Ghazal

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
noorulain's picture

فضا خاموش تھی وقت ِ دعا تھا/rafiq sandeelvi

فضا خاموش تھی وقت ِ دعا تھا
میں قرآں کی تلاوت کر رہا تھا

لبوں پر سورہء یاسین تھی اور
مرا سینہ گرجنے لگ گیا تھا

کئی دن سے نہیں برسی تھیں آنکھیں
کہیں اندر ہی آنسو رُک گیا تھا

اُسی جانب ہی سچے راستے تھے
جدھر رُخ اونٹنی نے کر لیا تھا

قریب المرگ تھا تو اُس نے مجھکو
شفا دی تھی سکون ِ دل دیا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 4.8 (8 votes)
noorulain's picture

بدن کو لا کیا تھا فرض میں نے/rafiq sandeelvi

بدن کو لا کیا تھا فرض میں نے
جنوں میں کیا کیا تھا فرض میں نے

کف ِ خاکی پہ رکھ کر ایک قطرہ
اُسے دریا کیا تھا فرض میں نے

اُچھالی تھی خلا میں ایک مشعل
اور اک تارا کیا تھا فرض میں نے

شب ِ نا گفت میں ہر ایک شے کو
کوئی قصہ کیا تھا فرض میں نے

جو میرے اور افق کے درمیاں تھا
اسے پردہ کیا تھا فرض میں نے
رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
noorulain's picture

فسون ِ خواب نے آنکھوں کو پتھر کر دیا تھا/rafiq sandeelvi

فسون ِ خواب نے آنکھوں کو پتھر کر دیا تھا
اور اک تازہ حفاظت پر مقرر کر دیا تھا

مجھے سیرابی ء لب ناموافق پڑ گئی تھی
کسی پانی نے میرا جسم بنجر کر دیا تھا

طلسمی دھوپ نے اک مرکز ِ عصر ِرواں میں
مرے قد اور سائے کو برابر کر دیا تھا

زمیں بے شکل تھی لیکن اُسے ہموار کر کے
مرے پاؤں کی گردش نے مدور کر دیا تھا

پڑا تھا میں زمیں پر خاک کے لوندے کی صورت
اڑا کر آندھیوں نے مجھ کو بے گھر کر دیا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (4 votes)
noorulain's picture

بھیانک رات تھی، منحوس سپنے آرہے تھے/rafiq sandeelvi

بھیانک رات تھی، منحوس سپنے آرہے تھے
فضا میں اُلوؤں کے غول آڑتے آرہے تھے

جلوس ِ ابر ماتم کر رہا تھا اور سر پہ
ستارے تعزیہ شب کا اٹھائے آرہے تھے

کبھی ٹکتی نہیں تھیں ایک پل مشعل پہ آنکھیں
کبھی پلکوں پہ مہر ِ گرم رکھے آرہے تھے

میں ہفت افلاک کی ڈھلواں چھتوں پر اُڑ رہا تھا
مرے رستے میں بادل اور تارے آرہے تھے

کسی دست ِ طلسمی نے مری کشتی الٹ دی
بدن مغلوب تھا،پانی میں غوطے آرہے تھے

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (4 votes)
noorulain's picture

نہیں ،اس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں تھی/rafiq sandeelvi

نہیں ،اس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں تھی
فقط اک خواب تھا اور ایک صبح ِ نیلمیں تھی

ستارے بجھ رہے تھے جا نماز ِ جسم و جاں پر
مگر اک کشف کی مشعل نَفَس میں جاگزیں تھی

کسی کو علم ہی کیا تھا،مری شمع ِ مسافت
زمیں جس منطقے پر ختم ہوتی تھی،وہیں تھی

بظاہر سب کے سوکھے جسم جل تھل ہو گئے تھے
مگر وہ اک فریب ِ آب تھا بارش نہیں تھی

مجھے بھی موت کا یہ تجربہ کرنا تھا اک دن
خوشی سے جان دے دی تھی کہ جان ِ اولیں تھی

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (3 votes)
noorulain's picture

کسی کے لمس سے پہلے بدن غبار کیا/Rafiq sandeelvi

کسی کے لمس سے پہلے بدن غبار کیا
پھر اُس کے بعد جنوں کی ندی کو پار کیا

انہیں بگاڑ دیا جو صفوں کے ربط میں تھیں
جو چیزیں بکھری ہوئی تھیں انہیں قطار کیا

بنی تھین پردہ ء جا ں پر ہزار ہا شکلیں
خبر نہیں کسے چھوڑا کسے شمار کیا

اندھیری شب میں تغیر پذیر تھی ہر شے
بس ایک جسم ہی تھا جس پہ انحصار کیا

مرے مکان ِ جسد پہ مری حکومت تھی
کہ خود ہی غلبہ کیا خود ہی واگذار کیا

وجود ِ خاک تھا ،دریا سے جنگ کی میں نے
کہ سطح ِ آب کو میدان ِ کار زار کیا

کشش نے کھینچ لیا تھا زمین پر مجھکو
سو گرتے گرتے بھی میں نے خلا شکار کیا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (5 votes)
noorulain's picture

بارش کی دیوار کے پیچھے پھرتا تھا/rafiq sandeelvi

بارش کی دیوار کے پیچھے پھرتا تھا
سورج سر پہ ایندھن لادے پھرتا تھا

سبز حرارت دوڑ رہی تھی پانی میں
موسم برف کے کپڑے پہنے پھرتا تھا

بیٹھ گیا تھا چاند زمیں کے پاؤں میں
اوج ِ خلا سے ناطہ توڑے پھرتا تھا

دور، کُرے پر شور مچا تھا آندھی کا
بادل کان میں انگلی ڈالے پھرتا تھا

قوس ِ قزح کا آبی خطہ آنکھوں میں
رنگوں کا دوشالہ اوڑھے پھرتا تھا

جاگ رہا تھا سایہ دھوپ کی مٹھی میں
برف کا تودہ آنکھیں موندے پھرتا تھا

سرخ بگولے پیچھے پیچھے پھرتے تھے
قطبی تارا آگے آگے پھرتا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (2 votes)
noorulain's picture

جنوں کی آخری حد کیا ہے مجھکو کیا معلوم/rafiq sandeelvi

جنوں کی آخری حد کیا ہے مجھکو کیا معلوم
میں آشنائے بدن اور دست و پا معلوم

بھڑک رہی ہے مرے گرد اک طلسمی لَو
رکھا ہُوا ہے سرہانے چراغ ِ نا معلوم

فشار ِ خاک میں ہوں اور ارتکاز ِ آب
کہاں کہاں مجھے لے جائے گا خدا معلوم

میں روک دوں گا کسی روز دھڑکنیں دل کی
کروں گا مر کے کبھی راز موت کا معلوم

اندھیری رات نے پوچھا مرے بدن کا پتہ
نہیں تھا علِم مجھے ، پھر بھی کہ دیا معلوم
رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
Syndicate content