Nazam

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

انتباہ

انتباہ

میں اپنے وطن سے بغاوت کروں تو
مجھے قتل کرنا
اگر اپنے بھائی کے ورثے کو لوٹوں
تو تم میری آنکھوں میں کانٹے چبھونا
خمیدہ کمر بوڑھے ماں باپ کو میں سہارا نہ دوں تو
مجھے قید کرنا، زدوکوب کرنا
اگر میرا ہمسایہ بھوکا رہے تو
.مجھے فاقہ زدگی سے دوچار کرنا
اگر میرے بیٹے کو میری وجہ سے برائی لگے تو
سلاخوں کے پیچھے مجھے بیڑیوں میں جکڑ کر مشقت کرانا
میں سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی
اگر اپنی بیٹی کی خوشیوں کا قاتل بنوں تو
مجھے بد دعاؤں سے محصور کرنا
مجھے ٹکٹکی پر چڑھانا
میں چوری کروں تو
میرے ہاتھ تلوار سے کاٹ دینا
میں عورت کی عصمت دریدہ کروں تو
زمیں میں مجھے گاڑ دینا
مجھے سنگساری سے معتوب کرنا
اگر جرم ہو جائیں ثابت تو مجھ پر
بھیانک سزاؤں کا اطلاق کرنا
مگر یاد رکھنا
مری بے گناہی کی تصدیق کر کے
اگر تم نے مجھ کو صلیبوں پہ کھینچا
تو میں آخری سانس تک تم سے لڑتا رہوں گا

RAFIQ SANDEELVI

Guest Author's picture

تم بھی جاناں کیسے ہو

تم بھی جاناں کیسے ہو

تم بھی جاناں کیسے ہو
پل پل ڈرتے رہتے ہو
پردہ دار بدن کے اندر
آگے پیچھے سوچ سمندر
ریت کنارے بیٹھے ہو
تم بھی جاناں کیسے ہو
چادر ڈال کے چہرے پر
شب کی اوٹ میں چلتے ہو
خواب دلہن کی ڈولی میں
اپنے لمس کی جھولی میں
خود کو چومتے رہتے ہو
تم بھی جاناں کیسے ہو
خوب نہا کر پانی سے
کپڑے اوڑھ کے دھانی سے
اپنے آپ کو تکتے ہو
تم بھی جاناں کیسے ہو
لیکن رات کو بستر میں
تنہا ذات کے مندر میں
سن کر بھجن اندھیرے کے
دھاڑیں مار کے روتے ہو
اپنے حسن کے سونے کو
بھربھری مٹی کہتے ہو
تم بھی جاناں کیسے ہو
RAFIQ SANDEELVI

Guest Author's picture

ٹیلے سے قبرستان تک

ٹیلے سے قبرستان تک

میتوں کے زرد چہروں پر جمی تھی
موٹے بھدے چاند کی مریل نکھٹو روشنی
ایک ماتم تھا کہ جس میں منہمک اشجار تھے
صحن تھے خاموش ،سکتے میں درو دیوار تھے
ایک کالی رات تھی جو شہر میں آباد تھی
اپنی اپنی موت ہی ہر ذی نفس کو یاد تھی
راستہ بے ہوش تھا ٹیلے سے قبرستان تک
گورکن نوحہ کناں تھے، زندگی نرغے میں تھی
الوؤں کے غول اڑتے تھے دریچوں کی طرف
شہر سے باہر سمندر گونجنے میں محو تھا

RAFIQ SANDEELVI

Guest Author's picture

اس رات بڑی خاموشی تھی

اس رات بڑی خاموشی تھی

میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
اس رات دریچے خالی تھے
اور سڑکوں پر ویرانی تھی
آکاش کے نیلے ماتھے سے
مہتاب کا جھومر غائب تھا
اس رات بڑی خاموشی تھی
میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
رستے کے بیچ سمندر تھا
اور اس کے پار پہاڑی تھی
مرے سر پر بوجھ تھا صدیوں کا
اور ہاتھوں میں کلہاڑی تھی
کچھ دور کنارے جوہڑکے
بس مینڈک ہی ٹراتے تھے
اور پیڑ کے پتوں سے کیڑے
اک ساعت میں گر جاتے تھے
میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
اس رات بڑی خاموشی تھی

RAFIQ SANDEELVI

Guest Author's picture

اس رات بڑی خاموشی تھی

اس رات بڑی خاموشی تھی

میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
اس رات دریچے خالی تھے
اور سڑکوں پر ویرانی تھی
آکاش کے نیلے ماتھے سے
مہتاب کا جھومر غائب تھا
اس رات بڑی خاموشی تھی
میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
رستے کے بیچ سمندر تھا
اور اس کے پار پہاڑی تھی
مرے سر پر بوجھ تھا صدیوں کا
اور ہاتھوں میں کلہاڑی تھی
کچھ دور کنارے جوہڑکے
بس مینڈک ہی ٹراتے تھے
اور پیڑ کے پتوں سے کیڑے
اک ساعت میں گر جاتے تھے
میں اس کو ڈھونڈنے نکلا تو
اس رات بڑی خاموشی تھی

RAFIQ SANDEELVI

Guest Author's picture

جب پوَ پھٹی

جب پوَ پھٹی

ابھی کچھ دیر تھی پوَ پھوٹنے میں
گرم بستر چھوڑ کر
جب گھر کی چوکھٹ پار کی میں نے
تو سارا شہر سویا تھا
کہ جیسے اک کویا تھا
جس کی تہ میں ہست وبو کا ریشم
سیاہی کے عجب اسرار میں لپٹا ہوا تھا
اک قدیمی دشت کی مہکار میں لپٹا ہوا تھا
ایسے لگتا یھا
کہ جیسے راستوں،
کھیتوں،مکانوں اور درختوں پر
فُسوں پھونکا گیا ہو
وقت جیسے
اک خُمارِرَفت میں ڈوبا ہوا ہو
شش جِہَت پر رنگ اِستمرار کا پھیلا ہُوا ہو
لا مَکاں کی کُہنگی میں
دُھند کی لَب بستگی میں
خَلق اَپنی خواب گاہوں میں
دبک کر سو رہی تھی
ٓٓآسماں پر
چاند کی ضَو ماند پڑتی جا رہی تھی
ایک سناٹے کا عالَم تھا
چراغوں کی لَویں بجھنے کہ تھیں

اِمکانِ باراں تھا
گلی کے عَین اُوپر ابَر کے ٹکڑے
فضا میں تیرتے تھے
میں زَمستانی ہوَا میں کپکپاتا
بار بار اپنے سیہ کمبل کے گِرتے پلوؤں کو
پُشت و سینہ پر جماتا
پُر سُکوں اَنداز میں خوابیدہ
بچوں کے ہیوُلے

اشک بار آنکھوں کے پَردوں سے ہٹاتا
لَب ہی لَب میں بَڑبَڑاتا
ساحِل دریا پہ پُہنچا
ناؤ میں بیٹھا!
ابھی کچھ دیر تھی پَو پُھوٹنے میں
دوسرے ساحِل پہ جانے کی کشش نے
موج کے ریلے نے
میری ناؤ کو آگے بڑھایا
صبح کا تارا اَچانک جھِلملایا
ناؤ،پانی،بادباں،چپو،اندھیرا
اور غُنُودہ جسم میرا
سب عناصِرایک عُنصرمیں ڈھلے
دل میں کچھ پُرانی یاد کے پھُول
شاخوں پر کِھلے
پھر پَو پھٹی
پھر دوپہَر کی دُھوپ پھیلی
سہ پہَر کے سایے رینگے
شام دھل آئی
اَندھیرا چھا گیا
اور سینکڑوں راتوں کے
اِک لمبے سفر کے بعد
ساحِل آگیا!

جب اگلے دن کی پَو پھٹی
گھر میں صفِ ماتم بچھی

Guest Author's picture

جب پوَ پھٹی:رفیق سندیلوی

جب پوَ پھٹی

ابھی کچھ دیر تھی پوَ پھوٹنے میں
گرم بستر چھوڑ کر
جب گھر کی چوکھٹ پار کی میں نے
تو سارا شہر سویا تھا
کہ جیسے اک کویا تھا
جس کی تہ میں ہست وبو کا ریشم
سیاہی کے عجب اسرار میں لپٹا ہوا تھا
اک قدیمی دشت کی مہکار میں لپٹا ہوا تھا
ایسے لگتا یھا
کہ جیسے راستوں،
کھیتوں،مکانوں اور درختوں پر
فُسوں پھونکا گیا ہو
وقت جیسے
اک خُمارِرَفت میں ڈوبا ہوا ہو
شش جِہَت پر رنگ اِستمرار کا پھیلا ہُوا ہو
لا مَکاں کی کُہنگی میں
دُھند کی لَب بستگی میں
خَلق اَپنی خواب گاہوں میں
دبک کر سو رہی تھی
ٓٓآسماں پر
چاند کی ضَو ماند پڑتی جا رہی تھی
ایک سناٹے کا عالَم تھا
چراغوں کی لَویں بجھنے کہ تھیں

اِمکانِ باراں تھا
گلی کے عَین اُوپر ابَر کے ٹکڑے
فضا میں تیرتے تھے
میں زَمستانی ہوَا میں کپکپاتا
بار بار اپنے سیہ کمبل کے گِرتے پلوؤں کو
پُشت و سینہ پر جماتا
پُر سُکوں اَنداز میں خوابیدہ
بچوں کے ہیوُلے

اشک بار آنکھوں کے پَردوں سے ہٹاتا
لَب ہی لَب میں بَڑبَڑاتا
ساحِل دریا پہ پُہنچا
ناؤ میں بیٹھا!
ابھی کچھ دیر تھی پَو پُھوٹنے میں
دوسرے ساحِل پہ جانے کی کشش نے
موج کے ریلے نے
میری ناؤ کو آگے بڑھایا
صبح کا تارا اَچانک جھِلملایا
ناؤ،پانی،بادباں،چپو،اندھیرا
اور غُنُودہ جسم میرا
سب عناصِرایک عُنصرمیں ڈھلے
دل میں کچھ پُرانی یاد کے پھُول
شاخوں پر کِھلے
پھر پَو پھٹی
پھر دوپہَر کی دُھوپ پھیلی
سہ پہَر کے سایے رینگے
شام دھل آئی
اَندھیرا چھا گیا
اور سینکڑوں راتوں کے
اِک لمبے سفر کے بعد
ساحِل آگیا!

جب اگلے دن کی پَو پھٹی
گھر میں صفِ ماتم بچھی

zahid.mahmood's picture

Lab Pe Aati Hai Dua Banke Tamanna Meri

[video:http://youtu.be/ffH5aS5d53U]

Lab pe aati hai dua ban kay tamana meri
Zindagi sham’a key surat ho Khudaya meri.

Dur dunya ka maray dam say andheera ho jaye!
Har jagah meray chamaknay say ujala ho jaye!

Ho maray dam say younhi meray watan key zeenat
Jis tarah phool say hoti hai chaman ki zenat.

Zindgi hoo maray parwanay key surat Ya Rab!
Ilm ki sham’a say ho mujko muhabat Ya Rub!

Ho mara kaam ghareeboon key himayat kerna
Dard mandoon say za’ieefoon say muhabbat karna.

Maray Allah! burai say bachana mujhko
Naik jo rah hoo us raah pay chalana mujh ko.

Lub pay aati hai dua baan key tamana mayri
Zindagee shama ki surat ho Khudaya meree.

Syndicate content