Nazam

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

ًًًًمیں نے دروازہ نہیں کھولا تھا/RAFIQ SANDEELVI

ًًًًمیں نے دروازہ نہیں کھولا تھا

میرے دروازے پہ سہ بار ہوئی تھی دستک
میں نے دروازہ نہیں کھولا تھا
ایک بھی لفظ نہیں بولا تھا
پہلی دستک میں
کوئی بھید نہیں تھا لیکن
دوسری مرتبہ دستک میں
چھپی تھی حیرت
تیسری بار کی دستک سے
عیاں ہوتا تھا
کوئی دہشت زدہ مفرور کھڑا ہو جیسے
اک جنازہ میری چوکھٹ پہ پڑا ہو جیسے
ایسے آواز میں تھیں
دردوالم کی لہریں
جس طرح کوئی پنہ گاہ کے بالکل نزدیک
زہر میں ڈوبے ہوئے تیر سے
چھلنی ہو کر
آخری سانس کو
سینے میں سنبھالے پھر بھی
جسم ،بے انت اندھیرے کے سمندر میں گِرے
اور اک بپھری ہوئی
موجِ کفِ مرگ کے ہمراہ بہے
جس طرح کوئی گِھرا ہوتا ہے
آگ کے دشتِ خطرناک میں
سر سے پا تک
میرے دروازے پہ سہ بار ہوئی تھی دستک
میں نے دروازہ نہیں کھولا تھا
ایک بھی لفظ نہیں بولا تھا
رفیق سندیلوی

Guest Author's picture

کہانی علامت بنے گی/RAFIQ SANDEELVI

کہانی علامت بنے گی

کہانی علامت بنے گی
کہ پچھلا زمانہ
ہماری جبینوں پہ
شکنوں کی صورت میں لکھا ہوا ہے
بہت ہی پرانی کسی داستاں میں
شجاعت کے قصے
بدوشِِ ہوا اک پری کا
منقش سبک نقرئی تخت پر
بیٹھ کر سیر کرنا
طلسمیں کنویں میں
اسیری کی راتیں
اناروں سے شوخ اور رنگین چڑیوں کا
اک ساتھ باہر نکلنا
گھنی آگ کے بیچ
فرشِ مدور پہ رقصِ شبانہ
وہ چوتھی جہت مشکی گھوڑا بھگانا
کہانی علامت بنے گی
کہ پچھلا زمانہ
مکانِ فسوں ارضِ حیرت سرا ہے
سوارِ جواں پر
کوئی کارِ رفتہ نہیں کھل رہا ہے
نہ سیمرغ کا رازِ خفتہ
نہ کوہِ ندا کا فسانہ
کہانی علمت بنے گی
کہ پچھلا زمانہ
کسی سنت سادھو کی
لمبی جٹاؤں میں الجھا ہوا ہے
رفیق سندیلوی

dabirahmedshaikh's picture

Dard ka darya

Dard ka darya
Dard ke bekaran sagar sey Sagar bkef
guzar kar
Hoon muntazil Kalim mullah ka
Apne asey ke moajese sey
Banadey rah guzar dard ke daeya main
Who daryae Neel tha
Yeh dard ka darya hain
Cargar na assa na jehede mosalsal
Phir bhi intenzar ka Himala leyen sene par
Asha ka diya jalaie hatili par baitha huin
Waqat ka saile rawan rukhta he nahi
Dard jka darya hastan hi nahi

Guest Author's picture

ruh ke anant sagar mey doobker

 ƒ¤ ’
                                                   Ž¢‰ œ¥   „ ’ Ž Ÿ¤¡ Œ¢‚ œŽ
                                                   „§ ¦ ¦Ž ¤¢ ¡ œ ’šŽ
                                                   Š¢ “‰ ž¤ ¢ œ ŸŽ  ¤ œ¤ ’¢ ™ „
                                                    Ÿ¢ ž Š  ¦ ‚  œŽ   ¢Ž  ¢Ž  ’Ž¢Ž ’Ž¢Ž
                                                   ˆ“Ÿ«ª Ÿ Ž¢ “   ‹žª Ÿ “‹¢‡¢‹ ’Ž
                                                  ž Ÿ‰‹¢‹ ƒ¤ˆ¤‹¦   › ‚žª š¦Ÿ
                                                  œ ¤  „ œ¤ ¢’˜„ Ÿ¤¡ Ÿ‰¢ª ƒŽ¢
                                                  – ¤Žª ¦  ¢ „Š¤­ž ƒž ƒž
                                                  ƒ¤ ’ ‚‡§„¤ ¦¤  ¦¤¡
                                                 Ž ‹“ „§Ÿ„¤ ¦¤  ¦¤¡
                                                 „§¤ ’ž‡§„¤ ¦¤  ¦¤¡
                                                   ƒ¤ ’  ¦Žƒž

Guest Author's picture

اسے پکارو

اسے پکارو

اسے پکاروجو نیند موسم میں سوئے چہرے جگا گیا تھا
وہ جس کی سانسیں طویل راتوں کی ہمسفر تھیں
اسے پکارو کہ پھر سے آنکھوں کو خواب سانپوں نے ڈس لیا ہے
بدن کے گنبد میں خواہشوں کا لہو کبوتر پھڑک رہا ہے
نگاہیں اپنے پھٹے دوپٹے کے زرد پلو میں زہر باندھے
رگوں میں کھوئے ہوئے مناظر کی جستجو میں بھٹک رہی ہیں
اسے پکارو جو ذات کشتی کا بادباں تھا
وجود ساحل پہ جس کے ہاتھوں کی خوشبوئیں تھیں
اسے پکارو کہ کشتِ جاں پہ عذاب بادل برس رہا ہے
زبان تختی پہ ذائقوں کے قلم نے پھر سے
کسیلی کڑوی رتوں کا قانون لکھ دیا ہے
سماعتوں میں حروف جنگل جھلس رہا ہے
اداس جذبوں کی کوٹھڑی میں اندھیرا بڑھتا ہی جا رہا ہے
اسے پکارو کہ سانس خیمہ اکھڑ رہا ہے
بدن حرم سے ستون چہرہ بچھڑ رہا ہے
اسے پکارو جو نیند موسم میں سوئے چہرے جگا گیا تھا
RAFIQ SANDEELVI

Guest Author's picture

نیند کی جانب قدم

نیند کی جانب قدم

گنگ سانسیں
پتھروں کا ایک ڈھیر
بیلچے ہاتھوں میں تھامے بانجھ موسم کی پکار
روشنی دیوار کے اندر گئی
واپس ہوئی
ہم نشینی،رات کا پچھلا پہر
نیند کی جانب قدم
میں سمندر اوڑھ کر ساحل پہ ہوں
آنکھ کو دیمک لگی
بانس کے ویران جھنڈ
گیدڑوں کی ہاؤ ہو
بکریوں کے پیٹ سے
میمنے پیدا ہوئے اور مر گئے
بارش شب سے کلس نہلا گیا
کہکشاں رونے لگی
بد دعائیں منتقل ہونے کی گھنٹی بج گئی
سر خمیدہ شہر سیدھا ہو گیا
شاہ رگ سے دھڑکنیں رسنے لگیں
میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا
اور سمندر اوڑھ کر پھر سو گیا
RAFIQ SANDEELVI

Guest Author's picture

ہونے کا خدشہ

ہونے کا خدشہ

ڈرو کہ سب خاکروب ہاتھوں میں گرد لے کر
گلاب ہاتھوں،بہار چہروں کو ڈھونڈتے ہیں
ڈرو کہ مکتب کے راستے پر
جلوس ناخواندگاں کتابوں کو برچھیوں میں پرو رہا ہے
تمام بچوں کو خندقوں میں چھپا کے مکتب کے سب معلم
نئی کتابوں میں اقتباس محافظت کو تلاش کرنے میں منہمک ہیں
ڈرو کہ پکی حویلیوں کو اکھاڑ دینے کا عزم لے کر
ہزاروں خانہ بدوش تیشوں سے چوکھٹوں پر توانا ضربیں لگا رہے ہیں
ڈرو کہ اب اونٹ اپنی کروٹ بدل رہا ہے
RAFIQ SANDEELVI

Guest Author's picture

ماتھوں پہ سینگ

ماتھوں پہ سینگ

وہ طلسم تھا جو تمام بستی پہ قہر تھا
کوئی زہر تھا جو رگوں میں سب کی اتر گیا
تو بکھر گیا وہ جو بوریوں میں اناج تھا
کوئی ڈاکو لوٹ کے لے گیا جو دلہن کا قیمتی داج تھا
وہ سماج تھا کہ سبھی کے دل میں یتیم ہونے کا خوف تھا
کوئی ضعف تھا کہ جو آنگنوں میں مقیم تھا
وہ رجیم تھاکہ تمام بستی پہ آگ تھا
کوئی راگ تھا جو سماعتوں پہ عذاب تھا
وہ عتاب تھا کہ سبھی کے ماتھوں پہ سینگ تھے
RAFIQ SANDEELVI

Syndicate content