بدن سے جو اچانک چھو گیا تھا/rafiq sandeelvi

noorulain's picture

بدن سے جو اچانک چھو گیا تھا
وہ کوئی ہاتھ عزرائیل کا تھا

چراگاہوں میں بھیڑیں چر رہی تھیں
افق کے پار سورج ڈوبتا تھا

مرے ماں باپ نے میرے جنم پر
سنہری اونٹ کا صدقہ دیا تھا

صلیبوں سے مجھے وحشت ہوئی تھی
میں طبعی موت مرنا چاہتا تھا

ادھر ڈائن چھری چلکا رہی تھی
اُدھر کوٹھے پہ آدھڑ جاگتا تھا

رفیق سندیلوی