Sad Poetry

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ
http://en.wikipedia.org/wiki/Tanwir_Phool

Your rating: None Average: 2.8 (4 votes)
Guest Author's picture

کیا خوب کربلا میں نبھائ حسین نے

کیا خوب کربلا میں نبھائ حسین نے

کیا خوب کربلا میں نبھائ حسین نے
نانا کے دیں کی لاج بچائ حسین نے

.یوں تو کربلا میں پیاسے لگے حسین.
مے معرفت کی سب کو پلائ حسین نے

یہ ادنی سا شاعر کیا ان کی شان لکھے؟؟؟
کس کس کی لاش نہ جا کے اٹھائ حسین نے

جان دے دو مت جھکو باطل کے سامنے
امت تلک کربلا سے یہ بات پہنچائ حسین نے

نیزے پہ چڑھ کے بھی تلاوت قرآن ہوئ
کیا یزيد کے سینے میں آگ لگائ حسین نے

سر کٹا کہ ازل تک امر وہ ہوۓ عثمان
کیسی ارفع کی کربلا میں کی کمائ حسین نے

No votes yet
Guest Author's picture

بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

ہم تم کو یوں آزمائيں گے کسی دن
بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

یوں تو آوارگی کا سفر جاری ہے
سوچا ہےگھر جائيں گے کسی دن

ہر قدم پر گناہ کرنے والے سن لیں
گھڑے پاپ کے بھر جائيں گے کسی دن

اگر ظالم تیری بے رخی جاری رہی
راہ میں تجھ سے بچھڑ جائيں گے کسی دن

گر دیکھنا ہے معجزہ محبت دنیا کو
سفینے ڈوبتے بھی ابھر جائيں گے کسی دن

عثمان کو آزمانے والے سن لیں اب
ہم ہر حد سے گزر جائيں گے کسی دن

No votes yet
Guest Author's picture

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی
باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا

خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے
کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے
پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی
بن جائے گا قيامت اک واقع ذرا سا

تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا

ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا

ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

Your rating: None Average: 3.8 (4 votes)
Guest Author's picture

hum pathron ko mom banane k shouq mein, kia kia mohabbaton ka zian jhelte rahe,ye jante hue bhi k hum haar jaenge ek zid si hogayee thi jua khelte rahe

Your rating: None Average: 3.5 (8 votes)
Guest Author's picture

Gham_e_Hayat ka jhgada mita rha hy koi

Gham_e_Hayat ka jhgada mita rha hy koi

Chly aao k dunia sy ja rha hy koi

Koi azal sy khe do k ruk jay do ghadi

Suna hy k any ka wada nibha rha hy koi

Wo ess naz sy bethy hain lassh k pass

Jaesy rothy huy ko mna rha hy koi

Plt kr na aa jay phr sans nbzon main

Itny haseen hathon sy mayet sja rha hy koi

Your rating: None Average: 4.1 (7 votes)
Guest Author's picture

Gham_e_Hayat ka jhgada mita rha hy koi

Gham_e_Hayat ka jhgada mita rha hy koi

Chly aao k dunia sy ja rha hy koi

Koi azal sy khe do k ruk jay do ghadi

Suna hy k any ka wada nibha rha hy koi

Wo ess naz sy bethy hain lassh k pass

Jaesy rothy huy ko mna rha hy koi

Plt kr na aa jay phr sans nbzon main

Itny haseen hathon sy mayet sja rha hy koi

Your rating: None Average: 4 (3 votes)
Guest Author's picture

Koi ilhaam hai na koi nazool....

کوئ الہام ہے نہ کوئ نزُول
بند کیوں ہو گیا ہے بابِ قبُول ۔
بے ثمر کیوں ہوا ہے دشتِ وجُود
کوئ پتہ نہ خار ہے نہ ببُول ۔
بربطِ دل پے کوئ نَے ہے نہ لَے
جم گئ ہے ہر ایک ساذ پہ دھُول ۔
ٹُوٹتی جا رہی ہے ذیست کی ڈور
کھینچتا جا رہا عشق بھی طُول ۔
موسمِ ہجر خاک پھینک گیا
کشتِ ہستی میں ہیں خزاں کے پھوُل ۔
محفلِِ میکشاں سلامت باد
جسمیں ہوتی نہیں ہے کوئ بھُول ۔
مر مِٹے جس کو بھی کبھی چاہا
عشق میں مُنفرِد ہے اپنا اصُول ۔ محبوب صدیقی ۔

Your rating: None Average: 4.7 (3 votes)
Syndicate content