Sad Poetry

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

خزاں رت اور یہ شوخیاں عجب لگتی ہیں

خزاں رت اور یہ شوخیاں عجب لگتی ہیں
جاناں تمھارے چہرے کی پرچھائیاں عجب لگتی ہیں

جب بھی زرد پتوں کو دیکھا تو یہ احساس ہوا
گزرے بہار کی گلاب رتیں عجب لگتی ہیں

اپنے حال میں مست ہے پھر بھی پرانا شجر!
کچھ نرم و نازک ٹہنیاں عجب عجب لگتی ہیں

نیا زمانہ پھر ابر بہار بن کر آئے گا میرے آنگن میں
اس حال میں رقیبوں کی باتیں عجب لگتی ہیں

شکیل احمد چوھان

Your rating: None Average: 3.7 (6 votes)
Guest Author's picture

اداس رات

اداسیوں کی اس گھناونی رات میں ،
میں جو چاند کو دیر تک تکوں
تو اس میں برا کیا ہے

سارے عہد و پیماں جھوٹے، سب رنگ راگ جھوٹے
لمحہ بھر کے لئیے جو تیری گلی میں ٹھہر گئے
تو اس میں برا کیا ہے۔

شکیل احمد چوھان

Your rating: None Average: 4 (6 votes)
Guest Author's picture

unhain kahna

unhain khna agar fursat mein yad krna hai to na karain, hum tanha to hai per fazol nhi

Your rating: None Average: 4.3 (3 votes)
Guest Author's picture

Naya zakhm

jo shakh say orda hai wo ta;aier nazar me hai,
gumnam bastioun ka musafir nazar me hai
ous say joda hoai kaie shamein guzar gaie
ab tk wohi ta;aluq khatir nazar me hai.

Your rating: None Average: 4.7 (3 votes)
Guest Author's picture

وہ درد ہے تو بڑھتا کیوں نہیں

وہ درد ہے تو بڑھتا کیوں نہیں
اگر زخم ہے تو سِلتا کیوں نہیں
جاو میرے چارہ گر سے کہو
سفرزندگی کا یوںکٹتا کیوں نہیں
ہم قدم ہے وہ سفر میں میرے
رستہ پھر بھی سمٹتا کیو ں نہیں
سائبان نہ کوئی آنچل ہے سر پہ
بدن د ھوپ میں جلتا کیوں نہیں
محبت ا ن سے ہونی تھی سو ہو گئی
رات کٹتی نہیں دن گزرتا کیوں نہیں
وہ پوچھتے ہیں ہم سے محبت کا مزاج
دل پہ جو گزرتی ہے سمجھتا کیوں نہیں

Your rating: None Average: 3.5 (4 votes)
Lubna's picture

عشق میں جان سے گذرتے ہیں گذرنے والے

عشق میں جان سے گذرتے ہیں گذرنے والے
موت کی راہ نہیں دیکھتے مرنے والے

آخری وقت بھی پورا نہ کیا وعدہءِ وصل
آپ آتے ہی رہے، مر گئے مرنے والے

اُٹھے اور کوچہءِ محبوب میں پہنچے عاشق
یہ مسافر نہیں راستے میں ٹھہرنے والے

جان دینے کا کہا میں نے تو ہنس کر بولے
تم سلامت رہو ہر روز کے مرنے والے

آسمان پہ جو ستارے نظر آئے امیر
یاد آئے مجھے داغ اپنے اُبھرنے والے

Your rating: None Average: 3.7 (3 votes)
Guest Author's picture

وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی

وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی
وہ خوش ہے بہت غیر کی محفل کو سجاکر

میں جس کی آنکھ میں کبھی مقیم تھا وہ شخص
گزرا میرے قریب سے تو آنکھ بچا کر

وہ جن کی تجوری میں ہم نے راز تھے رکھنے
نکلے بھکاری وہ مرے لفظوں کے سراسر

رہنے سے میری گھات میں حاصل نہیں کچھ بھی
ہے ہمت تو آجاؤ میرے قد کےبرابر

خاموشیوں کے ہنر لب-ے-بام سجاکر
عامی کہے ارباب تو خاموش رہا کر

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
Guest Author's picture

وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی

وہ جس سے ہی زندہ تھی کبھی محفلیں اپنی
وہ خوش ہے بہت غیر کی محفل کو سجاکر

میں جس کی آنکھ میں کبھی مقیم تھا وہ شخص
گزرا میرے قریب سے تو آنکھ بچا کر

وہ جن کی تجوری میں ہم نے راز تھے رکھنے
نکلے بھکاری وہ مرے لفظوں کے سراسر

رہنے سے میری گھات میں حاصل نہیں کچھ بھی
ہے ہمت تو آجاؤ میرے قد کےبرابر

خاموشیوں کے ہنر لب-ے-بام سجاکر
عامی کہے ارباب تو خاموش رہا کر

درد محبت ہے تو پھر انساں کے کام آ
یوں میخانہ میں بیٹھ کر اس کا ضیاں نہ کر

ہے جھوٹ کو جینا بہت مشکل میرے ہمدم
سچ کہہ بھی جاؤ آج میرے پاس تم آکر

کوئی اور ہے جو سیکھتا ہے مدرسے جاکر
ہم نے تو سیکھی شائری ہے دل کو جلاکر

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
Syndicate content