Rafiq Sandeelvi

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
noorulain's picture

جب اِندر کا اکھاڑا ہو رہا تھا/rafiq sandeelvi

جب اِندر کا اکھاڑا ہو رہا تھا
میں کالے دیو کے ہتھے چڑھا تھا

پری انسان پر عاشق ہوئی تھی
سنہرے دیو کو سکتہ ہوا تھا

پرستاں میں اُداسی چھا گئی تھی
اچانک ختم جلسہ ہو گیا تھا

پری کے سبز پر نوچے گئے تھے
مجھے بھی قید میں ڈالا گیا تھا

مری فرقت میں وہ لاغر ہوئی تھی
میں اُس کے ہجر میں کانٹا ہوا تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

جدھر جاتے ادھر اک راستہ تھا/rafiq sandeelvi

جدھر جاتے ادھر اک راستہ تھا
تم اندھے ہو ہواؤں نے کھا تھا

زمیں،عورت،حویلی اور مویشی
سبھی کچھ غدر میں لُٹ پُٹ گیا تھا

کجاوے،باغ،جھولےاور پنگھٹ
پرانا وقت یاد آنے لگا تھا

برہنہ پشت پر لگتے تھے کوڑے
غلامی کا زمانہ آ گیا تھا

رکی تھیں گھر میں آدم خور راتیں
اندھیرا مجھکو کھانے دوڑتا تھا
رفیق سندیلوی

noorulain's picture

وہ میری میزبانی کر رہا تھا/rafiq sandeelvi

وہ میری میزبانی کر رہا تھا
میں دستر خوان پر بیٹھا ہوا تھا

دھرے تھے میرے آگے سات کھانے
اور اُن میں لمس اس کے ہاتھ کا تھا

چمک اٹھی تھی میری بھوک جیسے
میں صدیوں سے غذا ناآشنا تھا

نوالے بھی بہت نمکیں تھے لیکن
عجب اُس کے لبوں کا ذائقہ تھا

شراب اور گوشت کی اپنی تھی لذت
مگر اس کے بدن کا جو مزا تھا
رفیق سندیلوی

noorulain's picture

بھیانک رات تھی دریا چڑھا تھا/rafiq sandeelvi

بھیانک رات تھی دریا چڑھا تھا
مگر میں تیری کشتی کھے رہا تھا

نگاہیں دھند میں ڈوبی ہوئی تھیں
کہاسا جسم پر چھایا ہوا تھا

میں اندھا یاتری بوڑھا تھا لیکن
وہ تبت کا پہاڑی سلسلہ تھا

محبت پھر ہماری جاگ اٹھی تھی
پلوں کے نیچے پانی آ گیا تھا

لہو میں چھتریاں کھلنے لگی تھیں
میں اپنی چھاؤں میں سستا رہا تھا
رفیق سندیلوی

noorulain's picture

جو سیکھے تھے وہ منتر پڑھ رہا تھا/rafiq sandeelvi

جو سیکھے تھے وہ منتر پڑھ رہا تھا
میں لوہے کے کڑے میں پھنس گیا تھا

بدن میں سوئیاں چبھنے لگی تھیں
عمل سارا ہی الٹا ہو گیا تھا

بھر تھے دانوں سے گودام سارے
مگر ہر پیٹ پر پتھر بندھا تھا

دعائیں مستجب ہوتی نہیں تھیں
خدا پر سے یقیں بھی اٹھ گیا تھا

گرفتِ چشم میں تھا آب ِ باراں
گھٹا میں اس کا چہرہ تیرتا تھا
رفیق سندیلوی

noorulain's picture

وہ اپنے شہر واپس جا رہا تھا/rafiq sandeelvi

وہ اپنے شہر واپس جا رہا تھا
میں اس کے سامنے گم صم کھڑا تھا

یکایک ریل کی سیٹی بجی تھی
مجھے اس نے خدا حافظ کہا

کھلی کھڑکی سے تا حد ِ بصارت
وہ اپنا ہاتھ لہراتا رہا تھا

سمٹ کر چھکڑے نقطہ بن گئے تھے
سٹیشن پر میں تنہا رہ گیا تھا

اندھیری رات کے پھیلے تھے سائے
میں تکیے سے لپٹ کر رو دیا تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

خلاؤں میں معلق ہو گیا تھا/rafiq sandeelvi

خلاؤں میں معلق ہو گیا تھا
مجھے اس رات جانے کیا ہوا تھا

کچھ ایسی تیز سانسیں چل رہی تھیں
منڈیروں پر دیا بجھنے لگا تھا

مرے اونٹوں کی کونچیں کاٹ کر پھر
قبیلے نے کوئی بدلہ لیا تھا

کئی کتے اچانک بھنک اٹھے تھے
گلی میں کوئی سایہ رینگتا تھا

مری ملکہ کی ساتوں بیٹیوں پر
کسی ڈائن نے جادو کر دیا تھا

رفیق سندیلوی

noorulain's picture

جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا/rafiq sandeelvi

جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا
وہی اک روز پھانسی چڑھ گیا تھا

دیے تھے جس نے کپڑے شہر بھر کو
وہی بازار میں ننگا ہوا تھا

بڑی محنت سے جس نے ہل چلائے
اسی کی فصل کو کیڑا لگا تھا

جنہوں نے بند کیں نیلام گاہیں
انہی ہاتھوں کا سودا ہو رہا تھا

جو چہرے پہلے ہی سے زشت رو تھے
انہی پر کوڑھ کا حملہ ہوا تھا

رفیق سندیلوی

Syndicate content