لہو آواز کی تہ پر جما تھا/رفیق سندیلوی

noorulain's picture

لہو آواز کی تہ پر جما تھا
اور اس پر اک پرت آواز کا تھا

پرندہ ڈوبتا تھا آبِ یخ میں
اور آبِ یخ ہوا میں ڈوبتا تھا

ستونِ خواب پر بارش کی چھت تھی
اور اُس چھت پر چراغ اور آئینہ تھا

بدوشِ صاعقہ تھی کوئی میت
اور اُس کو ابر کاندھا دے رہا تھا

کفِ تجرید پر رکھا تھا پانی
اور اس سے اک ہیولا پھوٹتا تھا

رفیق سندیلوی
Rafiq Sandeelvi