Popular

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
noorulain's picture

میں رات کے بے درخت رستے پہ آ گیا تھا/rafiq sandeelvi

میں رات کے بے درخت رستے پہ آ گیا تھا
مرا ستارہ زمیں کے نقطے پہ آ گیا تھا

لکھی تھی پانی کی موت میری۔اسی لئے تو
جہاز سے میں نکل کے عرشے پہ آ گیا تھا

بدل رہا تھا نظام ِ شمسی مدار ِ جاں میں
لہو کا خورشید ڈیڑھ نیزے پہ آ گیا تھا

مجھے ٹھکانہ نہیں ملا تھا کسی طبق پر
میں تھک کے خاکی بدن کے ٹیلے پہ آ گیا تھا

مری صدا گھوم کر عطارد پہ آ گئی تھی
اُبھر کے وہ بھی زحل کے پردے پہ آ گیا تھا

جمے ہوئے تھے مرے قدم آسماں کے سر پر
زمیں کا بوجھ میرے کندھے پہ آ گیا تھا
رفیق سندیلوی

noorulain's picture

عجیب خطہء تعبیر خواب کو دوں گا/rafiq sandeelvi

عجیب خطہء تعبیر خواب کو دوں گا
میں ایک خاک کی جاگیر خواب کو دوں گا

میں کاٹ دوں گا اندھیرے میں اُس شبیہ کا ہاتھ
کسی طلسم کی شمشیر خواب کو دوں گا

رکھوں گا ایک طلائی ستارے کی بنیاد
اور ایک وعدہء تعمیر خواب کو دوں گا

بدن سے پھوٹے گی لذت ،مٹھاس اورخوشبو
شراب و عورت و انجیر خواب کو دوں گا

میں جیت لوں گا کسی رات چاند کا میدان
اور ایک جراءت تسخیر خواب کو دوں گا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

کسی آزمائش و امتحاں میں پڑا رہا/rafiq sandeelvi

کسی آزمائش و امتحاں میں پڑا رہا
میں سیاہیء شب ِ خاکداں میں پڑا رہا

میں کہ علم ِ غیب نہ جانتا تھا مگر یہ دل
کسی آب ِ کشف ِ رواں دواں میں پڑا رہا

کوئی سالمہ تھا جنون کا مرا خواب بھی
سو اسی لئے مری چشم ِ جاں میں پڑا رہا

مری شش جہات میں کوئی آخری حد نہ تھی
میں وسیع تھا، سر ِ لا مکاں میں پڑا رہا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

پڑاؤ کرنے پس ِ لا مکاں رُکا تھا میں/rafiq sandeelvi

پڑاؤ کرنے پس ِ لا مکاں رُکا تھا میں
رُکا نہ جس جگہ کوئی وہاں رُکا تھا میں

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

جو کلید ِ قفل ِ نجات ہے وہی شے عطا نہیں ہو رہی/rafiq sandeelvi

جو کلید ِ قفل ِ نجات ہے وہی شے عطا نہیں ہو رہی
کسی ڈھنگ سے کسی کام کی کوئی ابتدا نہیں ہو رہی

مرے پاؤں سینکڑوں سال تک رہے جادہ گیر اِدھر اُدھر
مگر ایک چپہ زمین بھی مری آشنا نہیں ہو رہی

کہیں ایک نقطے پہ رک گیا ہے نظام ِ کون و مکان بھی
کوئی شے جنم نہیں لے رہی کوئی شے فنا نہیں ہو رہی

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

سیاہ رات ہو ،ہر شے کو نیند آئی ہو/rafiq sandeelvi

سیاہ رات ہو ،ہر شے کو نیند آئی ہو
مرے وجود کی تقریب ِ رونمائی ہو

رکھا گیا ہو ہر اک خواب کو قرینے سے
زمین ِ حجلہء ادراک کی صفائی ہو

اس اعتکاف ِ تمنا کی سرد رات کے بعد
میں جل مروں جو کبھی آگ تک جلائی ہو

کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے ،ساعت ِ موجود
مجھے قدیم زمانے میں کھینچ لائی ہو

نکل پڑوں میں کوئی مشعل ِ فسوں لے کر
قیام گاہ ِ ابد تک مری رسائی ہو

میں اُس کے وار کو سانسوں کی ڈھال پر روکوں
سوار ِ مرگ سے گھمسان کی لڑائی ہو

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

دل کے زیریں طبقے میں تاریکی تھی/rafiq sandeelvi

دل کے زیریں طبقے میں تاریکی تھی
سب سے روشن تارے میں تاریکی تھی

شب کی تھیلی بھری ہوئی تھی کرنوں سے
دل کے خالی بستے میں تاریکی تھی

جس میں چھپ کر مَیں صدیوں سے بیٹھا تھا
اس کہسار کے درے میں تاریکی تھی

جسم و خلا میں سانس اور تارے غائب تھے
شام اور موت کے سائے میں تاریکی تھی

سبز شعاعیں پھوٹ رہی تھیں ٹاپوں سے
اور سوار کے رستے میں تاریکی تھی

تیر رہا تھا سورج خواب کے پانی میں
آنکھ کے آخری حصے میں تاریکی تھی
رفیق سندیلوی

noorulain's picture

بدن کے خاکداں میں اور کیا رکھا ہوا ہے/rafiq sandeelvi

بدن کے خاکداں میں اور کیا رکھا ہوا ہے
اندھیری رات کا اندوختہ رکھا ہوا ہے

کسی دن عنصر ِ خاکی سے نکلوں گا دبے پاؤں
کہ میں نے بھی ارادہ موت کا رکھا ہوا ہے

بجھا ہے جسم لیکن جسم کی محراب اندر
جلا کر اک چراغ ِ لامسہ رکھا ہوا ہے

زمین ِ خواب ہوں اور میں نے اپنے آئینے میں
نہیں معلوم کس کا عکس ِ پا رکھا ہوا ہے

ستارہ رات کا ہوں اور مَیں نے گھومنے کو
خلا میں کھینچ کر اک دائرہ رکھا ہوا ہے

رفیق سندیلوی

Syndicate content