دسمبر کی یخ بستہ راتیں اور ہم تنہا

Guest Author's picture

اس کی یادسے خوشی کی چراغ جل اٹھتے ہیں
اک چراغ بجھتا ہے ،کئی چراغ جل اٹھتے ہیں
دسمبر کی یخ بستہ راتیں اور ہم تنہا
نیند بچھڑتی ہے ،درد جل اٹھتے ہیں
ہم سیاہ بختوں کا حال کیا پوچھنا،
اندھیرہ بڑھتا اور ہم جل اٹھتے ہیں
کس قدر تپش ہے اس کی یادوں میں
شمع پگلتی ہے اور ہم جل اٹھتے ہیں
وقت ایسا بھی آنا تھا زندگی میںضمیر
کسی کے ساتھ دیکھ کے اسے جل اٹھتے ہیں
آخری ساعتیں رات کے آخری پہر کی
کرن چھپی اجالے میں اور ہم جل اٹھتے ہیں
ضمیر آفاقی
14دسمبر 2011

Your rating: None Average: 4.3 (8 votes)