Yahya Khan Yusufzai

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

خواب دیکھا کرو

خواب گذ شت

خواب کیا چیز ہیں ؟
جانتا ہے کویٔ؟
خواب ہوتے ہیں کیا ؟

خواب وہ ہیں ، جسے ۔ ۔ ۔ ہم کو پانا ہے ؟
یا ہے کرامات ۔ ۔ ۔ ؟ ہم جس کے ہوں منتظر !

لوگ کہتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔
خواب تو خواب ہیں ، یہ حقیقت نہیں !
تم نہ دیکھو انہیں ، کچھ نہیں پاؤ گے !!

دل یہ کہتا ہے کہ ۔ ۔ ۔
لوگ کہتے ہیں جو ۔ ۔ ۔ مان بھی لیں
اگر ۔ ۔ ۔
عہدِ فردا کو بھی دیکھ آۓ ہیں وہ !!!

خواب جھوٹے بھی ہوسکتے ہیں لوگ بھی
خواب دیکھا کرو ۔ ۔ ۔ ۔

شاعر ۔ یحییٰ خان یوسف زیئ ۔ پونہ ۔ انڈیا

Your rating: None Average: 4 (3 votes)
Guest Author's picture

دل بیکل ہے

غزل

دل بیکل ہے
کیا پاگل ہے ؟

عشق معمّہ
اِک لا حل ہے

ٹوٹ کے روۓ
سب جل تھل ہے

جیون پیاسا
ہر اِک پل ہے
یاد تمہاری
امرت جل ہے

کل کا سپنا
پھر اک کل ہے

دنیا داری
اِک دلدل ہے

سب ٹلتا ہے
موت اٹل ہے

شاعر : یحییٰ خان یوسف زیٔ ۔ پونہ ۔ انڈیا

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
YahyaKhan's picture

خون کے رشتے الجھ کر رہ گیٔے مقدار میں

خون کے رشتے الجھ کر رہ گیٔے مقدار میں
پورکھوں کی شان ڈوبی صحن کی دیوار میں

... ... پھول ، پتّے سب نگاہِ برقِ کہنہ کھا گیٔ
لکڑیاں سوکھی ہویٔ باقی رہیں اشجار میں

گم نہ ہو آسانیوں میں نقشِ منزل کا سراغ
لطف ہے منزل گُزینی کا رہِ دشوار میں

لوگ اپنی اپنی دنیاؤں میں پیچھے رہ گیٔے
ہم گنوا بیٹھے متاعِ دو جہاں رفتار میں

خاک کے پردے میں پنہاں ہیں یہ کس کی صورتیں
کس کا جلوہ ہے نمایاں پردۂ زنگار میں

مجھ کو توُ الزام نہ دےکفرکا کہ میرے بعد
تیری مرضی بھی تو شامل ہے مِرے انکار میں

فاسقوں کے واسطے خلعت بحالی ہے یہاں
حق پرستوں کے لیٔے دار الاماں ہے دار میں

لفظ تو جادو بھی کر سکتے ہیں دشمن پر‘ جناب
یہ صفت ممکن کہاں ہے خنجر و تلوار میں

دوست ڈستے ہیں مجھے قسطوں میں زیرِ آستیں
دشمن اچھا، سر اُڑا دیتا ہے جو اک وار میں

دشت میں یہ کس کے ساۓ نے اجالا کردیا
کس کی یادیں دل کو لایٔیں عالمِ انوار میں

جب کویٔ امکانِ تجدیدِ وفا باقی نہیں
کیوں بھلا ہم یاد کرتے ہیں تمہیں بیکار میں

یحییٰ خان یوسف زیٔ ۔ پونہ ۔ انڈٰیا

Your rating: None Average: 4 (1 vote)
Guest Author's picture

ایک احساسِ جادُوانہ ہُوا ۔ ۔ ۔

غزل
ایک احساسِ جادُوانہ ہُوا ۔ ۔ ۔
اشک آنکھوں سے پھر روانہ ہُوا ۔ ۔ ۔

عشق مرھونِ مَے کشی نہ رہا ۔ ۔ ۔
درد جب صبرآزما نہ ہُوا ۔ ۔ ۔

دل کو برباد یوں بھی ہونا تھا
بے وفائی تری بہانہ ہُوا ۔ ۔ ۔

مجھ کو دنیا کی کچھ سمجھ آئی
دشت میں جب مرا ٹھکانہ ہُوا ۔ ۔ ۔

جب سے دنیا لٹا کے بیٹھے ہیں
اپنا انداز خسروانہ ہُوا ۔ ۔ ۔

جانے کیا ڈھونڈتا ہوں مَیں ؛ مُجھ میں
تُجھ کو بھُولے تو اِک زمانہ ہُوا ۔ ۔ ۔
شاعر : یحیٰی خان یوسف زیٔ ۔ پونہ ۔ انڈیا

No votes yet
Syndicate content