Sad Poetry

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں

کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں
زندگی آج ترا قرض چکا دیتے ہیں

تیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم
ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں

ہاں یہی خاک بسر سوختہ ساماں اے دوست
تیرے قدموں میں ستاروں کو جھکا دیتے ہیں

سینہ چاکان محبت کو خبر ہے کہ نہیں
شہر خوبا ں کے درو بام صدا دیتے ہیں

ہم نے اس کے لب و رخسار کو چھو کر دیکھا
حوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں

Your rating: None Average: 3 (1 vote)
Guest Author's picture

اعتبارِ نگاہ کر بیٹھے

اعتبارِ نگاہ کر بیٹھے
کتنے جلوے تباہ کر بیٹھے

آپ کا سنگِ در نہیں چمکا
ہم جبینیں سیاہ کر بیٹھے

موت پر مسکرانے آئے تھے
زندگانی تباہ کر بیٹھے

شمع امید کے اُجالے میں
کتنی راتیں سیاہ کر بیٹھے

صرف عذرِ گناہ ہو نہ سکا
ورنہ سارے گناہ کر بیٹھے

کس توقع پہ اہلِ دل قابل
زندگی سے نباہ کر بیٹھے

No votes yet
Guest Author's picture

Kalam by Raees warsi

Your rating: None Average: 4.8 (4 votes)
Guest Author's picture

Her Ek Shakhs Kaha'n Hum Kheyal Hota Hay

Her Ek Shakhas Kaha'n Hum Kheyal Hota Hay
Bichhar gaya Hou'n tou Usko Malal Hota Hay

Mia'n us Jahan-e-Muhabat Ka rehnay Wala Hou'n
Jaha'n kesi Ko bholana Mahaal Hota Hay

Hamaray Qadmou'n Mai'n Sa'aye Panah Latai'n Hai'n
Jab Aaftab Ka Waqt-e-Zawal Hota Hay

Mia'n us Hesa'ar-e-An'na Ko bhi Tour Aa'ya Hou'n
Jahan Say Akasr Loutna Mahaal Hota Hay

Your rating: None Average: 5 (2 votes)
Guest Author's picture

شب و روز رونے سے کیا فایدہ ہے

شب و روز رونے سے کیا فایدہ ہے
گریباں بھگونے سے کیا فایدہ ہے

جہاں پھول خود ہی کریں کار نشتر
وہاں خار بونے سے کیا فایدہ ہے

اجالوں کو ڈھنڈو، سحر کو پکارو

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
Bawa's picture

غموں سے دو عالم کے گھبرا گئے ہم

غموں سے دو عالم کے گھبرا گئے ہم
پلٹ کر در یار پر آ گئے ہم

نہ جادہ، نہ منزل، نہ رہبر، نہ رہزن
تجھے ڈھونڈتے یہ کہاں آ گئے ہم

زمانے پہ چھاے ہیں طوفان بن کر

No votes yet
Bawa's picture

تماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیں

تماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیں
سواے فریب نظر کچھ نہیں

زمانہ یہ ہے رقص ذرّات کا
حکایات شمس و قمر کچھ نہیں

ستاروں سے آگے مری منزلیں
بلا سے اگر بال و پر کچھ نہیں

No votes yet
Guest Author's picture

کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا

کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا
پھر دُور کسی نور کے ہالے میں رہوں گا

رکھوں گا کبھی دھوپ کی چوٹی پہ رہائش
پانی کی طرح ابر کے ٹکڑے میں رہوں گا

یہ شب بھی گزر جائے گی تاروں سے بچھڑ کر

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
Syndicate content