اس نے کہا ھم آج سے دلدار ھو گئے

IN Khan's picture

اس نے کہا ھم آج سے دلدار ھو گئے
سب لوگ اس کے دل کے طلبگار ھو گئے

اس نے کہا کہ ایک حسیں چاہیے مجھے
سارے ہی لوگ زینت بازار ھو گئے

اس نے کہا کہ صاحب کردار ھے کوئی
اک پل میں لوگ صاحب کردار ھو گئے

اس نے کہا کہ مجھے مری تعمیر چاہیے
جو خشت وسنگ بار تھے معمار ھو گئے

اس نے کہا یہاں پہ کوئی باخبر بھی ھے
جو بے خبر تھے وہ بھی خبردار ھو گئے

اس نے کہا کہ طالب دیدار ھے کوئی
اندھے بھی اس کے طالب دیدار ھو گئے

اس نے کہا کسی کو مرا وصل چاہیے
انکار کے حروف بھی اقرار ھو گئے

اس نے کہا کہ قافلہ سالار ھے کوئی
سارے ہی لوگ قافل سالار ھو گئے

اس نے کہا ذرا سا مجھے حسن چاہیے
سارے ہی شہر حسن کے بازار ھو گئے

اس نے کہا کہ تیزیٴ رفتار ھے کہیں
کچھوے عدیم صاحب رفتار ھو گئے

Your rating: None Average: 3.6 (5 votes)