جو سیکھے تھے وہ منتر پڑھ رہا تھا/rafiq sandeelvi

noorulain's picture

جو سیکھے تھے وہ منتر پڑھ رہا تھا
میں لوہے کے کڑے میں پھنس گیا تھا

بدن میں سوئیاں چبھنے لگی تھیں
عمل سارا ہی الٹا ہو گیا تھا

بھر تھے دانوں سے گودام سارے
مگر ہر پیٹ پر پتھر بندھا تھا

دعائیں مستجب ہوتی نہیں تھیں
خدا پر سے یقیں بھی اٹھ گیا تھا

گرفتِ چشم میں تھا آب ِ باراں
گھٹا میں اس کا چہرہ تیرتا تھا
رفیق سندیلوی