جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا

IN Khan's picture

جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا
خود کو کبھی خوابوں کے حوالے نہیں کرنا

اِس عمر میں خوش فہمیاں اچھی نہیں ہوتیں
اِس لمحہ کو وعدوں کے حوالے نہیں کرنا

اب اپنے ٹھکانے ہی پہ رہتا نہیں کوئی
پیغام ، پرندوں کے حوالے نہیں کرنا

اب کے جو مسافت ہمیں درپیش ہے اس میں
کچھ بھی تو سرابوں کے حوالے نہیں کرنا!

اِس معرکہء عشق میں جو حال ہو میرا
لیکن مجھے لوگوں کے حوالے نہیں کرنا