پتہ میں اس محل کا پوچھتا تھا/rafiq sandeelvi

noorulain's picture

پتہ میں اس محل کا پوچھتا تھا
جہاں ہر در طلائی دھات کا تھا

جہاں کھلتے تھے غرفے دل کی جا نب
جہاں رہتا کیوپڈ دیوتا تھا

بنفشی آئینوں کی اک روش پر
ہوا کے رتھ پہ سورج گھومتا تھا

بچھی تھی فرش پر چاندی کی چادر
اور اس پر اک ستارا ناچتا تھا

جہاں فوارے تھے بارہ دری میں
جہاں پانی میں روشن قمقمہ تھا

رفیق سندیلوی