عجب انداز سے وہ دن چڑھا تھا/rafiq sandeelvi

noorulain's picture

عجب انداز سے وہ دن چڑھا تھا
میں بادل کی سواری کر رہا تھا

فضا میں گونگھرو بجنے لگے تھے
میں پریوں کے جلو میں آ رہا تھا

ہوائیں مجھکو لوری دے رہی تھی
میں پھولوں کا پنگوڑا جھولتا تھا

وہ اک بھیگی اماوس رات تھی جب
مسخر چاند میں کر لیا تھا

پہاڑ اہنی جگہ سے ہٹ گئے تھے
سمندر نے مجھے رستہ دیا تھا

رفیق سندیلوی