Avval To Dil O Jaan Va Aakhir Jigar Gaya By Fassana

Guest Author's picture

اول تو دل و جان و آخر جگر گیا
وہ ایک شخص لے کے میرا سارا زر گیا
*
فردا کی بات ہو کہ کوئ دی کا حادثہ
دل میں ہمارے درد کا خنجر اتر گیا
*
آءے وہ بے نقاب گلستان میں جوںہی
پہولوں کا رنگ انکو دیکھ کر نکھر گیا
*
پھرتا تھا تیرے کوچے میں ہر روز جو ساءل
ظالم! وہ تیرے جلوے کی حسرت میں مر گیا
*
پھرتے ہو ٹک اداس فسانہ جی کیا ہوا؟
وہ شوخیاں وہ جوشِ جوانی کدھر گیا؟

Naveed Ahmed Fassana

No votes yet