Nazam

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
noorulain's picture

عجب پانی ہے/rafiq sandeelvi

عجب پانی ہے

عجب ملاح ہے
سوراخ سے بے فکر
آسن مار کے
کشتی کے اِک کونے میں بیٹھا ہے
عجب پانی ہے
جو سوراخ سے داخِل نہیں ہوتا
کوئی موجِ نہفتہ ہے
جو پیندے سے
کسی لکڑی کے تختے کی طرح چِپکی ہے
کشتی چل رہی ہے
سر پھری لہروں کے جھولے میں
ابھی اوجھل ہے
جیسے ڈوبتی ،اب ڈوبتی ہے
اب نظر کے سامنے ہے
جیسے بطنِ آب سے
جیسے تلاطم کی سیاہی سے
ابھی نکلی ہے
جیسے رات دن
بس ایک ہی عا لَم میں
کشتی چل رہی ہے

کیا عجب کشتی ہے
جس کے دم سے یہ پانی رواں ہے
اور اس ملاح کا دل نغمہ خواں ہے
کتنے ٹاپوُ راہ میں آئے
مگر ملاح
خشکی کی طرف کھنچتا نہیں
نظارہء رقصندگی ِ خواب میں
شامل نہیں ہوتا
عجب پانی ہے
جو سوراخ سے داخل نہیں ہوتا
رفیق سندیلوی

Guest Author's picture

یادوں کے بھنور میں ہم کچھ ایسے مدہوش ہوئے

رات کے درمیانی حصے میں لکھی گئی ایک نثری نظم از شکیل اے چوھان:

یادوں کے بھنور میں ہم کچھ ایسے مدہوش ہوئے
کہ
رات کا ایک پہر گزر گیا
اور ابھی کیا خبر تھی
کہ
رات کا پچھلا پہر ابھی باقی ہے
جس
میں اکثر یادیں کالی ناگن کی طرح میری مشرقی کھڑکی سے داخل ہوتی ہیں
اور
سحر ہونے تک یہ سلسلہ تمام نہیں ہوتا
اور
میں ایک ستم ظریف انسان کی طرح
یہ تمام کرب سہتا رہتا ہوں
کہ
آنے والی روشن صبح ایک مثالی دن کی طرح میرے آنگن میں
جلوہ گر ہوگی
اور
میں یادوں کے ان تمام بھنوروں سے آزاد ہو جاوں گا
لیکن
ابھی تو پچھلے پہر کا زمانہ شروع ہوا ہے
اور مجھے یادوں کے ان تمام بھنوروں سے نکلنے کے لئیے
سحر ہونے سے پہلے
یہ
تمام کرب برداشت کرنے ہیں
اور
آنے والی روشن صبح کا انتظار کرنا ہے ــــــــــــــــــ

شکیل اے چوھان

Guest Author's picture

کبھی کبھی زندگی مجھ سے سوال کرتی ہے

کبھی کبھی زندگی مجھ سے یہ سوال کرتی ہے
کہ
تم نے عہد شباب کن تخیلات میں گزارا
تو
مجھ میں جواب دینے کی اب سکت نہیں
کہ
میں اس زندگی کو کچھ ناگفتہ بہ جواب دوں
لیکن
یہ ضرور ہوا کہ اس عمر رواں میں میرے ناپائیدار زہن میں
جتنے بھی ناہموار سلسلے تھے
وہ
سب کے سب اسی زندگی کے عطا کردہ تھے
اور
آج یہی زندگی
یہی عمر رواں
کسی بے وفا ستم گر کی طرح مجھ سے بار بار سوال کرتی ہے
لیکن
میں اتنا کم ظرف نہیں کہ اسی زندگی کو مولود الزام ٹھہراوں
کیونکہ
جس زندگی نےمجھے ظرف سے نوازا اسکی چند بے رحمیوں
کو
میں الزام ہر گز نہیں دے سکتا
کیونکہ سفر زندگانی گردش ایام میں بھی رکتا نہیں
بلکہ
ایک کارواں مسلسل کی طرح رواں دواں رہتا ہے

شکیل اے چوھان

Guest Author's picture

شب بھر جاگنا اور چاند کو تکنا

شب بھر جاگنا اور چاند کو تکنا
اکثر میرا مشغلہ رہا ہے
لیکن
آج نہ جانے کیا ہوا، میرا چاند کہاں کھو گیا
اور
اسی دیوانگی کے عالم میں
میں
کب سے نظریں ٹکائے بار بار آسمان کو دیکھ رہا ہوں
کہ
کب میرا چاند جلوہ گر ہو گا
اور
اسکی چاندنی میں
میں
کسی پاگل دیوانے کی طرح چند اشعار لکھوں گا
اور اشعار لکھتے لکھتے میں گہری نیند سو جاوں گا
لیکن
یہ چاند آج کیوں نظر نہیں آ رہا
یہ رات آج اتنی ڈراونی کیوں ہے؟؟
شاید کہ یہ برکھا کا موسم ہے
اور سرد ہواوں اور دھندلکے نے چاند کو گھیرے میں لے رکھا ہے
مجھے
اس کا احساس ہو رہا ہے
اور
اب جب کہ سحر کا زمانہ قریب کو ہے،
اور
میں بیچارہ تھکا ہارا چاند کا انتظار کرتے کرتے کسی مریض کے مصداق
اپنے بستر پہ جانے کی تیاری میں ہوں
اور
میری مشرقی کھڑکی جو کہ چاند کی طرح مجھے محبوب ہے کھلی ہوئی ہے
اور ہوائیں اسے بار بار پٹخ رہی ہیں،
میں
اس کھڑکی کو بند کرنے کے لئیے آگے بڑھتا ہوں
تو
بادلوں کی گرج چمک سے لرز سا جاتا ہوں
اور
باہر جھانک کر دیکھتا ہوں تو بہت تیز بارش ہو رہی ہے
اور
میں کھڑکی کو بند کر کے نیم دراز ہو جاتا ہوں
اور سوچتا ہوں کہ بارش کا زمانہ ہے
اور
میرا کمرہ بھی اس گرج چمک کی وجہ سے قبرستان بنا ہوا ہے
اور اس گرج چمک نے ہی آج مجھے محبوب سے دور رکھا
لیکن میں بھی اپنے چاند کا دیوانہ ہوں
اور
اس چاند کی دیوانگی میں
مجھے سحر ختم ہونے تک اس کا انتظار کرنا ہے

(شکیل اے چوھان)

Guest Author's picture

تجھے میںکیا لکھوں:

تجھے میں کیا لکھوں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تجھے میں کیا لکھوں ،تیرے نام میں کیا پیام لکھوں
مجھے
کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اے محبوب میں تجھے کیا لکھوں
کیونکہ
تو حسن پیکر ، پارسا سیرت و کردار ہے
تو
چلو
میں تمھیں زندگی کی کتاب لکھ دیتا ہوں
لیکن
تمھیں تو سب خبر ہے اے جان تمنا!
کہ
میری یہ کتاب کوئی اور نہیں پڑھے گا
جب
میری روح پرواز کر جائے گی
تو میرے تمام احباب
میری یہ تخلیق دیکھیں گے
اور
میری تمام تخلیقات میں صرف تمھارا ہی نام ہو گا
اور اس کتاب کو میں تمھارے نام منسوب کروں گا
تو وہ احباب جو عزیز جاں تھے
میری اس کتاب
میں کوئی دلچسپی نہیں لیں گے
کیونکہ
میری کسی تخلیق میں تمھارے سوا کسی کا نام نہیں ہو گا
اور شہرت کے دلدادہ میرے تمام احباب
اس کتاب کی ورق گردانی کرنے کے بعد
اس
کتاب کو الٹا کر کے رکھ دیں گے
لیکن
تمھارے لئیے یہ کتاب بہت معنی خیز رہے گی
اور تم اکثر خزاں رتوں میں اس کا مطالعہ کرتے رہو گے
اور ایک بے نام سے بندھن کی کیفیات کی طرح
کسی
عاشق خاص کی طرح مجھے یاد کرو گے
اور میری تمام تحریریں جو بہار اور خزاں رتوں میں
میں
نے تمھارے نام رقم کی تھیں
ان سے اپنے آپ کو بہلاو گئے
اور
میری روح کو قرار آ جائے گا ، میری تحریر تمھیں اپنے حصار میں رکھے گی
اور اس حصار میں تم حسن کردار سے
اپنے آنے والے کل کے لئیے سوچو گئے
تو میری کتاب کی تکمیل ہو گی۔

شکیل اے چوھان

Guest Author's picture

Khawab Dekhny Waly

Khawab Dekhny waly

Khawab Dekh baithy hain

Ab ....Aye mery YUSUF kuch

Imtehan......Tera Bhi?????

Guest Author's picture

خواب مزدور ہے /rafiq sandeelvi

خواب مزدور ہے
رات دن سر پہ بھاری تغًاری لئے
سانس کی
بانس کی
ہانپتی کانپتی سیڑھیوں پر
اُترتا ہے
چڑھتا ہے
رُوپوش ِمعمارکے حکم پر
ایک لا شکل نقشے پہ اُٹھتی ہوئی
اوپر اٹھتی ہوئی
گول دیوار کے
خِست در خِست چکر میں محصور ہے
خواب مزدور ہے

ایک مُشقت زدہ آدمی کی طرح
میں حقیقت میں یا خواب میں
روز معمول کے کام کرتا ہوں
کچھ دیر آرام کرتا ہوں
کانٹوں بھری کھاٹ میں
پیاس کے جام پیتا ہوں
اور سوزن ِ ہجر سے
اپنی ادھڑی ہوئی تن کی پوشاک سیتا ہوں
جیتا ہوں
کیسی انوکھی حقیقت ہے
کیسا عجب خواب ہے
ایک مشقت زدہ آدمی کی طرح
اپنے حصے کی بجری اٹھانے پہ مامور ہے
خواب مزدور ہے
رفیق سندیلوی

Guest Author's picture

اگر میں آگ ہوتا /rafiq sandeelvi

اگر میں آگ ہوتا

اگر میں آگ ہوتا
سرخ شعلوں کی لپک سے
جست بھرتا
نیل گوں ہالہ بنا کے
موج میں آ کے
تپش کی نرم انگلی لب پہ رکھتا
ایک انگارے کا بوسہ ثبت کرتا
دست ِحدًت سے ترا شانہ تھپکتا
گرم پوروں سی بنفشی لاٹ سے
زلفوں کو سہلاتا
تمازت کے دہکتے بازوؤں میں
تجھ کو بھر لیتا
شراروں کا تنفًس پھونکتا
لو کی ہتھیلی سے
ترے رخسار چھوتا،تھپتھپاتا
آگ کے سارے کرشمے آزماتا
راکھ کرتا
راکھ ہوتا
تیرے سینے سے لپٹ کر
فجر تک روتا
اگر میں آگ ہوتا
رفیق سندیلوی

Syndicate content