Q-Z

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

مہرباں دوستوں کی عنائیتیں و نوازشیں

مہرباں دوستوں کی عنائیتیں و نوازشیں
سرمایہ حیات ہیں میرے لئیے

انکے میٹھے بول کانوں میں اب بھی رس گھو ہیں
نہ جانے کس دشمن کی نظر ہوئی ہماری دوستی کو
کہ دوست دوست نہ رہا
گھر گھر نہ رہا
بہن بہن نہ رہی
بھائی بھائی نہ رہا

سنو اے سماج کے ظالمو!
ان رشتوں کو نہیں توڑتے
تمھیں کیا خبر کہ تمھاری یہ موجودہ لغزشیں
کسی مخلص پر ایک توپ کی مانند گرتی ہیں

رشتوں کو نہیں توڑتے
گھر نہیں چھوڑتے
بناوٹی باتوں میں آکر تم حقائق کو نہ بھولو
یہ دنیا تم پر ہنسے گی سنو اے دوستو
واپس لوٹ آو، اور بزم سجا لو دلوں کی
سنو! پھر سنو!
اسکے بعد آواز نہیں دیجائے گی ، اس سے قبل کہ
یہ روح جس کے تم دشمن ہو پرواز کر جائے
واپس لوٹ آو

نئے عزائم پیدا کریں ، تمام نفرتیں دور کریں
شکستہ دلوں کی دیواروں کو پھر سے جوڑیں
سنو تم لوٹ آو، سنو بہنو یہ ناراضگی المیہ ہے

سنو لوٹ آو
کہ تمھارے ساتھ گزارے چند دن میرے لئیے
مشعل راہ ہیں ، روشنی ہیں ، سہارا ہیں
لوٹ آو ، میری فیملی کے دوستو لوٹ آو

شکیل اے چوھان ( نثری نظم)

Guest Author's picture

دلوں کے موسموں کا خیال رکھنا پڑتا ہے،

دلوں کے موسموں کا خیال رکھنا پڑتا ہے،
ابر آلود موسموں میں
جب ہم خیال کرتے ہیں
کہ
بارش ہونے والی ہے ،
لیکن
اکثر بادل گرج چمک کے بعد
خاموشی اختیار کر لیتا ہے
اور
پھر یوں بارش نہیں ہوتی
لیکن
اگر اس ابر آلود موسم میں کبھی بارش ہو جائے
تو
وہ بارش اکثر تھم کر نہیں برستی،
وہ بارش کچی جھونپڑیوں کا خیال نہیں رکھتی
اور
ہم پھر ایک نئ پر امید صبح کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں
کہ
شاید
آنے والی کل کا موسم ایک خوشگوار موسم ہو
لیکن
اب کی بار ابر آلود موسم کی بارشیں شاید ہمارے دلوں کے گھروں کو بھی پہنچیں
اور
جیسے خزاں رسید پتے بارش کے بعد اکثر ہرے ہو جاتے ہیں
تو
میرا خیال ہے کہ یہ بارش موسم کا خیال رکھے گی،
کیونکہ
دلوں کے موسموں کا خیال رکھنا پڑتا ہے

Guest Author's picture

تجھے میںکیا لکھوں:

تجھے میں کیا لکھوں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تجھے میں کیا لکھوں ،تیرے نام میں کیا پیام لکھوں
مجھے
کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اے محبوب میں تجھے کیا لکھوں
کیونکہ
تو حسن پیکر ، پارسا سیرت و کردار ہے
تو
چلو
میں تمھیں زندگی کی کتاب لکھ دیتا ہوں
لیکن
تمھیں تو سب خبر ہے اے جان تمنا!
کہ
میری یہ کتاب کوئی اور نہیں پڑھے گا
جب
میری روح پرواز کر جائے گی
تو میرے تمام احباب
میری یہ تخلیق دیکھیں گے
اور
میری تمام تخلیقات میں صرف تمھارا ہی نام ہو گا
اور اس کتاب کو میں تمھارے نام منسوب کروں گا
تو وہ احباب جو عزیز جاں تھے
میری اس کتاب
میں کوئی دلچسپی نہیں لیں گے
کیونکہ
میری کسی تخلیق میں تمھارے سوا کسی کا نام نہیں ہو گا
اور شہرت کے دلدادہ میرے تمام احباب
اس کتاب کی ورق گردانی کرنے کے بعد
اس
کتاب کو الٹا کر کے رکھ دیں گے
لیکن
تمھارے لئیے یہ کتاب بہت معنی خیز رہے گی
اور تم اکثر خزاں رتوں میں اس کا مطالعہ کرتے رہو گے
اور ایک بے نام سے بندھن کی کیفیات کی طرح
کسی
عاشق خاص کی طرح مجھے یاد کرو گے
اور میری تمام تحریریں جو بہار اور خزاں رتوں میں
میں
نے تمھارے نام رقم کی تھیں
ان سے اپنے آپ کو بہلاو گئے
اور
میری روح کو قرار آ جائے گا ، میری تحریر تمھیں اپنے حصار میں رکھے گی
اور اس حصار میں تم حسن کردار سے
اپنے آنے والے کل کے لئیے سوچو گئے
تو میری کتاب کی تکمیل ہو گی۔

شکیل اے چوھان

Guest Author's picture

اب کوئی تاج محل نہیں بنے گا

اب کوئی تاج محل نہیں بنے گا
اب کوئی تاج محل نہیں بنے گا
ممتازوں نے پیدا ہونا چھوڑ دےا
شاہ جہان سے گزر گئے
اب معیارات بھی زمانے کے بدل گئے
شہناشاہوں کی جگہ جمہوریت نے سہرے باندھ لیے
محلوں کی جگہ ایوانوں نے لے لی....
غریبوں کی محبت پہلے بھی رسوا ہوتی تھی
غریبوں کی محبت اب بھی....رسوا ہوتی ہے
جگہ جگہ....
دعوتِ نظارہ دیتے....
چمکتے اور دمکتے بدن
کوچہ بازار میں بکتے ہیں
محبتوں کے کاروبار میں
اب محبتیں بکتی ہیں
اور لوگ پھر بھی....
اس کو محبت کہتے ہیں

Guest Author's picture

مل جاتے گرہم

مل جاتے گرہم
مل جاتے گر ہم تو
جذبوں کی زبان ملتی
مگر ہم تو چلتے ہی رہے
ندی کے دو کناروں کی طرح
ساتھ چل کر بھی نہ ملے
جذبے ہمارے ادھورے رہے
ان ناآسودہ جذبوں کی آگ
کتنی سرد ہے!
تمہارے ہاتھوں کی طرح
جیسے برف باری کا موسم ہو اور برف نہ گرے
بہار آئے اور پھول نہ کھلےں....
ساون آئے اور بارش نہ برسے
لفظ ہمیشہ....
لبوں کی تھر تھڑاہٹ کے نیچے دم توڑ گئے
جذبے اناکی بھینٹ چڑھ گئے
انہیں معفوم دینے کی چاہ میں
بنجر کر دیا
ضمیر آفاقی

Guest Author's picture

تم کیا تھے

تم کیا تھے

تم کا تھے
جب یہ جانا
تو دیر بہت ہو چکی تھی
بنا دیکھے بنا جانے
ہم نے تو تن من وار دےا
تمہارا یہ کہنا کہ
تم بن جاناں
زندگی ادھوری
نا مکلمل سی ہے
دن تو بہت بڑی بات ہے
اک لمحہ نہےں کٹتا۔
فیس بک کی ملاقات کو ہی مکمل ملاقات سمجھتے رہے
ہم سمجھتے رہے کہ تم
صرف ہمارئے لئے ہی آتے تھے
اور ہم ناز کرتے تھے تمہاری محبت پر
مگر بھید یہ کھلا کہ
فےس بک پے دوستیاں بنانا
اور گپ شپ کرنا
تمہاری ہابی تھی
اور ہماری محبت تمہاری ہابی کی نظر ہو گئی
ضمےر آفاقی
۷۲ جولائی

Guest Author's picture

لگتا نہیں ہے جی میرا اجڑے دیار میں۔

لگتا نہیں ہے جی میرا اجڑے دیار میں۔
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں۔
کہہ دو حسرتوں سے کہیں اور جاکر بسیں۔
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں۔
عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن۔
دو آرزو میں کٹ گئیں دو انتظار میں۔
کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغبان۔
یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں۔
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے۔
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

Guest Author's picture

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں

دور تک کوئی ستارہ ہے نہ جگنو کوئی
مرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں

میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں

کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرف دار نظر آتے ہیں

Syndicate content