Sad Poetry

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

ہے چھوڑ کے جانا تو مجھے چھوڑ مکمل

***غزل***
(عتیق الرّحمٰن صفی)

ہے چھوڑ کے جانا تو مجھے چھوڑ مکمل
دے ساتھ کسی کا مرا دل توڑ مکمل

ہے ساتھ نبھانا تو مرا ساتھ دے ایسے
دل اپنامرے قلب سے دے جوڑمکمل

افسانے کے کردار تو سب ہی ہیں پرانے
دے اپنی کہانی کو نیا موڑمکمل

کافی نہیں چلنا ہی فقط جانبِ منزل
کچھ پانا اگر ہے تو یہاں "دوڑ" مکمل

آؤ سبھی ہم مل کے کریں امن کی خاطر
اک آخری کوشش جو ہو سر توڑمکمل

Your rating: None Average: 3 (2 votes)
Lubna's picture

وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی

وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

نہ اپنا رنج نہ اپنی دکھ نہ اوروں کا ملال
شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی

محبتوں کا سفر کچھ اس طرح بھی گزرا تھا
شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی

عداوتیں تھیں ، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا ، بے وفائی نہ تھی

بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل

Your rating: None Average: 4.6 (11 votes)
Guest Author's picture

Gham-e Dauran bhi to hai k galat hota nahi

Gham-e dauran bhi to hai k galat hota nahi
To kia yeh samjhein k gham kam hota nahi

Be'sabab royie gham-e hasti pe kyun danistan
Hota hai jab ba'daleel, kuch be'waja hota nahi

Aya khayal dekhiye rab ko dar-e dehleez-e dil
Log kehte hein wahan hota hai, par hota nahi

Mai piye jo gir rahe the yak ba yak pesh roz
Lijiye, suniye, k kehte hein nasha hota nahi

Kuch nahi mehr-o wafa, ik shokh si tehrer hai
Keh dia kai ho gaya par ishq youn hota nahi

Naaz dar khud kia karien jab dar-e tofan bhi
Kashti ka hai Allah hafiz, nakhuda hota nahi

Jab se chhayi hai zehn pe khushgli hoor ki
Husn-e bint-e hawa dekh, dil fida hota nahi

Sun Adeel tu bhi bs ab aa ja raah-e raast pe
Kuch nahi iss mein zayan, gar nafa hota nahi

Your rating: None Average: 3 (2 votes)
Guest Author's picture

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سوجا و

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سوجا و
ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جا و

کہاں تک مُجھ سے ہمدردی کہاں تک میری غمخواری
پزاروں غم ہیں انجانے ستارو تم تو سوجا و

ہمیں روئدادِ ہستی رات بھر میں ختم کرنی ہے
نہ چھیڑو اور افسانے ستارو تم تو سوجاو

ہمارے دیدہء بےخواب کو تسکین کیا دوگے
ہمیں لوٹا ہے دنیا نے ستارو تم تو سوجاو

Your rating: None Average: 3 (1 vote)
Guest Author's picture

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
اشک بہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں

پھر کوئی کم بخت کشتی نذرِ طوفاں ہوگئی
ورنہ ساحل پر اُداسی اس قدر ہوتی نہیں

میری نظریں جرائتِ نظارہ کی مجرم سہی
احتیاطِ حُسن تم سے بھی مگر ہوتی نہیں

ہائے کس عالم میں چھوڑا ہے تمھارے غم نے ساتھ
جب قضا بھی زندگی کی چارہ گر ہوتی نہیں

رنگِ محفل چاہتا ہے اِک مکمل انقلاب
چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر پوتی نہیں

اضطرابِ دل سے قابل وہ نگاہِ بے نیاز
بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں

Your rating: None Average: 3 (1 vote)
Guest Author's picture

جانےکیا ہو پلک جھپکنے میں

جانےکیا ہو پلک جھپکنے میں
زندگی جاگتی ہی رہتی ہے

لاکھ وہ بے نیاز ہوجائیں
حُسن میں دلکشی ہی رہتی ہے

جھوٹے وعد و ں کی دل کشی مت پوچھ
آنکھ در پر لگی ہی رہتی ہے

ہجر کی رات ہو کہ صبحِ نشاط
زندگی زندگی ہی رہتی ہے

دردِ خود آگہی نہ ہو جب تک
کائنات اجنبی ہی رہتی ہے

زہر بھی پم نے پی کے دیکھ لیا
عشق میںتشنگی ہی رہتی ہے

حُسن کرتا ہے مہر و ماہ سے چھیڑ
آنکھ لیکن جھکی ہی رہتی ہے

کچھ نئی بات تو نہیں قابل
ہجر میں بے کلی ہی رہتی ہے

Your rating: None Average: 4 (1 vote)
Guest Author's picture

تمھیں جو میرے غم. دل سے آگہی ہوجائے

تمھیں جو میرے غم. دل سے آگہی ہوجائے
جگر میں پھول کِھلیں ، آنکھ شبنمی ہوجائے

اجل بھی اُس کی بلندی کو چھو نہی سکتی
وہ زندگی جسے احساسِ زندگی ہوجائے

یہی ہے دل کی ہلاکت ، یہی ہے عشق کی موت
نگاہِ دوست پہ اظہارِ بیکسی ہوجائے

زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھوگے
خدا کرے کہ تمھیں مجھ سے دشمنی ہوجائے

سیاہ خانہء دل میں ہے ظلمتوں کا ہجوم
چراغِ شوق جلاو کہ روشنی ہوجائے

طلوعِ صبح پہ ہوتی ہے اور بھی نمناک
وہ آنکھ جس کی ستاروں سے دوستی ہوجائے

اجل کی گود میں قابل ہوئی ہے عمر تمام
عجب نہیں کہ مری موت زندگی ہوجائے

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
Guest Author's picture

جب کبھی آنکھ ملاتے ہیں وہ دیوانے سے

جب کبھی آنکھ ملاتے ہیں وہ دیوانے سے
روئے تاباں پہ اُبھر آتے ہیں ویرانےسے

لذ تِ گردش ایام وہی جانتے ہیں
جو کسی بات پہ اُٹھ آئے ہیں میخانے سے

تم بھی ایسے میں اُلٹ دو رُخ. تاباں سے نقاب
زندگی جھانک رہی ہےمرے پیمانے سے

لوگ لے آتے ہیں کعبہ سے ہزاروں تحفے
ہم سے اک بت بھی نہ لایا گیا بُت خانے سے

سوچتا ہوں تو وہ جاں سے بھی زیادہ بھی عزیز
دیکھتا ہوں تو نظر آتے ہیں بیگانے سے

ظمتِ دیر و حرم سے کوئی مایوس نہ ہو
اک نئی صبح ابھرنے کو ہےمیخانے سے

تیری اک سادہ نظر کا ہے کرشمہ ساقی
ان گنت رنگ جھلکنے لگے پیمانے سے

پھول تو پھول ہیں اس دورِ ہوس میں قابل
لوگ کانٹوں کو بھی چُن لیتے ہیں ویرانے سے

No votes yet
Syndicate content