کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے

Verses

کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے
نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے

سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں
پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کی
اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے

سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل
طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے

یہ بستی ہے ستم پروردگاں کی
یہاں کوئی کسی سے کم نہیں ہے

کنارا دوسرا دریا کا جیسے
وہ ساتھی ہے مگر محرم نہیں ہے

دلوں کی روشنی بجھنے نہ دینا
وجودِ تیرگی محکم نہیں ہے

میں تم کو چاہ کر پچھتا رہا ہوں
کوئی اس زخم کا مرہم نہیں ہے

جو کوئی سن سکے امجد تو دنیا
بجز اک باز گشتِ غم نہیں ہے

دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے

Verses

دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے

اُس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھہر جاتی ہے
جیسے پانا ہی اسے، اصل میں مر جانا ہے

بول اے شامِ سفر، رنگِ رہائی کیا ہے؟
دل کو رُکنا ہے کہ تاروں کو ٹھہر جانا ہے

کون اُبھرتے ہوئے مہتاب کا رستہ روکے
اس کو ہر طور سوئے دشتِ سحر جانا ہے

میں کِھلا ہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے
وہ تو خوشبو ہے، اسے اگلے نگر جانا ہے

وہ ترے حُسن کا جادو ہو کہ میرا غمِ دل
ہر مسافر کو کسی گھاٹ اُتر جانا ہے

محبتیں تھیں کچھ ایسی، وصال ہوکے رہا

Verses

محبتیں تھیں کچھ ایسی، وصال ہوکے رہا
وہ خوش خیال میرا ہم خیال ہوکے رہا

ہر ایک پردے میں دریافت اُس کا حسن کیا
پھر اُس خزانے سے میں مالا مال ہوکے رہا

لہو کی لہر میں شادابیوں کی شدت سے
مزاج اُس کا میرے حسب ِحال ہوکے رہا

کرم کا سلسلہ جو منقطع تھا غفلت سے
بحال کیسے نہ ہوتا، بحال ہوکے رہا!

ہم اتنا چاہتے تھے ایک دوسرے کو ظفر
میں اس کی اور وہ میری مثال ہوکے رہا

روز یہ وقت آ جاتا ہے

Verses

روز یہ وقت آ جاتا ہے
سچ مجھے جھٹلا جاتا ہے

دل میں ہلچل یوں ہی نہیں
کوئی تو آتا جاتا ہے

جیسے پھر نہیں ملنا اُسے
یوں مجھے تکتا جاتا ہے

میں اگر اس کو جانے دوں
چین آنکھوں کا جاتا ہے

آنسو راستہ روکتے ہیں
چہرہ دھندلا جاتا ہے

رات کو خواب ہو گئی ، دن کو خیال ہو گئی

Verses

رات کو خواب ہو گئی ، دن کو خیال ہو گئی
اپنے لیے تو زندگی ، ایک سوال ہو گئی

ڈال کے خاک چاک پر ، چل دیا ایسے کوزہ گر
جیسے نمودِ خشک و تر ، رو بہ زوال ہو گئی

پھول نے پھول کو چُھوا ، جشن ِوصال تو ہوا
یعنی کوئی نباہ کی رسم بحال ہو گئی

تجھ کو کہاں سے کھوجتا ، جسم زمین پہ بوجھ تھا
آخر اس تھکان سے ، روح نڈھال ہو گئی

کون تھا ایسا ہمسفر ، کون بچھڑ گیا ظفر
موج ِنشاط رہ گزر ، وقفِ ملال ہو گئی

جب وہ صورت عجب بنائی گئی

Verses

جب وہ صورت عجب بنائی گئی
زندگی بے سبب بنائی گئی

دی گئی تابِ دید آنکھوں کو
دل میں شکلِ طلب بنائی گئی

دیکھ کر دن کی بے لباسی کو
مثلِ ملبوس شب بنائی گئی

بعد میں بحرِ غم بنایا گیا
پہلے موج ِطرب بنائی گئی

تھی نہ اس ہاتھ میں لکیر کوئی
میری تقدیر جب بنائی گئی

تیرگی تھی ابد کی صورت میں
روشنی جانے کب بنائی گئی

کوئی بوسے کا رنگ بھی ہو گا
جب وہ تصویرِ لب بنائی گئی

سخت حیراں ہوں محفل ِعشق
کس قدر با ادب بنائی گئی

اس پہ ظاہر مرا احوال نہیں ہو سکتا

Verses

اس پہ ظاہر مرا احوال نہیں ہو سکتا
وہ کنارا کبھی پاتال نہیں ہو سکتا

فکر کرنے سے ہی ملتی ہے سخن کی دولت
جو نہیں سوچتا، خوشحال نہیں ہو سکتا

لکھنے والا جو اسے اپنے لہو سے لکھے
کوئی مضمون بھی پامال نہیں ہو سکتا

آب و ماہی کا تعلق ہے فقط آزادی
ان کا ہمدرد کوئی جال نہیں ہو سکتا

شہر اپنا ہے وہی پہلی محبت ہے جہاں
کہ کراچی تو ظفر وال نہیں ہو سکتا

وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھی

Verses

وہ کیوں نہ روٹھتا ، میں نے بھی تو خطا کی تھی
بہت خیال رکھا تھا ، بہت وفا کی تھی

سنا ہے ان دنوں ہم رنگ ہیں بہار اور آگ
یہ آگ پھول ہو میں نے بہت دعا کی تھی

نہیں تھا قرب میں بھی کچھ مگر یہ دل ، مرا دل
مجھے نہ چھوڑ ، بہت التجا کی تھی

سفر میں کشمکش مرگ و زیست کے دوران
نجانے کس نے مجھے زندگی عطا کی تھی

سمجھ سکا نہ کوئی بھی مری ضرورت کو
یہ اور بات کہ اک خلق اشتراکی تھی

یہ ابتدا تھی کہ میں نے اسے پکارا تھا
وہ آ گیا تھا ظفر، اس نے انتہا کی تھی

نہ ترا خدا کوئی اور ہے نہ مرا خدا کوئی اور ہے

Verses

نہ ترا خدا کوئی اور ہے نہ مرا خدا کوئی اور ہے
یہ جو قسمتیں ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے

ترا جبر ہے مرا صبر ہے، تری موت ہے مری زندگی
مرے درجہ وار شہید ہیں ، مری کربلا کوئی اور ہے

کئی لوگ تھے جو بچھڑ گئے، کئی نقش تھے جو بگڑ گئے
کئی شہر تھے جو اجڑ گئے، ابھی ظلم کیا کوئی اور ہے

نہ تھا جس کو خانہ خاک یاد، ہوا نذر آتش و ابر و باد
کہ ہر ایک دن دن سے الگ ہے، دن جو حساب کا کوئی اور ہے

ہوئے خاک دھول تو پھر کھلا یہی بامراد ہے قافلہ
وہ کہاں گئے جنہیں زعم تھا کہ راہ وفا کوئی اور ہے

یہ ہے ربط اصل سے اصل کا ،نہیں ختم سلسلہ وصل کا
جو گرا ہے شاخ سے گل کہیں تو وہیں کھلا کوئی اور ہے

وہ عجیب منظر خواب تھا کہ وجود تھا نہ سراب تھا
کبھی یوں لگا نہیں کوئی اور ،کبھی یوں لگا کوئی اور ہے

کوئی ہے تو سامنے لائیے ، کوئی ہے تو شکل دکھائیے
ظفر آپ خود ہی بتائیے ، مرے یار سا کوئی اور ہے

وہ پہلی پہل لگن کا معاملہ ہے عجیب

Verses

وہ پہلی پہل لگن کا معاملہ ہے عجیب
کہ بیل اس سے لپٹتی ہے جو شجر ہو قریب

یہ دل بھی طاق پہ رکھ دو بجھے دیے کی طرح
کسی بھی چیز کی گھر میں اگر نہیں ترتیب

ظفر جو لوگ تھے شفاف آئینوں کی طرح
انہی کے بارے میں باتیں ہوئیں عجیب و غریب