کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں

Verses

کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں
یہ وقت جیسے بھی گزرے گزار لو سائیں

وہ اس طرح سے ہیں بچھڑے کہ مل نہیں سکتے
وہ اب نہ آئیں گے ان کو صدا نہ دو سائیں

تمہیں پیام دئیے ہیں صبا کے ہاتھ بہت
تمہارے شہر میں ہیں تم جو آ سکو سائیں

نہ مال و زر کی تمنا نہ جاہ حشمت کی
ملیں گے پیار سے ہم ایسے لوگ تو سائیں

کہیں تو کس سے کہیں اور سنے تو کون سنے
گزر گئی ہے محبت میں ہم پہ جو سائیں

اکیلے جاگتے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا
تمام خواب میں ہیں تم بھی سو رہو سائیں

جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے

Verses

جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
ہم نے سب کچھ کر دیکھا ہے

برگِ آوارہ کی صورت
رنگِ خشک و تر دیکھا ہے

ٹھنڈی آہیں بھرنے ولو
ٹھنڈی آہیں بھر دیکھا ہے

تیری زُلفوں کا افسانہ
رات کے ہونٹوں پر دیکھا ہے

اپنے دیوانوں کا عالم
تم نے کب آکر دیکھا ہے

انجم کی خاموش فضا میں
میں نے تمھیں اکثر دیکھا ہے

ہم نے اس بستی میں جالب
جھوٹ کا اُونچا سر دیکھا ہے

آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں

Verses

آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں
اڑتے پتوں کے پیچھے اڑاتا رہا شوق آوارگی

اس گلی کے بہت کم نظر لوگ تھے،فتنہ گر لوگ تھے
زخم کھاتا رہا مسکراتا رہا ،شوق آوارگی

کوئی پیغام گل تک نہ پہنچا مگر پھر بھی شام و سحر
ناز باد چمن کے اٹھاتا رہا شوق آوارگی

کوئی ہنس کے ملے غنچئ دل کھلے چاک دل کا سلے
ہر قدم پر نگاہیں بچھاتا رہا شوق آوارگی

دشمن جاں فلک ،غیر ہے یہ زمیں کوئی اپنا نہیں
خاک سارے جہاں کی اڑاتا رہا شوق آوارگی

عشق میں نام کر گئے ہوں گے

Verses

عشق میں نام کر گئے ہوں گے
جو تیرے غم میں مر گئے ہوں گے

اب وہ نظریں اِدھر نہیں اُٹھتیں
ہم نظر سے اُتر گئے ہوں‌ گے

کچھ فضاؤں‌ میں انتشار سا ہے
ان کے گیسُو بکھر گئے ہوں گے

نور بکھرا ہے راہ گزاروں میں
وہ ادھر سے گزر گئے ہوں‌ گے

میکدے میں‌ کہ بزمِ جاناں تک
اور جالب کدھر گئے ہوں‌ گے

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا

Verses

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
مجھ کو انسان سے اوتار کیا

دشتِ غربت میں دلِ ویراں نے
یاد جمنا کو کئی بار کیا

پیار کی بات نہ پوچھو یارو
ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا

کتنی خوابیدہ تمناؤں کو
اس کی آواز نے بیدار کیا

ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب
ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں

Verses

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
زندگی ڈھل گئی مشینوں میں

پیار کی روشنی نہیں ملتی
ان مکانوں میں ان مکینوں میں

دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ
سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں

قہر کی آنکھ سے نہ دیکھ ان کو
دل دھڑکتے ہیں آبگینوں میں

آسمانوں کی خیر ہو یا رب
اک نیا عزم ہے زمینوں میں

وہ محبت نہیں رہی جالب
ہم سفیروں میں ہم نشینوں میں

یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے

Verses

یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے
سناتے ہیں کچھ افسانے پرانے

اک آہِ سرد بن کر رہ گئے ہیں
وہ بیتے دن وہ یارانے پرانے

جنوں کا ایک ہی عالم ہو کیونکر
نئی ہے شمع پروانے پرانے

نئی منزل کی دُشواری مسلّم
مگر ہم بھی ہیں دیوانے پرانے

ملے گا پیار غیروں ہی میں جالب
کہ اپنے تو ہیں بیگانے پرانے

وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں

Verses

وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں
حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں

جو بیٹھا ہے صفِ ماتم بچھائے مرگِ ظلمت پر
وہ نوحہ گر ہے خطرے میں، وہ دانشور ہے خطرے میں

اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے
نہ تیرا گھر ہے خطرے میں، نہ میرا گھر ہے خطرے میں

جہاں اقبال بھی نذرِ خطِ تنسیخ ہو جالب
وہاں تجھ کو شکایت ہے، تیرا جوہر ہے خطرے میں

تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ

Verses

تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ
تو پھول ہے شرار ہیں تیری گلی کے لوگ

تو رونقِ حیات ہے تو حُسنِ کائنات
اجڑا ہوا دیار ہیں تیری گلی کے لوگ

تو پیکرِ وفا ہے مجسّم خلوص ہے
بدنامِ روزگار ہیں تیری گلی کے لوگ

روشن تیرے جمال سے ہیں مہر و ماہ بھی
لیکن نظر پہ بار ہیں تیری گلی کے لوگ

دیکھو جو غور سے تو زمیں سے بھی پست ہیں
یوں آسماں شکار ہیں تیری گلی کے لوگ

پھر جا رہا ہوں تیرے تبسّم کو لوُٹ کر
ہر چند ہوشیار ہیں تیری گلی کے لوگ

کھو جائیں گے سحر کے اجالوں میں آخرش
شمع سرِ مزار ہیں تیری گلی کے لوگ

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں

Verses

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں

اب تذکرہء خندہء گل بار ہے جی پر
جاں وقفِ غمِ گریہء شبنم ہے مری جاں

رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلف سیہ تاب
تصویر ِپریشانیء عالم ہے مری جاں

یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت
یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پرنم ہے مری جاں

ہم سادہ دلوں پر یہ شب ِغم کا تسلط
مایوس نہ ہو اور کوئی دَم ہے مری جاں

یہ تیری توْجہ کا ہے اعجاز کہ مجھ سے
ہر شخص ترے شہر کا برہم ہے مری جاں

اے نزہتِ مہتاب ترا غم ہے مری زیست
اے نازش ِخورشید ترا غم ہے مری جاں