کہو تو کیسا نظارہٴ انتظار دیکھا

IN Khan's picture

کہو تو کیسا نظارہٴ انتظار دیکھا
کہا زمیں سے فلک تلک بیقرار دیکھا

کہو کہ اشکوں نے ضبط کا ہاتھ کیسے چھوڑا
کہا کہ مدت کے بعد اک غمگسار دیکھا

کہو کہ ساری صدائیں دے دی ہیں تم نے اس کو
کہا کہ اگلے جہان تک تو پکار دیکھا

کہو کہ پھولوں کی آرزو کس کے دل میں دیکھی
کہا کہ جس کے گلے میں کانٹوں کا ہار دیکھا

کہو جو لہروں میں گھر گیا تھا اس کا کیا بنا تھا
کہا اسی کو عدیم دریا کے پار دیکھا

No votes yet