Zia Fateh abadi

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Bawa's picture

تماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیں سواے فریب نظر کچھ نہیں

تماشا ہے سب کچھ ، مگر کچھ نہیں
سواے فریب نظر کچھ نہیں
زمانہ یہ ہے رقص ذرّات کا
حکایات شمس و قمر کچھ نہیں
ستاروں سے آگے مری منزلیں
بلا سے اگر بال و پر کچھ نہیں
محبّت کی یہ محویت ، کیا کہوں
وہ آے تو اپنی خبر کچھ نہیں
مرا شوق منزل ہے شابت قدم
کوئی رہزن و راہبر کچھ نہیں
محبّت ہے انسان کی آبرو
بغیر محبّت بشر کچھ نہیں
ضیاء تو مریض غم عشق ہے
علاج اس کا اے چارہ گر کچھ نہیں

No votes yet
Bawa's picture

آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہوتا تو پھر سورج ابھرا ہوتا

آنکھ سے آنسو ڈھلکا ہوتا
تو پھر سورج ابھرا ہوتا
کہتے کہتے غم کا فسانہ
کٹتی رات، سویرا ہوتا
کشتی کیوں ساحل پر ڈوبی
موجیں ہوتیں، دریا ہوتا
جو گرجا پیاسی دھرتی پر
کاش وہ بادل برسا ہوتا
پھولوں میں چھپنے والے کو
کانٹوں میں تو ڈھونڈا ہوتا
تجھ کو پانا سہل نہیں ہے
سہل جو ہوتا تو کیا ہوتا
اپنے سو بیگانے ہوتے
ایک یگانہ اپنا ہوتا
پوچھ ضیاء یہ اہل دل سے
پیار نہ ہوتا تو کیا ہوتا

No votes yet
Bawa's picture

اک قیامت مری حیات بنی گرمئی بزم کائنات بنی

اک قیامت مری حیات بنی
گرمئی بزم کائنات بنی
آشناے سکوں تھی لاعلمی
آگہی فکر شش جہات بنی
موت نے جب فنا کی دی تعلیم
وہ گھڑی مژدہ حیات بنی
موسم برشگال خوب آیا
اک دلہن ساری کائنات بنی
دامن ضبط میں سکوں پایا
شور و شیون سے جب نہ بات بنی
پھر وہی رات صبح بنتی ہے
جو سحر شام ہو کے رات بنی
جبر کا سب طلسم ٹوٹ گیا
جب ارادوں کی کائنات بنی
کس زمیں میں غزل کہی ہے ضیاء
کہ بناے سے بھی نہ بات بنی

No votes yet
Bawa's picture

انتظار دوست کا غم کھایں کیا ہم فریب آرزو میں آ یں کیا

انتظار دوست کا غم کھایں کیا
ہم فریب آرزو میں آ یں کیا
چٹکیاں لیتی ہے دل میں یاد یار
اشک اپنی آنکھ میں بھر لایں کیا
دن وہی ہے اور راتیں بھی وہی
ہم دل مایوس کو سمجھایں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غم کیا چیز ہے
خود نہیں سمجھے انھیں سمجھایں کیا
شکریہ تونے الٹ تو دی نقاب
تیرے دیوانوں کے سر جھک جایں کیا
جب مشیت ہے خلاف آرزو
حوصلے انسان کے کام آ یں کیا
تاب عرض مدعا ہم کو نہیں
دیکھ کر خاموش،وہ فرمایں کیا
زندگی جن کی ہے شعلوں کی لپک
وہ عذاب موت سے گھبرایں کیا
اے ضیاء آغاز وحشت ہے ہنوز
ہم خدا کا نام لب پر لایں کیا

No votes yet
Bawa's picture

خوبصورت فریب شادی ہے فطرت غم ہی مسکرا دی ہے

خوبصورت فریب شادی ہے
فطرت غم ہی مسکرا دی ہے
ہم نے چھیڑا ہے جب بھی ساز جنوں
تیرگی شب کی گنگنا دی ہے
عالم وجد و بے خودی میں تجھے
ہم نے آواز بارہا دی ہے
اے زمیں ہم نے تیرے قدموں پر
آسماں کی جبیں جھکا دی ہے
ہم نے طوفان شور و شیون سے
کشتی جبر ڈگمگا دی ہے
کوشش امن تو بجا ہے مگر
آدمی فطرتا فسادی ہے
اے خدا تو نے اپنے بندوں کو
زندگی کی کڑی سزا دی ہے
اے ضیاء قلب عشق پرور میں
حسن نے آگ سی لگا دی ہے

No votes yet
Bawa's picture

رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے

رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے
ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے
پھول ذرا کھلجانے دے صحن گلشن میں ساقی
اک پیمانہ چیز ہے کیا ، مے خانہ پی جایں گے

Your rating: None Average: 3 (3 votes)
Bawa's picture

گیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میں

گیت تیرے حسن کے گاتا ہوں میں
چاند کی کرنوں کو تڑپاتا ہوں میں
منزل مقصود ہوتی ہے قریب
راستے سے جب بھٹک جاتا ہوں میں
دے رہا ہوں رات دن غم کو فریب
دل کو امیدوں سے بہلاتا ہوں میں

Your rating: None Average: 3 (3 votes)
Guest Author's picture

شب غم ہے مری تاریک بہت ہو نہ ہو صبح ہے نزدیک بہت

شب غم ہے مری تاریک بہت
ہو نہ ہو صبح ہے نزدیک بہت
ان سے میں دور ہوا خوب ہوا
آ گئے وہ مرے نزدیک بہت
غم جاناں مرے دل سے نہ گیا
کی غم دہر نے تحریک بہت
مل گئی مر کے حیات جاوید

No votes yet
Syndicate content