کسی نقش ِ جسم کو راہ دے مرے آئینے/rafiq sandeelvi

Verses

کسی نقش ِ جسم کو راہ دے مرے آئینے
کبھی خود کو اذن ِ گناہ دے مرے آئینے

میں زنگار ِ درد میں عمر اپنی گزار دوں
مجھے سسکیاں ،مجھے آہ دے مرے آیئنے

کہاں قتلِ ِ عکس روا ہوا،کہاں خوں بہا
کوئی چشم دید گواہ دے مرے آئینے

مرے آئینے میں فصیل ِ شام ِ سیاہ ہوں
مجھے سورجوں کی سپاہ دے مرے آئینے

میں کیاں تلک کسی سنگ ِ شب میں چھپا رہوں
مجھے اپنے گھر میں پناہ دے مرے آئینے

رفیق سندیلوی

مجھکو آنا تھا سو میں بھی آ گیا آتے ہوئے/rafiq sandeelvi

Verses

مجھکو آنا تھا سو میں بھی آ گیا آتے ہوئے
رک سکتا نہیں کسی سے حادثہ آتے ہوئے

اک کُرہ ایسا ہے میرے جسم میں کھ اس طرف
شہ رگ سے لوٹ جاتی ہے ہوا آتے ہوئے

اک با برکت ستارہ ٹھیر جاتا ہے کہیں
اور رک جاتی ہے ہونٹوں پر دعا آتے ہوئے

ایک صوتی لہر گرد ِ خواب سے اٹھتی ہوئی
دشتِ شب سے کچھ سوارِ ِ بے صدا آتے ہوئے

مجھکو جانے دے کسی صبح ِ مسافت کی طرف
میں دعا کی روشنی لے آؤں گا آتے ہوئے

رفیق سندیلوی

سواری اُونٹ کی ہے/rafiq sandeelvi

Verses

rafiq sandeelvi /سواری اُونٹ کی ہے

سواری اُونٹ کی ہے

اَور مَیں شہر شکستہ کی
کسی سنساں گلی میںَ سرجھکائے
ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہاریں تھام کر
اُس گھر کی جانب جا رہا ہوں
جس کی چوکھٹ پر
ہزاروں سال سے
اِک غم زَدہ عورت
مرے وعدے کی رسّی
ریشۂدل سے بنی
مضبوط رسّی سے بندھی ہے
آنسوؤں سے تر نگاہوں میں
کسی کہنہ ستارے کی چمک لے کر
مرے خاکستری ملبوس کی
مخصوص خوشبو سونگھنے کو
اَوربھورے اُو نٹ کی
دُکھ سے لبالب بَلبلاہَٹ
سننے کو تیار بیٹھی ہے

وُ ہی سیلن زدہ اُوطاق کا گوشہ
جہاں مَیں ایک شب اُس کو
لرَزتے‘سَنسناتے‘زہر والے
چوبی تیروں کی گھنی بارش میں
بے بس اور اکیلا چھوڑ آیا تھا
مجھے سب یاد ہے قصّہ
برس کراَبر بالکل تھم چکا تھا
اوِر خلا میں چاند
یوں لگتا تھا جیسے
تخت پر نو عمر شہزادہ ہو کوئی
یوں ہَوا چہرے کو مَس کر کے گزرتی تھی
کہ جیسے ریشمیں کپڑاہو کوئی
اپنے ٹھندے اورگیلے خول کے اَندر
گلی سوئی ہوئی تھی
دَم بہ خوُ د سارے مکاں
ایسے نظر آتے تھے
جیسے نرم اور باریک کاغذ کے بنے ہوں
موم کے تَرشے ہوئے ہوں
اِک بڑی تصویر میں
جیسے اَزل سے ایستادہ ہوں
وُ ہی سیلن زدہ اُوطاق کا گوشہ
جہاں مہتاب کی بُرّاق کرنیں
اُس کے لانبے اورکھلے بالوں میں اُڑسے
تازہ تر انجیر کے پتے روشن کر رہی تھیں
اُس کی گہری گندمِیں کُہنی کا بوسہ یاد ہے مجھ کو
نہیں بھولا ابھی تک
سارا قصّہ یاد ہے مجھ کو
اُسی شب
مَیں نے جب اِک لمحۂ پُرسوز میں
تلوار‘ اُس کے پاؤں میں رکھ دی تھی
اور پھریہ کہا تھا:
’’میرا وعدہ ہے
یہ میرا جسم اوراِس جسم کی حاکم
یہ میری باطنی طاقت
قیامت اوِر
قیامت سے بھی آگے
سرحدِامکاں سے لا امکاں تلک
تیری وفا کا ساتھ دے گی
وقت سُنتا ہے
گواہی کے لئے
آکاش پر یہ چاند
قدموں میں پڑی یہ تیغ
اوِر بالوں میں یہ اِنجیر کا پتّا ہی کافی ہے

خداوندا‘وہ کیسا مرحلہ تھا
اَب یہ کیسا مرحلہ ہے!
ایک سُنسانی کا عالم ہے
گلی چپ ہے
کسی ذی روح کی آہٹ نہیں آتی
یہ کیسی ساعتِ منحوس ہے
جس میں ابھی تک
کوئی ننھاسا پرندہ یا پتنگا
یا کوئی موہوم چیونٹی ہی نہیں گزری
کسی بھی مردوزَن کی
مَیں نے صورت ہی نہیں دیکھی
سواری اُونٹ کی ہے
اَور مَیں شہرشکستہ کی
کسی سنساں گلی میں سَرجھکائے
ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہاریں تھام کر
اُس گھر کی جانب جا رہا ہوں
یا کسی محشر
خموشی کے کسی محشر کی جانب جا رہا ہوں
ہچکیوں اوِر سسکیوں کے بعد کا محشر
کوئی منظر
کوئی منظرکہ جس میں اِک گلی ہے
ایک بھورا اُونٹ ہے
اوِر ایک بُزدِل شخص کی ڈِھیلی رفاقت ہے
سفر نا مختتم
جیسے اَبد تک کی کوئی لمبی مسافت ہے!

سواری اُونٹ کی
یا کاٹھ کے اَعصاب کی ہے
آزمائش اِک انوکھے خواب کی ہے
پتلیاں ساکت ہیں
سایہ اُونٹ کا ہلتا نہیں
آئینۂ آثار میں
ساری شبیہیں گم ہوئی ہیں
اُس کے ہونے کا نشاں ملتا نہیں
کب سے گلی میں ہوں
کہاں ہے وُ ہ مری پیاری
مری سیلن زدہ اُوطاق والی
وُ ہ سُریلی گھنٹیوں والی
زمینوں ‘پانیوں اور اَنفَس وآفاق والی
کس قدر آنکھوں نے کوشش کی
مگر رونا نہیںآتا
سبب کیا ہے
گلی کا آخری کونا نہیں آتا
گلی کو حکم ہو‘ اَب ختم ہو جائے
مَیں بھُورے اور بو ڑھے اُو نٹ پر بیٹھے ہوئے
پیری کے دِن گنتا ہوں
شاید اِس گلی میں رہنے والا
کوئی اُس کے عہد کا زَنبوُ ر ہی گزرے
مَیں اُس کی بارگہ میں
دست بستہ‘ معذرت کی بھیک مانگوں
سَر ندامت سے جھکاؤں
اَوراُس زَنبوُ ر کے صدقے
کسی دِن اَپنے بوڑھے جسم کو
اوِر اُونٹ کو لے کر
گلی کی آخری حد پار کر جاؤں
رفیق سندیلوی

یہ عجیب شہر ِنگار ہے

Verses

کوئی ساز ہے نہ صدا کوئی
کوئی نازنیں نہ ادا کوئی
کہیں دھوپ ہے نہ گھٹا کوئی
کوئی ہمسفر نہ جدا کوئی
کوئی ہجر ہے نہ جفا کوئی
یہ عجیب شہر ِنگار ہے

نہ وہ داغِ دل نہ وہ گھاؤہے
نہ سنگھار ہے نہ بناؤہے
شبِ وصل ہے نہ الاؤ ہے
کہیں بحر ہے نہ بہاؤ ہے
نہ عدو کوئی نہ لگاؤ ہے
نہ وہ لشکروں کا پڑاؤ ہے
یہ عجیب شہر ِنگار ہے

کہیں شاخ ہے تو ثمر نہیں
کہیں آنکھ ہے تو نظر نہیں
کہیں ہاتھ ہے تو ہُنر نہیں
کہیں بات ہے تو اثر نہیں
کہیں راستے میں شجر نہیں
کسی چارہ گر کو خبر نہیں
یہ عجیب شہر ِنگار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ اسحٰق

خدا مخاطب ہے آدمی سے

Verses

خدا کا فرمان لکھنے والے
حریص ہاتھوں پہ کپکپی ہے
ٹھٹھرتے موسم کی سیڑھیوں سے اتر تی شب کاسکون غارت
خدا کی بستی گناہ کے برگزیدہ پانی سے بھر گئی ہے
ملول چہروں پہ بین کرتی یہ رات آخر گزر گئی ہے
گھروں کے بھیگے ستون چپ ہیں
چھتوں پہ حیرت کی نوحہ کاری
کسے خبر ہے،کسے پتہ ہے
کہ کون کیا ہے
خنک ہواؤں کا سلسلہ ہے
رعونتوں کی غلیظ مٹی بدن کی پوروں میں جذب ہو کر
وضو کے پانی سے مل گئی ہے
سیاہ چہروں پہ روشنی کی ملمع کاری عروج پر ہے
گناہ گاروں کی بے حسی پر
اداس شیطان تلملایا
شبوںکی وحشت سے پیٹ بھرتی کدورتوں نے
خدا کے گھر کے کواڑ کھولے
خدا کے فرمان پر دکھاوے کی رونمائی کا مرحلہ ہے
اداس شیطان مضمحل ہے
بہشت حوروں سے بھر گئی ہے
حریص آنکھیں
گناہ گاروں پہ خندہ زن ہیں
فضا میں پہلی اذان گونجی
خدا مخاطب ہے آدمی سے
وہ آدمی جو خدا نہیں ہے
مگر خدا ہے
کہ جس نے اپنے خدا کے ہاتھوں پہ بوسہ دینے کی آرزو میں
گناہ گاروں کے ہاتھ کاٹے
بدن جلائے
گھروں کے روشن دیئے بجھائے
زمیں کے سر پہ ملامتوں سے بھری عبادت کا تاج رکھا
ابھی یہ دن جو طلوع ہوا ہے
خود اپنے حصے کا رزق چننے سے پیشتر ہی گزر نہ جائے
لہو کے دھبوں سے بھر نہ جائے
اداس شیطان مضمحل ہے
_____________
راجہ اسحٰق

چلو لکھتے ہیں کاغذ پر

Verses

چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
کوئی حرفِ شناسائی
کوئی عنوان
افسردہ دنوں کی نارسائی کا
بیاضِ عمر کے صفحات پربے نور ہوتی روشنائی کا
کسی کی کج ادائی کا
بسر ہوتے ہوئے سالوں پہ انگشتِ شہادت سے
چلو کچھ نام لکھتے ہیں
چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
بہت سی ان کہی باتیں
جنھیں پہلے نہیں لکھا
جنھیں پہلے نہیں سوچا
کہیں سے ڈھونڈ کر لائیں گزشتہ عمر کے منظر
جنھیں پہلے نہیں دیکھا
ذرا محسوس کر کے دیکھتے ہیں
پھر وہی شامیں
کہ جو راتوں کی نرمیلی ہوا سے گفتگو کر کے
نئی صبحوں کی دھیمی روشنی میں جذب ہوتی تھیں
ذرا جب حبس بڑھتا تھا
کہیں سے ابر اٹھتا تھا
کہیں بارش کی بوندوں سے
زمیں موسم اگاتی تھی
کہیں امرود کی شاخوںپہ چڑیاں شور کرتی تھیں
پھلوں سے پیٹ بھرتی تھیں
چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
کہ جب لکھنا نہ آتا تھا
تو پریوں کی کہانی سنتے سنتے
نیند کی سرسبز وادی میں
قدم رکھنا
ہواؤں میں پرندوں کی طرح اڑنا
پرستانوں میں جا کر تتلیوں سے گفتگو کرنا
بہت سے جادوئی منظر جگاتا تھا
ہمیں خود سے ملاتا تھا
پرانی صحبتیں برہم
سوادِ شہرِ جاں سے دور اک بستی ہے خوابوں کی
چلو پھر سے اسی بستی میں اپنی عمر کی تجدید کرتے ہیں
خود اپنی زندگی کے کینوس میں
رنگ بھرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ اسحٰق

تو پھر یہ طے ہواتھا

Verses

تو پھر یہ طے ہواتھا
ہم زمیں سیراب کردیں گے
کہانی نا مکمل تھی مگر پھر بھی ہمیں رکھنا تھااپنی خاک سے لکھی عبارت کا کوئی عنوان بھی آخر
ہمیں صبحوں کے خوابیدہ تبسم کو نئی تقدیس کے شفاف رنگوں سے بدلنا تھا
ہمیں معتوب لہجوںمیں زباں کی لکنتوں کے ذائقے تحلیل ہونے کی اذیت سے نکلنا تھا
ہمیں بے نور لفظوں کے شکستہ دائروں میں رنگ بھرنے تھے
ہمیں خاکستری پگڈنڈیوں پر دیر تک ہمراہ چلنا تھا
کہیں گہرا سمندر تھا،کہیں بے پیرہن موجیں
ہوا کی نغمگی اورآسماں کی نیلگوں وسعت
ہمیں خوابوں کی سیڑھی سے اتر کر دھوپ کی چادر پہ پھیلی گرد کی ساری تہیں تاراج کرنی تھیں
ہمیں بے رنگ تمثیلوں کے میلے جسم پرتدبیر کا ملبوس رکھنا تھا
گماں اور دھیان کے موہوم رستوں پر تیقن کی لکیریں کھینچ کر اک عہد کو تخلیق کرنا تھا
پرانے فلسفوں کی نا مکمل آگہی پر روح کے زرخیز وجدانی تصور نقش تھے لیکن
ہمیں اپنی زبوں حالی کے تاریخی مزاروں پر لگے کتبے مٹانے تھے
خود اپنے گم شدہ نسلی تفاخر کی پرا نی قبر پر رکھے طلسمی عنکبوتی تار بھی معدوم کرنے تھے
پرانے عنکبوتی تار جن کی دھول میںاب تک
سزائیں بانٹتے منصف مکافاتِ عمل کی راکھ چنتے ہیں
قبیحانہ مراتب کی سزائیں کاٹتے تاریخ کے بے رنگ صفحوں پر
ابھی تک درج ہو شاید
ہمیں کوہِ ملامت سے اتر کر بستیاں آباد کرنی تھیں
محبت کی فصیلیں رنج سے آزاد کرنی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ اسحٰق

بچھڑنا یہ نہیں ہوتا

Verses

بچھڑنا یہ نہیں ہوتا
کہ کوئی شخص ہم سے دور ہوجائے
دیا بے نور ہو جائے
محبت دوریوںکی کیفیت میں بھی محبت ہے
ارادے ہار جانے سے
سمندر پار جانے سے
تعلق ٹوٹتے کب ہیں
تعلق ٹوٹنا ہو تو
کسی نے روٹھنا ہو تو
ذرا سی دیر لگتی ہے
شجر کوئی
زمیں میں جڑ پکڑنے سے بہت پہلے ہی مر جائے
کدورت دل میں بھر جائے
کوئی حد سے گزر جائے
تو پھر ہونے نہ ہونے سے
کسے کیا فرق پڑتا ہے
محبت کرنے والوں کو جدائی کا کبھی صدمہ نہیںملتا
سو اب یہ طَے ہوا
دراصل
لا حاصل تعلق ہی جدائی ہے
یہی سچ ہے
ارادے ہار جانے سے
سمندر پار جانے سے
تعلق ٹوٹتے کب ہیں
___________
راجہ اسحٰق

اداس آنگنوں کے بیچ ، ہر شجر جلا ہوا

Verses

اداس آنگنوں کے بیچ ، ہر شجر جلا ہوا
ہر ایک دل بجھا ہوا،ہر ایک گھر جلا ہوا

میں اپنے فن میں طاق تھا،مگریہ کیا ہوا کہ اب
طلب کی بھیڑ میں پڑا ہے سب ہنر جلا ہوا

تلاشِ روزگار میں تمام رنگ بجھ گئے
لکھا ہوا ہے میرے حرف حرف پر جلا ہوا

ستائشوں کے شاہ سے مجھے بھی خلعتیں ملیں
سفر کی دھوپ میں پھرا ہوں دربدر جلا ہوا

پسِ غبارِ کارواں،شکستہ کار و مضطرب
پڑا ہوا ہوں شاخِ جاں سے ٹوٹ کر جلا ہوا

میں زندگی کی شام سے بچھڑ گیا تو کیا ہوا
چراغ ہوں ابھی فصیلِ شہر پر جلا ہوا
راجہ اسحٰق

دلِ من ٹھہر

Verses

دلِ من ٹھہر،ابھی دور ہیں
سبھی منزلیں،سبھی راستے
ابھی نا تمام ہیں مرحلے
کوئی ہم رکاب ہُوا نہیں
ابھی خواب، خواب ہوا نہیں
ہوئے لفظ میرے رقم کہاں
کہ ہنر کتاب ہُوا نہیں
کوئی ہم نفس،کوئی خوبرو
مری چشمِ تر میں اُتر تو لے
کوئی نقش دل پہ اُبھر تو لے
کوئی رنگ شامِ وصال کا
کوئی نور صبحِ جمال کا
رہِ زندگی سے گزر تو لے
ابھی فتنہ گر ہیں ، شکستہ رُو
وہ مسافتیں جو نہ طے ہوئیں
دلِ من ٹھہر کہ ہوا چلے
تو زمیں کا رزق بحال ہو
کوئی رنج ہو نہ ملال ہو
وہاں بادشاہوں کا سر جھکے
جہاں کوئی دستِ سوال ہو
______________
راجہ اسحٰق Raja Ishaq