اندھیرا جیسے جیسے پھیلتا تھا/rafiq sandeelvi

noorulain's picture

اندھیرا جیسے جیسے پھیلتا تھا
وہ پُراسرار ہوتا جا رہا تھا

معموں کی طرح تھے جسم اپنے
اُسے میں وہ مجھے حل کر رہا تھا

بہت گنجل تھا اس کا آئینہ بھی
مرا بھی عکس پیچیدہ ہوا تھا

پڑے تھے جھول اُس کے پانیوں میں
سقم میری بھی مٹی میں پڑا تھا

مجھے سمجھانے میں صدیاں لگی تھیں
سمجھنے میں اُسے عرصہ لگا تھا
رفیق سندیلوی