Kuan Ma Doob Jaoo

(adiyal jawani mori sukhi sukhi jaye re - 2
sayya anadi mohe paani na pilaye re - 2
jeth mahina hai garmi badhaye re - 2
kaisi nazariya ke dil chala jay re
kuan ma doob jaoo - 6) - 2

kaise sambhalu main yeh bali umariya - 2
kaise main na chodu ghar ki kewadiya - 2
jaoo jaha bhi ghure sabki nazariya - 2
mohe bachane aaja more sawariya - 2
kaise nazariyan ki dil chala jaye re
kuan ma doob jaoo - 4

کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر

Verses

کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر
حرف آتا ہے مسیحائی پر

اس کی شہرت بھی تو پھیلی ہرسو
پیار آنے لگا رسوائی پر

ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں جاناں
تیری تصویر کی زیبائی پر

رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی
قامتِ عشق کی رعنائی پر

سطح کے دیکھ کے اندازے لگیں
آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر

ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا
بات ہوگی مرے ہرجائی پر

خود کو خوشبو کےحوالے کردیں
پھول کی طرزِ پذیرائی پر

جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں

Verses

جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں

تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا
میری طرح تیرا دل بے قرار ہے کہ نہیں

وہ پَل کہ جس میں محبت جواں ہوتی ہے
اس اک پَل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں

تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو
تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں

دوست جیسی، کبھی دشمن کی طرح لگتی ہے

Verses

دوست جیسی، کبھی دشمن کی طرح لگتی ہے
زندگی تو کسی اُلجھن کی طرح لگتی ہے!

ایک لمحے میں مرے من کو بھگو دیتی ہے
اُس کی ہر بات ہی ساون کی طرح لگتی ہے

تیرے چہرے پہ اُداسی ہے میرے گھر کی طرح
تیری حالت میرے آنگن کی طرح لگتی ہے

تو بھی الفت کے تقاضوں کو نہیں سمجھی ہے
تیری الجھن، میری الجھن کی طرح لگتی ہے

تجھ پر بھی فسوں دہر کا چل جائیگا آخر

Verses

تجھ پر بھی فسوں دہر کا چل جائیگا آخر
دنیا کی طرح تُو بھی بدل جائے گا آخر

پھیلی ہے ہر اِک سمت حوادث کی کڑی دھوپ
پتّھر ہی سہی وہ بھی پگھل جائے گا آخر

اے میرے بدن روح کی دولت پہ نہ اِترا
یہ تیر بھی ترکش سے نکل جائے گا آخر

وہ صبح کا تارہ ہے تو پھر ماند بھی ہو گا
چڑھتا ہُوا سورج ہے تو ڈھل جائے گا آخر

دِل تجھ سے بچھڑ کر بھی کہاں جائے گا اے دوست
یادوں کے کھلونوں سے بہل کائے گا آخر

آوارہ و بدنام ہے "محسن" تو ہمیں کیا؟
خود ٹھوکریں کھا کھا کے سنبھل جائے گا آخر

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer