کہاں پر ہیں مرے دیوار و در پانی نے سوچا/rafiq sandeelvi

noorulain's picture

کہاں پر ہیں مرے دیوار و در پانی نے سوچا
تھمے گا کن نشیبوں میں سفر پانی نے سوچا

کہاں تک ابر کے زنداں میں ٹھہریں گے مرے پاؤں
لپٹ کر آسماں سے رات بھر پانی نے سوچا

کبھی لہروں کو سوتا چھوڑ کر دریا سے نکلوں
قدم رکھوں کبھی صحراؤں پر پانی نے سوچا

ابھی کرنا ہے ماتم کشتیء غرقاب کا بھی
پٹخنا ہے ابھی ساحل پہ سر پانی نے سوچا

زمیں کے تین حصوں پر ہے میری حکمرانی
بنے گا خاکداں کب تک سپر پانی نے سوچا

کبھی یلغار کر دوں شب کے کالے بازؤوں پر
بجھا ڈالوں کبھی شمع ِ سحر پانی نے سوچا

رفیق سندیلوی