اس نے کہا ھم آج سے غمخوار ھو گئے

IN Khan's picture

اس نے کہا ھم آج سے غمخوار ھو گئے
ھمدردیوں کے سب ہی طلبگار ھو گئے

اس نے کہا ملائے مری ہاں میں ہاں کوئی
سب لوگ اس کے حاشیہ بردار ھو گئے

اس نے کہا ملے کوئی پتلا خطاؤں کا
قسمیں اٹھا کے سب ہی خطاکار ھو گئے

اس نے کہا غریب جو خدمت گزار ھو
زردار زر کو پھینک کے نادار ھو گئے

اس نے کہا کہ یار طرحدار کوئی ایک
جتنے تھے یار سارےطرحدار ھو گئے

اس نے کہا چلو تو ذرا بتکدے چلیں
جو دیوتا تھے اس کے پرستار ھو گئے

اس نے کہا کہ جان کوئی دے مرے لیے
سب لوگ ہی روانہ سوئے دار ھو گئے

اس نے کہا کہ نیند سے بیدار ھے کوئی
جو مر گئے تھے موت سے بیدار ھو گئے

اس نے کہا کہ بال ذرا میں بنا نہ لوں
سب لوگ اس کے آئینہ بردار ھو گئے

اس نے کہا علاج ترا پیار ھے عدیم
سب لوگ اس کے سامنے بیمار ھو گئے

Your rating: None Average: 5 (1 vote)