Popular

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
noorulain's picture

ہم آسمان کی زمام تھامے گزر رہے تھے/rafiq sandeelvi

ہم آسمان کی زمام تھامے گزر رہے تھے
فرشتے جب شانہءزمیں پر اُتر رہے تھے

ہِمیں نے براق موسموں میں وجود پایا
ہِمیں نجس رُت میں دھول بن کر بکھر رہے تھے

سماوی پتھر کہیں دہانوں پہ رُک نہ جائیں
ہم ارضی غاروں کی سمت جانے سے ڈر رہے تھے

کبھی جنم لے رہے تھے آواز ِ آئینہ میں
کبھی زنگار ِ صدا کی باہوں میں مر رہے تھے

چھپے رہے تھے کبھی اندھیرے کی برجیوں میں
کبھی سر ِ عام کنگرہء نور پر رہے تھے

کبھی پھلوں سے جھکی رہی تھیں ہماری شاخیں
کبھی سرے سے درخت ِ جاں بے ثمر رہے تھے

جہاں مَیں آب ِ سیاہ میں غرق ہو رہا تھا
اُسی جگہ سے سفید ٹیلے ابھر رہے تھے
رفیق سندیلوی

noorulain's picture

کسی منطقے سے مرا گزر نہیں ہو رہا/rafiq sandeelvi

کسی منطقے سے مرا گزر نہیں ہو رہا
کئی کوس چل کے کُھلا ، سفر نہیں ہو رہا

کوئی آسماں نہیں بن رہا مرا ہم قدم
کوئی خاکداں مرا مستقر نہیں ہو رہا

یہ عجیب شب ہے کہ ہو رہی ہے طویل تر
یہ عجیب دن ہے کہ مختصر نہیں ہو رہا

کوئی جنگ ہے جو نہیں بدن سے نہیں لڑی گئی
کوئی معرکہ ہے جو مجھ سے سر نہیں ہو رہا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

میں دن کا سلسلہ دن سے ملانے والا تھا/rafiq sandeelvi

میں دن کا سلسلہ دن سے ملانے والا تھا
کہ درمیان میں اک رات آن کودی دی تھی

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

ارض و سما تبدیل کرے گا جادہ میرا/rafiq sandeelvi

ارض و سما تبدیل کرے گا جادہ میرا
سورج،شب اور پانی سے ہے وعدہ میرا

پیڑ،ستارے،عورت، دودھ اور میٹھی نیندیں
چھن سکتا ہے مجھ سے رزق کشادہ میرا

سات طبق،چھ جہتیں ،چاروں کھونٹ عمامہ
اور ستارہ چوغہ ، چاند لبادہ میرا

کچھ میدان سے باہر ، کچھ میدان میں ہوگا
نصف بدن اسوار اور نصف پیادہ میرا

ساری جنسوں ، سب اعداد کا موجد ہوں میں
جفت اور طاق ہیں میرے نر اور مادہ میرا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

جسم کے تاریک لشکر سے بچائے گا مجھے/rafiq sandeelvi

جسم کے تاریک لشکر سے بچائے گا مجھے
اک ستارہ رات کے شر سے بچائے گا مجھے

میرے پہرے پر مقرر ہوگا باہر سے بدن
اور مرا یہ نفس اندر سے بچائے گا مجھے

مجھ کو صحرا سے بچائے گی اسی صحرا کی ریت
اور یہی پانی سمندر سے بچائے گا مجھے

موت جس ساعت مجھے آنی ہوئی آ جائے گی
کون زہر آلود خنجر سے بچائے گا مجھے

یہ پناہ ِ بام و در بزدل کرے گی اور بھی
اک کھلا میدان ہی ڈر سے بچائے گا مجھے

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

عجب اک بے سکونی ہے،عجب اک بے خیالی ہے/rafiq sandeelvi

عجب اک بے سکونی ہے،عجب اک بے خیالی ہے
کہ میری گردشِ باطن مکمل ہونے والی ہے

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

کمر سے بوجھ قبرستان کا اُترے کسی دن/rafiq sandeelvi

کمر سے بوجھ قبرستان کا اُترے کسی دن
کہ اب چھلکا مری پہچان کا اُترے کسی دن

کبھی اترا نہیں جو مسندِ آبِ رواں سے
زمیں پر پاؤں اس انسان کا اُترے کسی دن

کبھی دروازہء مرگِ بدن سے میں بھی گزروں
مرے سر سے بھی صدقہ جان کا اُترے کسی دن

کسی دن جفت ساعت میں دُعا کا ہاتھ تھامے
ہیولا سا مرے مہمان کا اُترے کسی دن

نکل آئے کبھی پھر بیچ میں سے خاک چہرہ
بنفشی رنگ میرے دھیان کا اُترے کسی دن

کبھی میں جذب کے عالم میں ہو جاؤں برہنہ
لبادہ پھر مرے وجدان کا اُترے کسی دن

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

ایک سیاہ بشارت والے ڈر کے ساتھ گزاری/rafiq sandeelvi

ایک سیاہ بشارت والے ڈر کے ساتھ گزاری
میں نے پہاڑ کے اک درے میں ساری رات گزاری

پہلے آنکھ کی شہ رگ کاٹی اور اس فعل کے پیچھے
اک تاریک سرنگ سے میں نے اپنی ذات گزاری

اس برکھا میں بھورے رنگ کی مٹی نے آ گھیرا
سرخ غبار کے چو رستے میں یہ برسات گزاری

رفیق سندیلوی

Syndicate content