Q-Z

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

ye muj se kis tarha ki zid dil_e_barbad karta he

ye muj se kis tarha ki zid dil_e_barbad karta he
main jis ko bhoolna chahun usi ko yaad karta he

Guest Author's picture

صرف تمہارے لیے

صرف تمہارے لیے
صر ف تمہارے لیے ،جانِ جاناں
گزرا برس بیت گیا
جو بیت گیا سو بیت گیا
گزرے برس بھی ہم نے مانگیں تھیں
بہت دعائیں تمہارے لئے
اب کے برس کے پہلے لمحے
ہمیں یہ دعا مانگنے دو ،جاناں
کوئی پل نہ تمہارا اداس گزرے
کسی دکھ کا شائبہ نہ تمہارے پاس آئے
تو پھولوں کی طرح کھلتی رہے،
تو خوش رہے آباد رہے
تیرا خواب نگر آباد رہے
تو جو چاہے وہ ہو جائے
تو جو مانگے وہ مل جائے
غم و یاس کبھی بھی تیرئے پاس نہ رہے
تو کرن ہے ،اجالا بن کے دل میں
میر ئے ہمیشہ آباد رہے
ضمیر آفاقی
یکم جنوری دو ہزاربارہ

Guest Author's picture

میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔؟

میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔؟
بہت خوبصورت جذبے لے کر چلا تھا میں
بڑئے معصوم اور سچے تھے
اور۔۔ میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔
جذبوں کی سچائی کے علاوہ۔
مگر بازار وفا میں۔۔
ان کی قدرو قیمت کہاں؟
اور۔۔۔اب میں!
جذبوں کی بوسیدہ لاش۔۔
اپنے کندھوںپر اٹھائے۔۔
جھوٹ کی قبر میں دفن کرنے جارہا ہوں
ریا کاری کی چادر چڑھاوں گا اس پر
اور پھول نفرتوں کے ڈالوں گا !
کہ۔۔۔۔جذبوں کا دفن ہو جانا ہی۔،
شائد۔۔!
میرئے حق میں بہتر ہو۔۔!
ضمیر آفاقی۔29 جون لاہور

Guest Author's picture

میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔؟

میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔؟
بہت خوبصورت جذبے لے کر چلا تھا میں
بڑئے معصوم اور سچے تھے
اور۔۔ میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔
جذبوں کی سچائی کے علاوہ۔
مگر بازار وفا میں۔۔
ان کی قدرو قیمت کہاں؟
اور۔۔۔اب میں!
جذبوں کی بوسیدہ لاش۔۔
اپنے کندھوںپر اٹھائے۔۔
جھوٹ کی قبر مےں دفن کرنے جارہا ہوں
ریا کاری کی چادر چڑھاوں گا اس پر
اور پھول نفرتوں کے ڈالوں گا !
کہ۔۔۔۔جذبوں کا دفن ہو جانا ہی۔،
شائد۔۔!
میرئے حق میں بہتر ہو۔۔!
ضمےر آفاقی۔29 جون لاہور

Guest Author's picture

خود فریبی

خود فریبی
یہ دل کا درد بھی عجیب ہے
محبت یہ چاہت کیا چیز ہے
خود فریبی کے رشتے بنتے بنتے
راہوں کے کانٹے چنتے چنتے
اپنی ذات کے موسم مےں گم ہوں
گم ہوں اس طرح!
کہ۔۔۔کسی بھی بات کا ہوش نہیں
سوچوں کے گرداب میں بھٹکتا ہوا
سوچتا ہوں۔۔
کہ۔۔۔ تو بھی۔۔۔
مجھے ایسے ہی سوچتا ہو گا
چاہتا ہو گا
میری یادوں سے دل کو جلاتا ہو گا
یا پھر میری طرح
خود فریبی سے دل کو بہلاتا ہو گا
ضمیر آفاقی

Guest Author's picture

خود فریبی

خود فریبی
یہ دل کا درد بھی عجیب ہے
محبت یہ چاہت کیا چیز ہے
خود فریبی کے رشتے بنتے بنتے
راہوں کے کانٹے چنتے چنتے
اپنی ذات کے موسم مےں گم ہوں
گم ہوں اس طرح!
کہ۔۔۔کسی بھی بات کا ہوش نہیں
سوچوں کے گرداب میں بھٹکتا ہوا
سوچتا ہوں۔۔
کہ۔۔۔ تو بھی۔۔۔
مجھے ایسے ہی سوچتا ہو گا
چاہتا ہو گا
میری یادوں سے دل کو جلاتا ہو گا
یا پھر میری طرح
خود فریبی سے دل کو بہلاتا ہو گا
ضمیر آفاقی

Guest Author's picture

خواب دیکھا کرو

خواب گذ شت

خواب کیا چیز ہیں ؟
جانتا ہے کویٔ؟
خواب ہوتے ہیں کیا ؟

خواب وہ ہیں ، جسے ۔ ۔ ۔ ہم کو پانا ہے ؟
یا ہے کرامات ۔ ۔ ۔ ؟ ہم جس کے ہوں منتظر !

لوگ کہتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔
خواب تو خواب ہیں ، یہ حقیقت نہیں !
تم نہ دیکھو انہیں ، کچھ نہیں پاؤ گے !!

دل یہ کہتا ہے کہ ۔ ۔ ۔
لوگ کہتے ہیں جو ۔ ۔ ۔ مان بھی لیں
اگر ۔ ۔ ۔
عہدِ فردا کو بھی دیکھ آۓ ہیں وہ !!!

خواب جھوٹے بھی ہوسکتے ہیں لوگ بھی
خواب دیکھا کرو ۔ ۔ ۔ ۔

شاعر ۔ یحییٰ خان یوسف زیئ ۔ پونہ ۔ انڈیا

Kishwar Naheed

Kishwar Naheed(1940) (Urdu: کشور ناہید), Sitara-e-Imtiaz is an Urdu poet from Pakistan known for her pioneering feminist poetry.

Life and Family
Born in 1940 in a Syed family of Bulandshahr, India, Kishwar was a witness to the violence (including rape and abduction of women) associated with partition, and herself moved with her family to Pakistan in 1949.

Kishwar had to fight to receive an education at a time when women did not go to school; she studied at home and obtained a high school diploma through correspondence courses, but went on to receive a masters degree in Economics from Punjab University, Lahore.

Kishwar was married to Poet Yousuf Kamran, raised two sons with him as a working woman, and then continued to support her family after his death in the Eighties.

Works
Kishwar Naheed held administrative roles in various national institutions. She was Director General of Pakistan National Council of the Arts before her retirement. She also edited a prestigious literary magazine Mahe naw and founded an organisation Hawwa (Eve) whose goal is to help women without an independent income become financially independent through cottage industries and selling handicrafts.

Kishwar has published six collections of poems between 1969 and 1990. She also writes for children and for the daily Jang, a national newspaper.

Her poetry has been translated into English and Spanish and her famous poem We Sinful Women gave its title to a ground breaking anthology of contemporary Urdu feminist poetry translated and edited by Rukhsana Ahmad published in London by The Women's Press in 1991.

Awards
    Adamjee Prize of Literature on Lab-e-goya (1969)
    UNESCO Prize for Children's Literature on Dais Dais Ki Kahanian
    Best Translation award of Columbia University
    Mandela Prize (1997)
    Sitara-e-Imtiaz (2000)

How is Kishwar Naheed searched
Our users mostly find Kishwar Naheed With following related searches:
Kishwar Naheed poems
کشور ناہید
کشور ناھید
Kishwar Naheed biography
Kishwar Naheed poetry

Help Us:
If you can add or correct something in this biography please help us by commenting below. Our editors would update the article accordingly.
Syndicate content