Ghazal

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
noorulain's picture

وہ روزِ حشر تھا یا خواب سا تھا/rafiq sandeelvi

وہ روزِ حشر تھا یا خواب سا تھا
فرشتہ گرز تھامے چل رہا تھا

ترے بھی گرد تھی نارِ جہنم
مرے بھی چاروں جانب ہاویہ تھا

زباں میں کیل ٹھونکے جا رہے تھے
شکم آری سے کاٹا جا رہا تھا

مری بھی کھال کھینچی جا رہی تھی
ترا بھی جسم داغا جا رہا تھا

تجھے بھی کوئی ناگن ڈس رہی تھی
مجھے بھی کوئی بچھو کاٹتا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (7 votes)
noorulain's picture

شکاری کا لقب اُس کو ملا تھا/rafiq sandeelvi

شکاری کا لقب اُس کو ملا تھا
جو چڑیوں پر نشانے باندھتا تھا

کٹورے دودھ کے بانٹے گئے تھے
زمینداروں کے گھر بیٹا ہوا تھا

لہو میں گدھ کی خصلت آگئی تھی
میں اپنے جسم کو خود نوچتا تھا

کچھ ایسا رعب تھا اُس بادشہ کا
زمیں کا پتا پتا کانپتا تھا

یتیمی شہر پر چھائی ہوئی تھی
سبھی کا باپ جیسے مر گیا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (4 votes)
noorulain's picture

بدن سے جو اچانک چھو گیا تھا/rafiq sandeelvi

بدن سے جو اچانک چھو گیا تھا
وہ کوئی ہاتھ عزرائیل کا تھا

چراگاہوں میں بھیڑیں چر رہی تھیں
افق کے پار سورج ڈوبتا تھا

مرے ماں باپ نے میرے جنم پر
سنہری اونٹ کا صدقہ دیا تھا

صلیبوں سے مجھے وحشت ہوئی تھی
میں طبعی موت مرنا چاہتا تھا

ادھر ڈائن چھری چلکا رہی تھی
اُدھر کوٹھے پہ آدھڑ جاگتا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (7 votes)
noorulain's picture

اندھیرا جیسے جیسے پھیلتا تھا/rafiq sandeelvi

اندھیرا جیسے جیسے پھیلتا تھا
وہ پُراسرار ہوتا جا رہا تھا

معموں کی طرح تھے جسم اپنے
اُسے میں وہ مجھے حل کر رہا تھا

بہت گنجل تھا اس کا آئینہ بھی
مرا بھی عکس پیچیدہ ہوا تھا

پڑے تھے جھول اُس کے پانیوں میں
سقم میری بھی مٹی میں پڑا تھا

مجھے سمجھانے میں صدیاں لگی تھیں
سمجھنے میں اُسے عرصہ لگا تھا
رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (6 votes)
noorulain's picture

جواں ملکہ نے جب بیٹا جنا تھا/rafiq sandeelvi

جواں ملکہ نے جب بیٹا جنا تھا
اُسی دن بادشہ اندھا ہوا تھا

محلوں میں ضیافت اڑ رہی تھی
بھکاری شہر میں بھوکا رہا تھا

نہیں تھا اُس طرف تیراک کوئی
جدھر سیلاب کا پانی بڑھا تھا

تری بیماری کے خط مل رہے تھے
میں کالج کے جھمیلوں میں پڑا تھا

میں دادا جان کی ٹوٹی لحد کو
اٹھارہ سال سے بھولا ہوا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (6 votes)
noorulain's picture

مری تحریک سے پیدا ہوا تھا/rafiq sandeelvi

مری تحریک سے پیدا ہوا تھا
کہ میں پُرکار تھا وہ دائرہ تھا

ہماری گائیاں ڈکرا رہی تھیں
تھنوں میں دودھ جامد ہو گیا تھا

کسی نے بت کے ٹکڑے کر دیے تھے
عبادت گاہ میں اک شور سا تھا

مری ماں مجھکو باہر ڈھونڈتی تھی
میں اپنے گھر کے ملبے میں دبا تھا

مجھے دو نیلی آنکھیں روکتی تھیں
مگر میں کالے پانی جا رہا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (5 votes)
noorulain's picture

چٹانوں سے سمندر پوچھتا تھا/rafiq sandeelvi

چٹانوں سے سمندر پوچھتا تھا
یہ شب کو کس کا بجرا ڈوبتا تھا

یہ کیا آواز تھی لہروں کے اندر
یہ کیسا شور موجوں میں بپا تھا

یہ کیسا ڈر لگا تھا پانیوں کو
کنارا کس لئے سہما ہوا تھا

کھلے تھے چاندنی کے بال کیونکر
ستارہ کیوں گریباں پھاڑتا تھا

یہ کیسی سسکیاں تھیں بادلوں میں
خلا میں کون دھاڑیں مارتا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (4 votes)
noorulain's picture

حجاب اُس روز سارا اٹھ گیا تھا/rafiq sandeelvi

حجاب اُس روز سارا اٹھ گیا تھا
تجھے بانہوں میں مَیں نے بھر لیا تھا

فشارِ لمس میں اُلجھی تھیں روحیں
شجر سے اژدہا لپٹا ہوا تھا

تِری شریانیں بھی جلنے لگی تھیں
مرا خوں بھی رگوں میں کھولتا تھا

بہشتی پھل دھرے تھے طشری میں
کوئی بابِ تلذذ کھل گیا تھا

تھپکتا تھا ہماری پُشت بادل
ستارہ پنڈلیاں سہلا رہا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (4 votes)
Syndicate content