Rafiq Sandeelvi

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

خلقت کا احتجاج تو کم کر دیا گیا

خلقت کا احتجاج تو کم کر دیا گیا
اک بے گناہ کے سر کو قلم کر دیا گا

پچھلے برس جلائی گیءں صرف کھڑکیاں
اب کے تمام گھر ہی بھسم کر دیا گیا

اس خوف سے کہ بچوں کی نشوونما نہ ہو

Guest Author's picture

چارپائی پر دراز اک گنگ پیکر سوچنا

چارپائی پر دراز اک گنگ پیکر سوچنا
گولیوں کے شور میں خندق کے اندر سوچنا

اے سپہ سالار تجھ کو خوں بہا کر کیا ملا
اس محاذ جنگ سے واپس پلٹ کر سوچنا

معتدل آب و ہوا تھی نیتیں بھی ٹھیک تھیں

Guest Author's picture

واپس نہ آئے پھول سے جسموں کو چیرکے

واپس نہ آئے پھول سے جسموں کو چیرکے
جھوٹے تھے کتنے ربط کمانوں سے تیر کے

کھڑکی میں طشت تھامے ہوئے تھا کسی کا ہاتھ
ٹوٹے پڑے تھے کاسے گلی میں فقیر کے

کٹ جائے خیر ہی سے نیابت کا مرحلہ

Guest Author's picture

گل ہی نہیں صلیب پہ سارا چمن چڑھا

گل ہی نہیں صلیب پہ سارا چمن چڑھا
کن فرقتوں کی بھینٹ مرا تن بدن چڑھا

جو جیتے جی برہینہ ہیں ان کو لباس دے
قبروں پہ چادروں کے نہ رنگیں کفن چڑھا

مر جائے یوں نہ ہو ترے اندر کا آدمی

Guest Author's picture

اندھیرے کے تعاقب میں کئی کرنییں لگا دے گا

اندھیرے کے تعاقب میں کئی کرنییں لگا دے گا
وہ اندھا داؤ پر ابکے میری آنکھیں لگا دے گا

مسلسل اجنبی چاپیں اگر گلیوں میں اتریں گی
وہ گھر کی کھڑکیوں پہ اور بھی میخیں لگا دے گا

Guest Author's picture

اس دھرتی پر ایسے آدم بھینٹ چڑھے

اس دھرتی پر ایسے آدم بھینٹ چڑھے
جیسے سورج قبر پہ ریشم بھینٹ چڑھے

تب جا کر اک بیج تناور پیڑ ہوا
مٹی پر جب لاکھوں موسم بھینٹ چڑھے

ایک سپاہی زنداں سے کیا چھوٹا ہے

Guest Author's picture

کھا جائیں نہ چیلیں ہی بیابان میں آنکھیں

کھا جائیں نہ چیلیں ہی بیابان میں آنکھیں
رکھ لینا حفاطت سے قلم دان میں آنکھیں

خوشبو کی طرح پھیلی ہے کمرے میں بصارت
شب چھوڑ گیا کون یہ گل دان میں آنکھیں

نا بینا جنم لیتی ہے اولاد بھی اس کی

Syndicate content