Popular

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
noorulain's picture

خلاؤں میں معلق ہو گیا تھا/rafiq sandeelvi

خلاؤں میں معلق ہو گیا تھا
مجھے اس رات جانے کیا ہوا تھا

کچھ ایسی تیز سانسیں چل رہی تھیں
منڈیروں پر دیا بجھنے لگا تھا

مرے اونٹوں کی کونچیں کاٹ کر پھر
قبیلے نے کوئی بدلہ لیا تھا

کئی کتے اچانک بھنک اٹھے تھے
گلی میں کوئی سایہ رینگتا تھا

مری ملکہ کی ساتوں بیٹیوں پر
کسی ڈائن نے جادو کر دیا تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا/rafiq sandeelvi

جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا
وہی اک روز پھانسی چڑھ گیا تھا

دیے تھے جس نے کپڑے شہر بھر کو
وہی بازار میں ننگا ہوا تھا

بڑی محنت سے جس نے ہل چلائے
اسی کی فصل کو کیڑا لگا تھا

جنہوں نے بند کیں نیلام گاہیں
انہی ہاتھوں کا سودا ہو رہا تھا

جو چہرے پہلے ہی سے زشت رو تھے
انہی پر کوڑھ کا حملہ ہوا تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

پتہ میں اس محل کا پوچھتا تھا/rafiq sandeelvi

پتہ میں اس محل کا پوچھتا تھا
جہاں ہر در طلائی دھات کا تھا

جہاں کھلتے تھے غرفے دل کی جا نب
جہاں رہتا کیوپڈ دیوتا تھا

بنفشی آئینوں کی اک روش پر
ہوا کے رتھ پہ سورج گھومتا تھا

بچھی تھی فرش پر چاندی کی چادر
اور اس پر اک ستارا ناچتا تھا

جہاں فوارے تھے بارہ دری میں
جہاں پانی میں روشن قمقمہ تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

خلا میں جست بھرنا جانتا تھا/rafiq sandeelvi

خلا میں جست بھرنا جانتا تھا
مگر میں پہلے زینے پر کھڑا تھا

مجھے اڑنے کی شکتی مل گئی تھی
مگر مین پیٹ کے بل رینگتا تھا

ہزاروں اونٹ میری ملکیت تھے
مگر میں پا پیادہ چل رہا تھا

مرے احکام کی تابع تھیں نیندیں
مگر میں تھا کہ شب بھر جاگتا تھا

خطابت گو مرے گھر کی تھی لونڈی
مگر میں ٹوٹے جملے بولتا تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

ستاروں کا جنازہ اُٹھ رہا تھا/rafiq sandeelvi

ستاروں کا جنازہ اُٹھ رہا تھا
ہوا کے ساتھ بادل چیختا تھا

کیا تھا چاک پانی نے گریباں
اندھیرا سر میں مٹی ڈالتا تھا

پہاڑی سے نہیں اترا تھا ریوڑ
گڈریا رات بھر روتا رہا تھا

کوئی شے بھی نظر آتی نہیں تھی
مری آنکھوں پہ پردہ پڑ گیا تھا

پچھل پائی مرے پیچھے لگی تھی
میں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتا تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

بغاوت کر کے وہ پچھتا رہا تھا/rafiq sandeelvi

بغاوت کر کے وہ پچھتا رہا تھا
جب اس کے قد سے پانی بڑھ گیا تھا

حویلی میں چڑیلیں آ گئیں تھیں
کوئی اس رات چھت پر دوڑتا تھا

سڑک پر خون کے چھینٹے پڑے تھے
کوئی گاڑی تلے کچلا گیا تھا

میں وہ گوتم تھا جس نے جنگلوں سے
رہاست کی طرف منہ کر لیا تھا

ہوئی تھیں کُند میری پانچوں حسیں
چھٹی حس کا ہی سارا معجزہ تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

یکایک ہیر کو غصہ چڑھا تھا/rafiq sandeelvi

یکایک ہیر کو غصہ چڑھا تھا
کوئی رنگلے پلنگ پر سو رہا تھا

جسے مارا تھا اس نے چھمکیوں سے
اسے بھینسوں کا کاماں رکھ لیا تھا

اسی کے واسطے کوٹی تھی چوری
اسی کی بانسری پر سر دھنا تھا

لڑی تھی کیدو سے اس کے لئے ہی
بہت ماں باپ سے جھگڑا کیا تھا

بڑے صدمے سہے تھے اس کی خاطر
مگر ڈولی کو کھیڑا لے گیا تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

زمیں پر اژدہا پھنکارتا تھا/rafiq sandeelvi

زمیں پر اژدہا پھنکارتا تھا
کوئی کاہن خلا میں گھورتا تھا

رکابی میں دھری تھیں سرخ آنتیں
پیالے میں لہو رکھا ہوا تھا

پڑا تھا دودھ خالی کھوپڑی میں
دھواں برتن کے منہ سے اٹھ رہا تھا

کہیں دیوار سے کھالیں ٹنگی تھیں
کہیں مُردے کا پنجر جھولتا تھا

کہیں چربی پگھلتی تھی چتا پر
کہیں شعلوں پہ مینڈک بھن رہا تھا

رفیق سندیلوی

Syndicate content