Nazam

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
noorulain's picture

سواری اُونٹ کی ہے/rafiq sandeelvi

rafiq sandeelvi /سواری اُونٹ کی ہے

سواری اُونٹ کی ہے

اَور مَیں شہر شکستہ کی
کسی سنساں گلی میںَ سرجھکائے
ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہاریں تھام کر
اُس گھر کی جانب جا رہا ہوں
جس کی چوکھٹ پر
ہزاروں سال سے
اِک غم زَدہ عورت
مرے وعدے کی رسّی
ریشۂدل سے بنی
مضبوط رسّی سے بندھی ہے
آنسوؤں سے تر نگاہوں میں
کسی کہنہ ستارے کی چمک لے کر
مرے خاکستری ملبوس کی
مخصوص خوشبو سونگھنے کو
اَوربھورے اُو نٹ کی
دُکھ سے لبالب بَلبلاہَٹ
سننے کو تیار بیٹھی ہے

وُ ہی سیلن زدہ اُوطاق کا گوشہ
جہاں مَیں ایک شب اُس کو
لرَزتے‘سَنسناتے‘زہر والے
چوبی تیروں کی گھنی بارش میں
بے بس اور اکیلا چھوڑ آیا تھا
مجھے سب یاد ہے قصّہ
برس کراَبر بالکل تھم چکا تھا
اوِر خلا میں چاند
یوں لگتا تھا جیسے
تخت پر نو عمر شہزادہ ہو کوئی
یوں ہَوا چہرے کو مَس کر کے گزرتی تھی
کہ جیسے ریشمیں کپڑاہو کوئی
اپنے ٹھندے اورگیلے خول کے اَندر
گلی سوئی ہوئی تھی
دَم بہ خوُ د سارے مکاں
ایسے نظر آتے تھے
جیسے نرم اور باریک کاغذ کے بنے ہوں
موم کے تَرشے ہوئے ہوں
اِک بڑی تصویر میں
جیسے اَزل سے ایستادہ ہوں
وُ ہی سیلن زدہ اُوطاق کا گوشہ
جہاں مہتاب کی بُرّاق کرنیں
اُس کے لانبے اورکھلے بالوں میں اُڑسے
تازہ تر انجیر کے پتے روشن کر رہی تھیں
اُس کی گہری گندمِیں کُہنی کا بوسہ یاد ہے مجھ کو
نہیں بھولا ابھی تک
سارا قصّہ یاد ہے مجھ کو
اُسی شب
مَیں نے جب اِک لمحۂ پُرسوز میں
تلوار‘ اُس کے پاؤں میں رکھ دی تھی
اور پھریہ کہا تھا:
’’میرا وعدہ ہے
یہ میرا جسم اوراِس جسم کی حاکم
یہ میری باطنی طاقت
قیامت اوِر
قیامت سے بھی آگے
سرحدِامکاں سے لا امکاں تلک
تیری وفا کا ساتھ دے گی
وقت سُنتا ہے
گواہی کے لئے
آکاش پر یہ چاند
قدموں میں پڑی یہ تیغ
اوِر بالوں میں یہ اِنجیر کا پتّا ہی کافی ہے

خداوندا‘وہ کیسا مرحلہ تھا
اَب یہ کیسا مرحلہ ہے!
ایک سُنسانی کا عالم ہے
گلی چپ ہے
کسی ذی روح کی آہٹ نہیں آتی
یہ کیسی ساعتِ منحوس ہے
جس میں ابھی تک
کوئی ننھاسا پرندہ یا پتنگا
یا کوئی موہوم چیونٹی ہی نہیں گزری
کسی بھی مردوزَن کی
مَیں نے صورت ہی نہیں دیکھی
سواری اُونٹ کی ہے
اَور مَیں شہرشکستہ کی
کسی سنساں گلی میں سَرجھکائے
ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہاریں تھام کر
اُس گھر کی جانب جا رہا ہوں
یا کسی محشر
خموشی کے کسی محشر کی جانب جا رہا ہوں
ہچکیوں اوِر سسکیوں کے بعد کا محشر
کوئی منظر
کوئی منظرکہ جس میں اِک گلی ہے
ایک بھورا اُونٹ ہے
اوِر ایک بُزدِل شخص کی ڈِھیلی رفاقت ہے
سفر نا مختتم
جیسے اَبد تک کی کوئی لمبی مسافت ہے!

سواری اُونٹ کی
یا کاٹھ کے اَعصاب کی ہے
آزمائش اِک انوکھے خواب کی ہے
پتلیاں ساکت ہیں
سایہ اُونٹ کا ہلتا نہیں
آئینۂ آثار میں
ساری شبیہیں گم ہوئی ہیں
اُس کے ہونے کا نشاں ملتا نہیں
کب سے گلی میں ہوں
کہاں ہے وُ ہ مری پیاری
مری سیلن زدہ اُوطاق والی
وُ ہ سُریلی گھنٹیوں والی
زمینوں ‘پانیوں اور اَنفَس وآفاق والی
کس قدر آنکھوں نے کوشش کی
مگر رونا نہیںآتا
سبب کیا ہے
گلی کا آخری کونا نہیں آتا
گلی کو حکم ہو‘ اَب ختم ہو جائے
مَیں بھُورے اور بو ڑھے اُو نٹ پر بیٹھے ہوئے
پیری کے دِن گنتا ہوں
شاید اِس گلی میں رہنے والا
کوئی اُس کے عہد کا زَنبوُ ر ہی گزرے
مَیں اُس کی بارگہ میں
دست بستہ‘ معذرت کی بھیک مانگوں
سَر ندامت سے جھکاؤں
اَوراُس زَنبوُ ر کے صدقے
کسی دِن اَپنے بوڑھے جسم کو
اوِر اُونٹ کو لے کر
گلی کی آخری حد پار کر جاؤں
رفیق سندیلوی

Raja Ishaq's picture

یہ عجیب شہر ِنگار ہے

کوئی ساز ہے نہ صدا کوئی
کوئی نازنیں نہ ادا کوئی
کہیں دھوپ ہے نہ گھٹا کوئی
کوئی ہمسفر نہ جدا کوئی
کوئی ہجر ہے نہ جفا کوئی
یہ عجیب شہر ِنگار ہے

نہ وہ داغِ دل نہ وہ گھاؤہے
نہ سنگھار ہے نہ بناؤہے
شبِ وصل ہے نہ الاؤ ہے
کہیں بحر ہے نہ بہاؤ ہے
نہ عدو کوئی نہ لگاؤ ہے
نہ وہ لشکروں کا پڑاؤ ہے
یہ عجیب شہر ِنگار ہے

کہیں شاخ ہے تو ثمر نہیں
کہیں آنکھ ہے تو نظر نہیں
کہیں ہاتھ ہے تو ہُنر نہیں
کہیں بات ہے تو اثر نہیں
کہیں راستے میں شجر نہیں
کسی چارہ گر کو خبر نہیں
یہ عجیب شہر ِنگار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ اسحٰق

Raja Ishaq's picture

بچھڑنا یہ نہیں ہوتا

بچھڑنا یہ نہیں ہوتا
کہ کوئی شخص ہم سے دور ہوجائے
دیا بے نور ہو جائے
محبت دوریوںکی کیفیت میں بھی محبت ہے
ارادے ہار جانے سے
سمندر پار جانے سے
تعلق ٹوٹتے کب ہیں
تعلق ٹوٹنا ہو تو
کسی نے روٹھنا ہو تو
ذرا سی دیر لگتی ہے
شجر کوئی
زمیں میں جڑ پکڑنے سے بہت پہلے ہی مر جائے
کدورت دل میں بھر جائے
کوئی حد سے گزر جائے
تو پھر ہونے نہ ہونے سے
کسے کیا فرق پڑتا ہے
محبت کرنے والوں کو جدائی کا کبھی صدمہ نہیںملتا
سو اب یہ طَے ہوا
دراصل
لا حاصل تعلق ہی جدائی ہے
یہی سچ ہے
ارادے ہار جانے سے
سمندر پار جانے سے
تعلق ٹوٹتے کب ہیں
___________
راجہ اسحٰق

Raja Ishaq's picture

دلِ من ٹھہر

دلِ من ٹھہر،ابھی دور ہیں
سبھی منزلیں،سبھی راستے
ابھی نا تمام ہیں مرحلے
کوئی ہم رکاب ہُوا نہیں
ابھی خواب، خواب ہوا نہیں
ہوئے لفظ میرے رقم کہاں
کہ ہنر کتاب ہُوا نہیں
کوئی ہم نفس،کوئی خوبرو
مری چشمِ تر میں اُتر تو لے
کوئی نقش دل پہ اُبھر تو لے
کوئی رنگ شامِ وصال کا
کوئی نور صبحِ جمال کا
رہِ زندگی سے گزر تو لے
ابھی فتنہ گر ہیں ، شکستہ رُو
وہ مسافتیں جو نہ طے ہوئیں
دلِ من ٹھہر کہ ہوا چلے
تو زمیں کا رزق بحال ہو
کوئی رنج ہو نہ ملال ہو
وہاں بادشاہوں کا سر جھکے
جہاں کوئی دستِ سوال ہو
______________
راجہ اسحٰق Raja Ishaq

noorulain's picture

کہیں تم ابد تو نہیں ہو/rafiq sandeelvi

کہیں تم ابد تو نہیں ہو

کہو کون ہو تم
ازل سے کھڑے ہو
نگاہوں میں حیرت کے خیمے لگائے
افق کے گھنے پانیوں کی طرف
اپنا چہرہ اُٹھائے
کہو کون ہو تم بتاؤ بتاؤ
کہیں تم طلسم ِ سماعت سے نا آشنا تو نہیں ہو
کہیں تم وہ دَر تو نہیں ہو
جو صدیوں کی دستک سے کُھلتا نہیں
یا قدیمی شکستہ سی محراب ہو
جس میں کوئی چراغ ِ رفاقت بھی جلتا نہیں
دھند آلود،کہنہ پہاڑوں میں
اندر ہی اندر کو جاتا ہوا راستہ تو نہیں ہو
وہی رنگ ہو
جس سے رنگ اور آمیزہ ہوتا نہیں
بے نمو جھیل جس میں پرندہ کوئی
اپنے پر تک بھگوتا نہیں
کون ہو تم بتاؤ بتاؤ
کہیں ملبہء وقت پر
نیستی کے اندھیرے میں بیٹھے ہوئے
روزِ ِ اول سے اُجڑے ہویے
بے سہارا مکیں تو نہیں ہو
کہیں تم فلک سے پرے
یا وَرائے زمیں تو نہیں ہو
کہو کون ہو تم بتاؤ بتاؤ
کہیں تم تکلم کے اسرار سے
لفظ کے بھد سے نا بلد تو نہیں ہو
کہیں تم ابد تو نہیں ہو

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

تندور والا/rafiq sandeelvi

تندور والا

سنو یہ جہنم نہیں ہے
دہکتے ہوئے سرخ شعلوں کی لَو
تیز گہری حرارت
تپش آگ کی
ان مدور کناروں سے
اُٹھتی ہوئی بھاپ میں زندگی ہے
سنو میں نے خود ہی اِسے
اَپنے ایندھن سے روشن کیا ہے
صبح سے شام تک
میں نے آٹے کو گوندھا
خمیرہ کیا
گول پیڑے بنائے
رفیدے سے روٹی لگائی
پکی جب اُس پہ پھول آئے
تو میں نے پرو کے
سیہ سیخ کی نوک سے
اُس سے باہر نکالا
میں روٹی کے پُھولوں کا عاشِق
سدا کا میں اِک نان بائی
ہمیشہ سے میں ایک تندور والا

زمانے،
ترے ساتھ میں پھول چُننے چلوں گا
ابھی میرا تندور نیچے سے اُوپر تلک تَپ رہا ہے
طباقوں میں دو بوری گوندھا ہوا
نرم آٹا پڑا ہے
جسے روٹیوں میں مجھے ڈھالنا ہے
اَزل سے مجھے اس جہنم سے روٹی مِلی ہے
مدور کناروں سے
اُٹھتی ہوئی بھاپ میں زندگی ہے
سُنو،یہ جہنم نہیں ہے
رفیق سندیلوی

noorulain's picture

یہ ماتم کی شبِ سوئم/rafiq sandeelvi

یہ ماتم کی شبِ سوئم:رفیق سندیلوی

یہ ماتم کی شبِ سوئم
تھکا ماندا‘جنازہ گاہ سے لوٹا ہوا چہرہ
لہو‘جیسے کسی کائی زدہ تالاب کو
جاتا ہُوا زینہ
فسردہ نیم روشن صحن میں
روتی ہوئی مدقوق آنکھیں
دُھول سے لتھڑی ہوئی سانسیں
بَرہنہ پاؤں کے تلوے میں چبھتا
درد پہنچاتا
کوئی خار ِ حزیں پیہم
یہ ماتم کی شبِ سوئم

شبِ سوئم
یہ کیا کھانے سجا کر لائے ہو تم طَشتری میں
سوگ میں کھایا نہیں جاتا
غذا توہین ہے غم کی
قسم لے لو جو میں نے تین دِن سے
گھونٹ بھر پانی پیا ہو
اک نوالہ حلق سے نیچے نہیں اُترا
مجھ ایسے سوگ واروں سے تمہیں ملنا نہیں آیا
اُٹھا لو یہ مُزین طشتری
مشروب کا کوزہ ہٹا لو میرے آگے سے
ابھی کچھ تھوڑا سا گیہوں مرے گھر میں پڑا ہے
اور چوکی پر رکھی کچی صراحی میں
ابھی سوکھا نہیں
چشمے کا نتھرا شہد سا پانی
ابھی محرابِ دل کے بیچ
روشن ہے چراغ ِ زندگانی

noorulain's picture

مراتبِ وجود بھی عجیب ہیں/rafiq sandeelvi

مراتبِ وجود بھی عجیب ہیں

اچانک اِک شبیہ
بے صدا سی جَست بھر کے
آئنے کے پاس سے گزر گئی
سیاہ زرد دھاریاں
کھ جیسے لہر ایک لہر سے جڑی ہوئی
سنگار میز ایک دم لرز اُٹھی
کلاک کا طلائی عکس بھی دہل گیا
بدن جو تھا بخار کے حصار میں پگھل گیا

مراتبِ وجود بھی عجیب ہیں
لہو کی کونیات میں
صفات اور ذات میں
عجب طرح کے بھید ہیں
یقین و ظن کی چھلنیوں میں
سو طرح کے چھید ہیں
ابھی تو جاگتا تھا میں
عمیق درد میں کراہتا تھا مَیں
پھر آنکھ کیسے لگ گئی
ابھی تہ سو رہا تھا مَیں
پھر آنکھ کیسے کُھل گئی
بدن سے یہ لحاف کا پہاڑ کیسے ہَٹ گیا
خبر نہیں کہ ہڈیوں کے جوڑ کس طرح کھلے
دَہن فراخ ہو کے‘ پیچھے کیسے کھنچ گیا
نکیلےدانت کس طرح نکل پڑے
نگاہیں کیسے شعلہ رُو ہوئیں
نہ جانے کیسے دَست و پا کی انگلیاں مُڑیں
کمر‘لچک سی کھا کے کیسے پھیلتی گئی
یہ جلد کیسے سخت کھال میں ڈھلی
یہ گھُپے دار دُم کہاں سے آ گئی

وجود کے کچھار میں
دہاڑتا ہوا
زقند بھر کے میں کہاں چلا گیا
مجھے تو کچھ پتا نہیں
مراتِب ِوجود بھی عجیب ہیں
رفیق سندیلوی

Syndicate content