zameer afaqi

warning: Creating default object from empty value in /home/freeurdupoetry/public_html/modules/taxonomy/taxonomy.pages.inc on line 33.
Guest Author's picture

اب کوئی تاج محل نہیں بنے گا

اب کوئی تاج محل نہیں بنے گا
اب کوئی تاج محل نہیں بنے گا
ممتازوں نے پیدا ہونا چھوڑ دےا
شاہ جہان سے گزر گئے
اب معیارات بھی زمانے کے بدل گئے
شہناشاہوں کی جگہ جمہوریت نے سہرے باندھ لیے
محلوں کی جگہ ایوانوں نے لے لی....
غریبوں کی محبت پہلے بھی رسوا ہوتی تھی
غریبوں کی محبت اب بھی....رسوا ہوتی ہے
جگہ جگہ....
دعوتِ نظارہ دیتے....
چمکتے اور دمکتے بدن
کوچہ بازار میں بکتے ہیں
محبتوں کے کاروبار میں
اب محبتیں بکتی ہیں
اور لوگ پھر بھی....
اس کو محبت کہتے ہیں

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
Guest Author's picture

مل جاتے گرہم

مل جاتے گرہم
مل جاتے گر ہم تو
جذبوں کی زبان ملتی
مگر ہم تو چلتے ہی رہے
ندی کے دو کناروں کی طرح
ساتھ چل کر بھی نہ ملے
جذبے ہمارے ادھورے رہے
ان ناآسودہ جذبوں کی آگ
کتنی سرد ہے!
تمہارے ہاتھوں کی طرح
جیسے برف باری کا موسم ہو اور برف نہ گرے
بہار آئے اور پھول نہ کھلےں....
ساون آئے اور بارش نہ برسے
لفظ ہمیشہ....
لبوں کی تھر تھڑاہٹ کے نیچے دم توڑ گئے
جذبے اناکی بھینٹ چڑھ گئے
انہیں معفوم دینے کی چاہ میں
بنجر کر دیا
ضمیر آفاقی

Your rating: None Average: 4 (2 votes)
Guest Author's picture

تم کیا تھے

تم کیا تھے

تم کا تھے
جب یہ جانا
تو دیر بہت ہو چکی تھی
بنا دیکھے بنا جانے
ہم نے تو تن من وار دےا
تمہارا یہ کہنا کہ
تم بن جاناں
زندگی ادھوری
نا مکلمل سی ہے
دن تو بہت بڑی بات ہے
اک لمحہ نہےں کٹتا۔
فیس بک کی ملاقات کو ہی مکمل ملاقات سمجھتے رہے
ہم سمجھتے رہے کہ تم
صرف ہمارئے لئے ہی آتے تھے
اور ہم ناز کرتے تھے تمہاری محبت پر
مگر بھید یہ کھلا کہ
فےس بک پے دوستیاں بنانا
اور گپ شپ کرنا
تمہاری ہابی تھی
اور ہماری محبت تمہاری ہابی کی نظر ہو گئی
ضمےر آفاقی
۷۲ جولائی

Your rating: None Average: 5 (1 vote)
Guest Author's picture

صرف تمہارے لیے

صرف تمہارے لیے
صر ف تمہارے لیے ،جانِ جاناں
گزرا برس بیت گیا
جو بیت گیا سو بیت گیا
گزرے برس بھی ہم نے مانگیں تھیں
بہت دعائیں تمہارے لئے
اب کے برس کے پہلے لمحے
ہمیں یہ دعا مانگنے دو ،جاناں
کوئی پل نہ تمہارا اداس گزرے
کسی دکھ کا شائبہ نہ تمہارے پاس آئے
تو پھولوں کی طرح کھلتی رہے،
تو خوش رہے آباد رہے
تیرا خواب نگر آباد رہے
تو جو چاہے وہ ہو جائے
تو جو مانگے وہ مل جائے
غم و یاس کبھی بھی تیرئے پاس نہ رہے
تو کرن ہے ،اجالا بن کے دل میں
میر ئے ہمیشہ آباد رہے
ضمیر آفاقی
یکم جنوری دو ہزاربارہ

Your rating: None Average: 4 (1 vote)
Guest Author's picture

میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔؟

میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔؟
بہت خوبصورت جذبے لے کر چلا تھا میں
بڑئے معصوم اور سچے تھے
اور۔۔ میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔
جذبوں کی سچائی کے علاوہ۔
مگر بازار وفا میں۔۔
ان کی قدرو قیمت کہاں؟
اور۔۔۔اب میں!
جذبوں کی بوسیدہ لاش۔۔
اپنے کندھوںپر اٹھائے۔۔
جھوٹ کی قبر میں دفن کرنے جارہا ہوں
ریا کاری کی چادر چڑھاوں گا اس پر
اور پھول نفرتوں کے ڈالوں گا !
کہ۔۔۔۔جذبوں کا دفن ہو جانا ہی۔،
شائد۔۔!
میرئے حق میں بہتر ہو۔۔!
ضمیر آفاقی۔29 جون لاہور

Your rating: None Average: 3.7 (3 votes)
Guest Author's picture

میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔؟

میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔؟
بہت خوبصورت جذبے لے کر چلا تھا میں
بڑئے معصوم اور سچے تھے
اور۔۔ میرئے پاس تھا ہی کیا ۔۔
جذبوں کی سچائی کے علاوہ۔
مگر بازار وفا میں۔۔
ان کی قدرو قیمت کہاں؟
اور۔۔۔اب میں!
جذبوں کی بوسیدہ لاش۔۔
اپنے کندھوںپر اٹھائے۔۔
جھوٹ کی قبر مےں دفن کرنے جارہا ہوں
ریا کاری کی چادر چڑھاوں گا اس پر
اور پھول نفرتوں کے ڈالوں گا !
کہ۔۔۔۔جذبوں کا دفن ہو جانا ہی۔،
شائد۔۔!
میرئے حق میں بہتر ہو۔۔!
ضمےر آفاقی۔29 جون لاہور

No votes yet
Guest Author's picture

خود فریبی

خود فریبی
یہ دل کا درد بھی عجیب ہے
محبت یہ چاہت کیا چیز ہے
خود فریبی کے رشتے بنتے بنتے
راہوں کے کانٹے چنتے چنتے
اپنی ذات کے موسم مےں گم ہوں
گم ہوں اس طرح!
کہ۔۔۔کسی بھی بات کا ہوش نہیں
سوچوں کے گرداب میں بھٹکتا ہوا
سوچتا ہوں۔۔
کہ۔۔۔ تو بھی۔۔۔
مجھے ایسے ہی سوچتا ہو گا
چاہتا ہو گا
میری یادوں سے دل کو جلاتا ہو گا
یا پھر میری طرح
خود فریبی سے دل کو بہلاتا ہو گا
ضمیر آفاقی

No votes yet
Guest Author's picture

خود فریبی

خود فریبی
یہ دل کا درد بھی عجیب ہے
محبت یہ چاہت کیا چیز ہے
خود فریبی کے رشتے بنتے بنتے
راہوں کے کانٹے چنتے چنتے
اپنی ذات کے موسم مےں گم ہوں
گم ہوں اس طرح!
کہ۔۔۔کسی بھی بات کا ہوش نہیں
سوچوں کے گرداب میں بھٹکتا ہوا
سوچتا ہوں۔۔
کہ۔۔۔ تو بھی۔۔۔
مجھے ایسے ہی سوچتا ہو گا
چاہتا ہو گا
میری یادوں سے دل کو جلاتا ہو گا
یا پھر میری طرح
خود فریبی سے دل کو بہلاتا ہو گا
ضمیر آفاقی

No votes yet
Syndicate content