بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

Guest Author's picture

بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

ہم تم کو یوں آزمائيں گے کسی دن
بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

یوں تو آوارگی کا سفر جاری ہے
سوچا ہےگھر جائيں گے کسی دن

ہر قدم پر گناہ کرنے والے سن لیں
گھڑے پاپ کے بھر جائيں گے کسی دن

اگر ظالم تیری بے رخی جاری رہی
راہ میں تجھ سے بچھڑ جائيں گے کسی دن

گر دیکھنا ہے معجزہ محبت دنیا کو
سفینے ڈوبتے بھی ابھر جائيں گے کسی دن

عثمان کو آزمانے والے سن لیں اب
ہم ہر حد سے گزر جائيں گے کسی دن

No votes yet