رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے

Bawa's picture

رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے
ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے
پھول ذرا کھلجانے دے صحن گلشن میں ساقی
اک پیمانہ چیز ہے کیا ، مے خانہ پی جایں گے
ان کے دیوانوں کا ہے کوچے کوچے میں چرچا
وہ اپنے دیوانوں کو کب سمجھانے آ یں گے
ساقی کو بیدار کرو ، میخانہ کیوں سونا ہے
بادل تو گھر آے ہیں ، میکش بھی آ جایں گے
ان سے کہنے جاتے ہے بیتابی اپنے دل کی
وہ روداد غم سن کر دیکھیں کیا فرمایں گے
پھولو تم محفوظ رہو باد خزاں کے جھونکوں سے
اب ہم رخصت ہوتے ہیں ، اک دن پھر بھی آ یں گے
ساون کی برساتوں میں تیرا ملہاریں گانا
یہ لمحے یاد آ یں گے ، یاد آ کر تڑپا یں گے
وہ سوتے ہیں سونے دو وا ہے آغوش الفت
کہتے کہتے افسانہ ہم بھی تو سو جایں گے
باقی اک رہ جاے گا نقش ضیاء ے الفت کا
دنیا بھی مٹ جاے گی اور ہم بھی مٹ جایں گے

Your rating: None Average: 3 (3 votes)