Saleem Kausar

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
سلیم کوثر
IN Khan's picture

بستیاں سنہری تھیں، لوگ بھی سنہرے تھے

بستیاں سنہری تھیں، لوگ بھی سنہرے تھے
کون سی جگہ تھی وہ ہم جہاں پہ ٹھہرے تھے

اک صدا کی ویرانی راستہ بتاتی تھی
اور اپنے چاروں سمت خواہشوں کے پہرے تھے

نے سمے گزرتے تھے، نے پلک جھپکتی تھی
ورنہ اپنی آنکھوں میں رت جگے تو گہرے تھے

اب سلیم اکیلے ہو، ورنہ عمر بھر تم تو
دوستی میں اندھے تھے، دشمنی میں بہرے تھے

IN Khan's picture

تعبیر میں ڈھل رہے ہیں دونوں

تعبیر میں ڈھل رہے ہیں دونوں
اک خواب میں چل رہے ہیں دونوں

اک زہر جڑیں پکڑ رہا ہے
چپ چاپ پگھل رہے ہیں دونوں

وعدوں سے بنا ہوا ہے فردا
تاریخ بدل رہے ہیں دونوں

دونوں کو پتا نہیں ہے اب تک
کس آگ میں جل رہے ہیں دونوں

خورشید افق سے اور میں گھر سے
اک ساتھ نکل رہے ہیں دونوں

IN Khan's picture

کوئی اُجالا اندھیروں سے کام لیتا ہوا

کوئی اُجالا اندھیروں سے کام لیتا ہوا
دیا جلاؤ ہوا سے دوام لیتا ہوا

بدلتا جاتا ہے ترتیبِ واقعہ کوئی
خُود اپنے ہاتھ میں سب اِنتظام لیتا ہوا

اسیرِ قحطِ ہوا ہو گیا ہے آخرِکار
کُھلی فضا میں کوئی تیرا نام لیتا ہوا

گزر رہا ہے ابھی تک گروہ ِ نادیدہ
درونِ خانہ کوئی انتقام لیتا ہوا

ہمارے نام کو بے مثل کرتا جاتا ہے
سُخن دری کا کوئی ہم سے کام لیتا ہوا

غُبارِ شب سے اُلجھتا ہے روز اِک منظر
نشستِ صبح سے تصویرِ شام لیتا ہوا

یہ کون چُھو کے گزرتا ہے روز مجھ کو سلیم
دعائیں دیتا ہوا اور سلام لیتا ہوا

IN Khan's picture

حیرتِ دید لئے حلقہء خُوشبو سے اُٹھا

حیرتِ دید لئے حلقہء خُوشبو سے اُٹھا
میں اُجالے سے اُٹھا یا ترے پہلُو سے اُٹھا

صبح آغاز تری جنبشِ مژگاں سے ہوئی
لشکرِ شام ترے خیمہء ابرُو سے اٹھا

گریہء نیم شبی دستِ دعا تک آیا
اور تری یاد کا شعلہ مرے آنسُو سے اٹھا

میں کہ زندانئ شب تھا پہ گجر بجتے ہی
کیسا خورشید بکف حُجلہء گیسُو سے اٹھا

میں جو درویش نہ صوفی، نہ قلندر ہوں سلیم
رقص کرتا ہوا کیوں مجمعء باہُو سے اٹھا

IN Khan's picture

یوں تو کہنے کو سبھی اپنے تئیں زندہ ہیں

یوں تو کہنے کو سبھی اپنے تئیں زندہ ہیں
زندہ رہنے کی طرح لوگ نہیں زندہ ہیں

جانے کس معرکہء صبر میں کام آ جائیں
لشکری مارے گئے، ایک ہمیں زندہ ہیں

نہ اُنہیں تیری خبر ہے، نہ تجھے اُن کا پتا
کس خرابے میں ترے گوشہ نشیں زندہ ہیں

ایک دیوارِ شکستہ ہے پسِ وہم و گماں
اب نہ وہ شہر سلامت، نہ مکیں زندہ ہیں

حالتِ جبر موافق بھی تو آ سکتی ہے
آسماں دیکھ ترے خاک نشیں زندہ ہیں

منتقل ہوتی ہے سچائی بہرحال سلیم
جو یہاں مارے گئے ، اور کہیں زندہ ہیں

IN Khan's picture

جو سچی بات کرتا تھا، کہاں ہے وہ

جو سچی بات کرتا تھا، کہاں ہے وہ
یہاں اک شخص رہتا تھا، کہاں ہے وہ

یہاں کشتی کناروں کو ملاتی تھی
اور اک دریا بھی بہتا تھا، کہاں ہے وہ

انہی بے نام گلیوں کے دریچوں میں
چراغِ شام جلتا تھا، کہاں ہے وہ

وہ چُپ رہنے کا عادی تھا، مگر پہلے
سخن آغاز کرتا تھا، کہاں ہے وہ

اسے رستہ بدل لینا بھی آتا تھا
مگر وہ ساتھ چلتا تھا، کہاں ہے وہ

IN Khan's picture

وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی

وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی
اُس کو سوچا ہی نہیں جس سے مُحبت نہیں کی

اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے
ہم نے پہلے بھی مُحبت میں سیاست نہیں کی

تُم سے کیا وعدہ خلافی کی شکایت کرتے
تُم نے تو لوٹ کے آنے کی بھی زحمت نہیں کی

دھڑکنیں سینے سے آنکھوں میں سِمٹ آئی تھیں
وہ بھی خاموش تھا، ہم نے بھی وضاحت نہیں کی

رات کو رات ہی اِس بار کہا ہے ہم نے
ہم نے اِس بار بھی توہینِ عدالت نہیں کی

گردِ آئینہ ہٹائی ہے کہ سچائی کھلے
ورنہ تم جانتے ہو ہم نے بغاوت نہیں کی

بس ہمیں عشق کی آشفتہ سری کھینچتی ہے
رزق کے واسطے ہم نے کبھی ہجرت نہیں کی

آ، ذرا دیکھ لیں دنیا کو بھی، کس حال میں ہے
کئی دن ہو گئے دُشمن کی زیارت نہیں کی

تم نے سب کُچھ کیا، انسان کی عزت نہیں کی
کیا ہوا وقت نے جو تم سے رعایت نہیں کی

IN Khan's picture

کوئی سچے خواب دکھاتا ہے، پر جانے کون دکھاتا ہے

کوئی سچے خواب دکھاتا ہے، پر جانے کون دکھاتا ہے
مجھے ساری رات جگاتا ہے، پر جانے کون جگاتا ہے

کوئی دریا ہے جس کی لہریں مجھے کھینچ رہی ہیں، اور کوئی
مری جانب ہاتھ بڑھاتا ہے، پر جانے کون بڑھاتا ہے

کبھی جائے نماز کی بانہوں میں، کبھی حمد درود کی چھاؤں میں
کوئی زار و زار رلاتا ہے، پر جانے کون رلاتا ہے

وہی بے خبری، وہی جیون کا بے انت سفر، اور ایسے میں
کوئی اپنی یاد دلاتا ہے، پر جانے کون دلاتا ہے

کہیں اس معلوم سی دنیا میں کوئی نا معلوم سی دنیا ہے
کوئی اس کے بھید بتاتا ہے، پر جانے کون بتاتا ہے

مری تنہائی میں ایک نئی تنہائی ہے، جس کے رنگوں میں
کوئی اپنے رنگ ملاتا ہے، پر جانے کون ملاتا ہے

کوئی کہتا ہے یہ رستہ ہے اور تیرے لیے ہے یہ رستہ
کوئی اس میں خاک اڑاتا ہے، پر جانے کون اڑاتا ہے

کوئی کہتا ہے یہ دنیا ہے اور تیرے لیے ہے یہ دنیا
کوئی اس سے خوف دلاتا ہے، پر جانے کون دلاتا ہے

کوئی کہتا ہے اس مٹی میں کئی خواب ہیں اور ان خوابوں سے
کوئی بیٹھا نقش بناتا ہے، پر جانے کون بناتا ہے

کوئی ہر شے کے سینے میں کہیں، موجود ہے ظاہر ہونے کو
کوئی اپنا آپ چھپاتا ہے، پر جانے کون چھپاتا ہے

کوئی دیکھا, ان دیکھا ہر پل چپ چاپ لکھے جاتا ہے مگر
کوئی مجھ میں شور مچاتا ہے، پر جانے کون مچاتا ہے

مجھے دنیا اپنی چھب دکھلانے روز چلی آتی ہے مگر
کوئی دونوں بیچ آ جاتا ہے، پر جانے کون آ جاتا ہے

Syndicate content