یکایک ہیر کو غصہ چڑھا تھا/rafiq sandeelvi

noorulain's picture

یکایک ہیر کو غصہ چڑھا تھا
کوئی رنگلے پلنگ پر سو رہا تھا

جسے مارا تھا اس نے چھمکیوں سے
اسے بھینسوں کا کاماں رکھ لیا تھا

اسی کے واسطے کوٹی تھی چوری
اسی کی بانسری پر سر دھنا تھا

لڑی تھی کیدو سے اس کے لئے ہی
بہت ماں باپ سے جھگڑا کیا تھا

بڑے صدمے سہے تھے اس کی خاطر
مگر ڈولی کو کھیڑا لے گیا تھا

رفیق سندیلوی