پوچھا ھے کیسے درد کو روپوش کر دیا

IN Khan's picture

پوچھا ھے کیسے درد کو روپوش کر دیا
کہہ دو کہ ھم نے غم کو فراموش کر دیا

پوچھا ھے نور شمع کی رفتار کیا ہوئی
کہہ دو کہ اس کو صبح نے خاموش کر دیا

پوچھا ھے لب ہلے ہیں صدا کے بغیر کیوں
کہہ دو کہ ھم نے سب کو گراں گوش کر دیا

پوچھا ھے اتنے زور سے کانوں پہ ہاتھ کیوں
کہہ دو کہ ھم نے دھر کو خاموش کر دیا

پوچھا ھے وہ جو ایک گنہگار حسن تھا
کہہ دو کہ اس کو واصل آغوش کر دیا

پوچھا ھے رات بات کوئی کیوں نہ ھو سکی
کہہ دو خمار قرب نے مدھوش کر دیا

پوچھا ھے میں کہاں، وہ اکیلا چلا گیا
کہہ دو کہ اس کو وصل میں روپوش کر دیا

پوچھا ھے کس طرح سے ھوئی اتنی پیش رفت
کہہ دو کہ شوق وصل نے پر جوش کر دیا

پوچھا ھے کیسے اتنی محبت امڈ پڑی
کہہ دو عدیم ھم نے کوئی دوش کر دیا

Your rating: None Average: 4.5 (4 votes)