شورشیں
"محسن"وہ دائرے تو میرے نقش پا کے تھے

مثالِ مَوجِ ہوا دَربدر وہ ایسا تھا

Verses

مثالِ مَوجِ ہوا دَربدر وہ ایسا تھا
بچھڑ کے پھر نہ مِلا، ہمسفر وہ ایسا تھا

خُود اپنے سر لیا الزامِ بے وفائی تک
کہا نہ کچھ بھی اُسے، معتبر وہ ایساتھا

اُسے بسائے ہوئے تھی بَلا کی ویرانی
دیارِ ہجر میں آباد گھر وہ اَیسا تھا

کہ جیسے چاند مُسافت سے ماند پڑ جائے
پسِ غلافِ غبارِ سَفر وہ ایسا تھا

نہ دوشِ اہلِ حَکَم پر نہ زیرِ تاجِ شہی
سِناں کی نوک پہ جچتا تھا، سَر وہ ایسا تھا

بس ایک خواب نے نیندیں نچوڑ لیں اپنی
سَما گیا میری نَس نَس میں، ڈر وہ ایسا تھا

لہُو لہُو میری آنکھیں، ہیں تار تار قبا
کہ حادثہ ہی میری جاں مگر وہ اَیسا تھا

زمیں پہ اُس کے کَٹے بازوؤں کا سایہ ہے
عدُو کے سامنے سینہ سِپر وہ ایسا تھا

اُس کا کام تھا زخموں کی پَرورش "محسن"
اُسی کے نام دُعا، چارہ گر وہ ایسا تھا