Other

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Other Authors
IN Khan's picture

ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں

ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ ، جسکی جزا کوئی نہیں

آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں

وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں

خود کو یوں‌ محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں

کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فراز
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں

Your rating: None Average: 4.2 (43 votes)
Guest Author's picture

نیند کی جانب قدم

نیند کی جانب قدم

گنگ سانسیں
پتھروں کا ایک ڈھیر
بیلچے ہاتھوں میں تھامے بانجھ موسم کی پکار
روشنی دیوار کے اندر گئی
واپس ہوئی
ہم نشینی،رات کا پچھلا پہر
نیند کی جانب قدم
میں سمندر اوڑھ کر ساحل پہ ہوں
آنکھ کو دیمک لگی
بانس کے ویران جھنڈ
گیدڑوں کی ہاؤ ہو
بکریوں کے پیٹ سے
میمنے پیدا ہوئے اور مر گئے
بارش شب سے کلس نہلا گیا
کہکشاں رونے لگی
بد دعائیں منتقل ہونے کی گھنٹی بج گئی
سر خمیدہ شہر سیدھا ہو گیا
شاہ رگ سے دھڑکنیں رسنے لگیں
میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا
اور سمندر اوڑھ کر پھر سو گیا
RAFIQ SANDEELVI

Your rating: None Average: 5 (14 votes)
Guest Author's picture

ہونے کا خدشہ

ہونے کا خدشہ

ڈرو کہ سب خاکروب ہاتھوں میں گرد لے کر
گلاب ہاتھوں،بہار چہروں کو ڈھونڈتے ہیں
ڈرو کہ مکتب کے راستے پر
جلوس ناخواندگاں کتابوں کو برچھیوں میں پرو رہا ہے
تمام بچوں کو خندقوں میں چھپا کے مکتب کے سب معلم
نئی کتابوں میں اقتباس محافظت کو تلاش کرنے میں منہمک ہیں
ڈرو کہ پکی حویلیوں کو اکھاڑ دینے کا عزم لے کر
ہزاروں خانہ بدوش تیشوں سے چوکھٹوں پر توانا ضربیں لگا رہے ہیں
ڈرو کہ اب اونٹ اپنی کروٹ بدل رہا ہے
RAFIQ SANDEELVI

Your rating: None Average: 4.9 (13 votes)
Guest Author's picture

ماتھوں پہ سینگ

ماتھوں پہ سینگ

وہ طلسم تھا جو تمام بستی پہ قہر تھا
کوئی زہر تھا جو رگوں میں سب کی اتر گیا
تو بکھر گیا وہ جو بوریوں میں اناج تھا
کوئی ڈاکو لوٹ کے لے گیا جو دلہن کا قیمتی داج تھا
وہ سماج تھا کہ سبھی کے دل میں یتیم ہونے کا خوف تھا
کوئی ضعف تھا کہ جو آنگنوں میں مقیم تھا
وہ رجیم تھاکہ تمام بستی پہ آگ تھا
کوئی راگ تھا جو سماعتوں پہ عذاب تھا
وہ عتاب تھا کہ سبھی کے ماتھوں پہ سینگ تھے
RAFIQ SANDEELVI

Your rating: None Average: 4.9 (15 votes)
Guest Author's picture

انتباہ

انتباہ

میں اپنے وطن سے بغاوت کروں تو
مجھے قتل کرنا
اگر اپنے بھائی کے ورثے کو لوٹوں
تو تم میری آنکھوں میں کانٹے چبھونا
خمیدہ کمر بوڑھے ماں باپ کو میں سہارا نہ دوں تو
مجھے قید کرنا، زدوکوب کرنا
اگر میرا ہمسایہ بھوکا رہے تو
.مجھے فاقہ زدگی سے دوچار کرنا
اگر میرے بیٹے کو میری وجہ سے برائی لگے تو
سلاخوں کے پیچھے مجھے بیڑیوں میں جکڑ کر مشقت کرانا
میں سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی
اگر اپنی بیٹی کی خوشیوں کا قاتل بنوں تو
مجھے بد دعاؤں سے محصور کرنا
مجھے ٹکٹکی پر چڑھانا
میں چوری کروں تو
میرے ہاتھ تلوار سے کاٹ دینا
میں عورت کی عصمت دریدہ کروں تو
زمیں میں مجھے گاڑ دینا
مجھے سنگساری سے معتوب کرنا
اگر جرم ہو جائیں ثابت تو مجھ پر
بھیانک سزاؤں کا اطلاق کرنا
مگر یاد رکھنا
مری بے گناہی کی تصدیق کر کے
اگر تم نے مجھ کو صلیبوں پہ کھینچا
تو میں آخری سانس تک تم سے لڑتا رہوں گا

RAFIQ SANDEELVI

Your rating: None Average: 5 (18 votes)
Guest Author's picture

جب پوَ پھٹی

جب پوَ پھٹی

ابھی کچھ دیر تھی پوَ پھوٹنے میں
گرم بستر چھوڑ کر
جب گھر کی چوکھٹ پار کی میں نے
تو سارا شہر سویا تھا
کہ جیسے اک کویا تھا
جس کی تہ میں ہست وبو کا ریشم
سیاہی کے عجب اسرار میں لپٹا ہوا تھا
اک قدیمی دشت کی مہکار میں لپٹا ہوا تھا
ایسے لگتا یھا
کہ جیسے راستوں،
کھیتوں،مکانوں اور درختوں پر
فُسوں پھونکا گیا ہو
وقت جیسے
اک خُمارِرَفت میں ڈوبا ہوا ہو
شش جِہَت پر رنگ اِستمرار کا پھیلا ہُوا ہو
لا مَکاں کی کُہنگی میں
دُھند کی لَب بستگی میں
خَلق اَپنی خواب گاہوں میں
دبک کر سو رہی تھی
ٓٓآسماں پر
چاند کی ضَو ماند پڑتی جا رہی تھی
ایک سناٹے کا عالَم تھا
چراغوں کی لَویں بجھنے کہ تھیں

اِمکانِ باراں تھا
گلی کے عَین اُوپر ابَر کے ٹکڑے
فضا میں تیرتے تھے
میں زَمستانی ہوَا میں کپکپاتا
بار بار اپنے سیہ کمبل کے گِرتے پلوؤں کو
پُشت و سینہ پر جماتا
پُر سُکوں اَنداز میں خوابیدہ
بچوں کے ہیوُلے

اشک بار آنکھوں کے پَردوں سے ہٹاتا
لَب ہی لَب میں بَڑبَڑاتا
ساحِل دریا پہ پُہنچا
ناؤ میں بیٹھا!
ابھی کچھ دیر تھی پَو پُھوٹنے میں
دوسرے ساحِل پہ جانے کی کشش نے
موج کے ریلے نے
میری ناؤ کو آگے بڑھایا
صبح کا تارا اَچانک جھِلملایا
ناؤ،پانی،بادباں،چپو،اندھیرا
اور غُنُودہ جسم میرا
سب عناصِرایک عُنصرمیں ڈھلے
دل میں کچھ پُرانی یاد کے پھُول
شاخوں پر کِھلے
پھر پَو پھٹی
پھر دوپہَر کی دُھوپ پھیلی
سہ پہَر کے سایے رینگے
شام دھل آئی
اَندھیرا چھا گیا
اور سینکڑوں راتوں کے
اِک لمبے سفر کے بعد
ساحِل آگیا!

جب اگلے دن کی پَو پھٹی
گھر میں صفِ ماتم بچھی

Your rating: None Average: 4.8 (23 votes)
zahid.mahmood's picture

Ay Dost ,,P,I,A

Agar Jo Dil Ki Sunoge To Haar Jaoge,
Hum Jaisa Yaar Kaha Se Paoge,

Jaan De Ne Ki Baat To Har Koi Karta Hain,
Zindagi Banane Wala Kaha Se Laoge,

Jo Ek Nazar Dekhoge Tum Humein,

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
zahid.mahmood's picture

Har Shaks Ki Ajab Kahani Hai Ay Dost ,,,,,P,I,A

Har Shaks Ki Ajab Kahani Hai…

Chup Rahna Bhi Dosti Ki Nishani Hai…

Phir Bhi Dard Ka Ek Ahsas Hai….

Lagta Hai Aap Yahi Kahi Aas Pass Hai

No votes yet
Syndicate content