رخصت ہوا تو بات میری مان کر گیا

Verses

رخصت ہوا تو بات میری مان کر گیا
جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ھی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

دلچسپ واقعہ ھے کہ کل اک عزیز دوست
اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا

کتنی سدھر گئی ھے جدائی میں زندگی
ہاں وہ جفا سے مجھ پہ تو احسان کر گیا

"خالد"میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

Verses

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارہء شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ ء جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دورِ آسماں بھی
جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ

بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے
یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ

مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اٹھا تھا رات دِل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

Nahin Kiya To Karake Dekh Tu Bhi Kisi Pe Mar Ke Dekh

nahin kiya to karake dekh tu bhi kisi pe mar ke dekh
husn ke bikhare phuulon se dil ki jholi bhar ke dekh
tu bhi kisi pe mar ke dekh

kaun tujhe kya kahata hai kyon usaka gam sahata hai
are kutte bhaunkate rahate hain qaafila chalata rahata hai
bhayi qaafila chalata rahata hai
kabhi apane mann ki kar ke dekh
tu bhi kisi pe mar ke dekh

ritein rasmein tod bhi de dil ko akela chhod bhi de
duniya dil ki dushman hai (duniya ka mu.nh mod bhi de) - 2
are kuchh to anokha kar ke dekh
tu bhi kisi pe mar ke dekh

کیا وہاں کام مری طاقتِ گفتار کا تھا

Verses

کیا وہاں کام مری طاقتِ گفتار کا تھا
میرا تو رول ہی خاموش اداکار کا تھا

دھوپ میں کیسا غنیمت تھا ، ہمیں جانتے ہیں
اتنا مدھم سا جو سایہ تری دیوار کا تھا

قدر و قیمت مری تحریر کی کیسے ہوتی
میں مصاحب تھا نہ منشی کسی دربار کا تھا

میرے بچے یونہی بے تاب ہوئے پھرتے تھے
صحن میں عکس فقط شاخِ ثمر دار کا تھا

ماں! اچانک ترے ہاتھوں نے مجھے تھام لیا
یاد آتا ہے کہ منظر کسی منجدھار کا تھا

بات کرتا تھا وہ ہم رتبہ رفیقوں کی طرح
جس کی پاپوش تلے پر مری دستار کا تھا

کسی کم ظرف کے ہاتھوں نہیں کھائی ہے شکست
خوش میں اس پر ہوں کہ دشمن مرے معیار کا تھا

اس کی پائل اگر چھنک جائے

Verses

اس کی پائل اگر چھنک جائے
گردشِ آسماں ٹھٹھک جائے

اس کے ہنسنے کی کیفیت ، توبہ!
جیسے بجلی چمک چمک جائے

اس کے سینے کا زیرو بم ، توبہ!
دیوتاؤں کا دل دھڑک جائے

لے اگر جھوم کر وہ انگڑائی
زندگی دار پر اٹک جائے

ایسے بھر پور ہے بدن اس کا
جیسے ساون کا آم پک جائے

ہائے اس مہ جبیں کی یاد عدم
جیسے سینے میں دم اٹک جائے

Jeth Ki Dopahari Mein

jeth ki dopahari mein paanv jale hai saiyya paanv jale hai - 2
aa ke god mein utha thaam le baiyya
jeth ki dopahari mein garmi lage hai raani garmi lage hai - 2
aake mujh ko bitha zulfon ki chhaiyya
jeth ki dopahari mein paanv jale hai saiyya paanv jale hai
jeth ki dopahari mein garmi lage hai raani garmi lage hai

شعاعِ حسن ترے حسن کو چھپاتی تھی

Verses

شعاعِ حسن ترے حسن کو چھپاتی تھی
وہ روشنی تھی کہ صورت نظر نہ آتی تھی

کسے ملیں کہاں جائیں کہ رات کالی ہے
وہ شکل ہی نہ رہی جو دیے جلاتی تھی

وہ تو دن تھے حقیقت میں عمر کا حاصل
خوشا وہ دن کہ ہمیں روز موت آتی تھی

ذرا سی بات سہی تیرا یاد آجانا
ذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھی

اداس بیٹھے ہو کیوں ہاتھ توڑ کر ناصر
وہ نَے کہاں ہے جو تاروں کی نیند اڑاتی تھی

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer