ستاروں کا جنازہ اُٹھ رہا تھا/rafiq sandeelvi

noorulain's picture

ستاروں کا جنازہ اُٹھ رہا تھا
ہوا کے ساتھ بادل چیختا تھا

کیا تھا چاک پانی نے گریباں
اندھیرا سر میں مٹی ڈالتا تھا

پہاڑی سے نہیں اترا تھا ریوڑ
گڈریا رات بھر روتا رہا تھا

کوئی شے بھی نظر آتی نہیں تھی
مری آنکھوں پہ پردہ پڑ گیا تھا

پچھل پائی مرے پیچھے لگی تھی
میں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتا تھا

رفیق سندیلوی