Popular

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
noorulain's picture

نہیں ،اس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں تھی/rafiq sandeelvi

نہیں ،اس وقت میرے پاس کوئی شے نہیں تھی
فقط اک خواب تھا اور ایک صبح ِ نیلمیں تھی

ستارے بجھ رہے تھے جا نماز ِ جسم و جاں پر
مگر اک کشف کی مشعل نَفَس میں جاگزیں تھی

کسی کو علم ہی کیا تھا،مری شمع ِ مسافت
زمیں جس منطقے پر ختم ہوتی تھی،وہیں تھی

بظاہر سب کے سوکھے جسم جل تھل ہو گئے تھے
مگر وہ اک فریب ِ آب تھا بارش نہیں تھی

مجھے بھی موت کا یہ تجربہ کرنا تھا اک دن
خوشی سے جان دے دی تھی کہ جان ِ اولیں تھی

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

ستارے دیکھیں گے اب مجھکو مرتکز ہوتے/rafiq sandeelvi

ستارے دیکھیں گے اب مجھکو مرتکز ہوتے
کسی طبق میں سمانا ہے آج رات مجھے

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

کسی کے لمس سے پہلے بدن غبار کیا/Rafiq sandeelvi

کسی کے لمس سے پہلے بدن غبار کیا
پھر اُس کے بعد جنوں کی ندی کو پار کیا

انہیں بگاڑ دیا جو صفوں کے ربط میں تھیں
جو چیزیں بکھری ہوئی تھیں انہیں قطار کیا

بنی تھین پردہ ء جا ں پر ہزار ہا شکلیں
خبر نہیں کسے چھوڑا کسے شمار کیا

اندھیری شب میں تغیر پذیر تھی ہر شے
بس ایک جسم ہی تھا جس پہ انحصار کیا

مرے مکان ِ جسد پہ مری حکومت تھی
کہ خود ہی غلبہ کیا خود ہی واگذار کیا

وجود ِ خاک تھا ،دریا سے جنگ کی میں نے
کہ سطح ِ آب کو میدان ِ کار زار کیا

کشش نے کھینچ لیا تھا زمین پر مجھکو
سو گرتے گرتے بھی میں نے خلا شکار کیا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

بارش کی دیوار کے پیچھے پھرتا تھا/rafiq sandeelvi

بارش کی دیوار کے پیچھے پھرتا تھا
سورج سر پہ ایندھن لادے پھرتا تھا

سبز حرارت دوڑ رہی تھی پانی میں
موسم برف کے کپڑے پہنے پھرتا تھا

بیٹھ گیا تھا چاند زمیں کے پاؤں میں
اوج ِ خلا سے ناطہ توڑے پھرتا تھا

دور، کُرے پر شور مچا تھا آندھی کا
بادل کان میں انگلی ڈالے پھرتا تھا

قوس ِ قزح کا آبی خطہ آنکھوں میں
رنگوں کا دوشالہ اوڑھے پھرتا تھا

جاگ رہا تھا سایہ دھوپ کی مٹھی میں
برف کا تودہ آنکھیں موندے پھرتا تھا

سرخ بگولے پیچھے پیچھے پھرتے تھے
قطبی تارا آگے آگے پھرتا تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

جنوں کی آخری حد کیا ہے مجھکو کیا معلوم/rafiq sandeelvi

جنوں کی آخری حد کیا ہے مجھکو کیا معلوم
میں آشنائے بدن اور دست و پا معلوم

بھڑک رہی ہے مرے گرد اک طلسمی لَو
رکھا ہُوا ہے سرہانے چراغ ِ نا معلوم

فشار ِ خاک میں ہوں اور ارتکاز ِ آب
کہاں کہاں مجھے لے جائے گا خدا معلوم

میں روک دوں گا کسی روز دھڑکنیں دل کی
کروں گا مر کے کبھی راز موت کا معلوم

اندھیری رات نے پوچھا مرے بدن کا پتہ
نہیں تھا علِم مجھے ، پھر بھی کہ دیا معلوم
رفیق سندیلوی

noorulain's picture

کہاں پر ہیں مرے دیوار و در پانی نے سوچا/rafiq sandeelvi

کہاں پر ہیں مرے دیوار و در پانی نے سوچا
تھمے گا کن نشیبوں میں سفر پانی نے سوچا

کہاں تک ابر کے زنداں میں ٹھہریں گے مرے پاؤں
لپٹ کر آسماں سے رات بھر پانی نے سوچا

کبھی لہروں کو سوتا چھوڑ کر دریا سے نکلوں
قدم رکھوں کبھی صحراؤں پر پانی نے سوچا

ابھی کرنا ہے ماتم کشتیء غرقاب کا بھی
پٹخنا ہے ابھی ساحل پہ سر پانی نے سوچا

زمیں کے تین حصوں پر ہے میری حکمرانی
بنے گا خاکداں کب تک سپر پانی نے سوچا

کبھی یلغار کر دوں شب کے کالے بازؤوں پر
بجھا ڈالوں کبھی شمع ِ سحر پانی نے سوچا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

زمیں کی تہ میں کوئی خزانہ نہیں رہے گا/rafiq sandeelvi

زمیں کی تہ میں کوئی خزانہ نہیں رہے گا
یہ خاکدان ِ بدن توانا نہیں رہے گا

وہ ساعت ِ انہدام ہو گی کہ شش جہت میں
کسی بھی ذی روح کا ٹھکا نہ نہیں رہے گا

پڑا رہوں گا میں ایک صحرائے جسم و جاں میں
کسی طرف میرا آنا جانا نہیں رہے گا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

قطرہ ہوں سر ِ آب سے نکلوں گا کسی رات/rafiq sandeelvi

قطرہ ہوں سر ِ آب سے نکلوں گا کسی رات
میں کالبد ِ خواب سے نکلوں گا کسی رات

رفیق سندیلوی

Syndicate content