چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں.

Verses

چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں
ذات کا فقیر میں کیا کرنے چلا ہوں

لہو کو اپنی مٹھیوں میں بھرنے چلا ہوں
گلاب کو اسیر جو میں کرنے چلا ہوں

بلبل کو عقابوں کی نظر کرنے چلا ہوں
مجنوں ہوں میں پتھروں سے لڑنے چلا ہوں

آنکھوں پہ جام کے الزام دھرنے چلا ہوں
ساقی شراب کو حرام کرنے چلا ہوں

محبت کے شہر میں قیام کرنے چلا ہوں
دامن میں رتجگوں کے خار بھرنے چلا ہوں

یادوں کی آر دل میں یار گڑنے چلا ہوں
عشق ہوں میں سوئے دار بڑھنے چلا ہوں

ہوں داغ جدائی کا کہاں دھلنے چلا ہوں
رنگریز سے بے سود کہاں بھڑنے چلا ہوں

رستے کی خاک ہوں فلک کو بڑھنے چلا ہوں
جوہڑ کا ہی سہی کنول تو بننے چلا ہوں

ظلمت کے اندھیروں کو زیر کرنے چلا ہوں
بن کے امید کا دیا میں جلنے چلا ہوں

خلق ہوں خالق کو اله کرنے چلا ہوں
پتھر ہوں تو پتھر کو خدا کرنے چلا ہوں

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

Verses

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ
http://en.wikipedia.org/wiki/Tanwir_Phool

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

Verses

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

Verses

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ

Avval To Dil O Jaan Va Aakhir Jigar Gaya By Fassana

Verses

اول تو دل و جان و آخر جگر گیا
وہ ایک شخص لے کے میرا سارا زر گیا
*
فردا کی بات ہو کہ کوئ دی کا حادثہ
دل میں ہمارے درد کا خنجر اتر گیا
*
آءے وہ بے نقاب گلستان میں جوںہی
پہولوں کا رنگ انکو دیکھ کر نکھر گیا
*
پھرتا تھا تیرے کوچے میں ہر روز جو ساءل
ظالم! وہ تیرے جلوے کی حسرت میں مر گیا
*
پھرتے ہو ٹک اداس فسانہ جی کیا ہوا؟
وہ شوخیاں وہ جوشِ جوانی کدھر گیا؟

Naveed Ahmed Fassana

چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں.

Verses

چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں
ذات کا فقیر میں کیا کرنے چلا ہوں

لہو کو اپنی مٹھیوں میں بھرنے چلا ہوں
گلاب کو اسیر جو میں کرنے چلا ہوں

بلبل کو عقابوں کی نظر کرنے چلا ہوں
مجنوں ہوں میں پتھروں سے لڑنے چلا ہوں

آنکھوں پہ جام کے الزام دھرنے چلا ہوں
ساقی شراب کو حرام کرنے چلا ہوں

محبت کے شہر میں قیام کرنے چلا ہوں
دامن میں رتجگوں کے خار بھرنے چلا ہوں

یادوں کی آر دل میں یار گڑنے چلا ہوں
عشق ہوں میں سوئے دار بڑھنے چلا ہوں

ہوں داغ جدائی کا کہاں دھلنے چلا ہوں
رنگریز سے بے سود کہاں بھڑنے چلا ہوں

رستے کی خاک ہوں فلک کو بڑھنے چلا ہوں
جوہڑ کا ہی سہی کنول تو بننے چلا ہوں

ظلمت کے اندھیروں کو زیر کرنے چلا ہوں
بن کے امید کا دیا میں جلنے چلا ہوں

خلق ہوں خالق کو اله کرنے چلا ہوں
پتھر ہوں تو پتھر کو خدا کرنے چلا ہوں

Layyah

Verses

اساں لوک دلیر ضلع "ليه" دے،
اساں لاکے توڑ نبھیندے ھاں،،،

ساکوں کیں بدماش دا ڈر کوئ نئیں،
گلاں کھلیاں یار کریندے ھاں...

منگے پانڑی جے محبوب ساڈا،
اساں جگر دا خون پلیندے ھاں،،،

وت رات ٹکا کے سجڑاں نوں،
چت ساری رات مریندے ھاں...!!

دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ -- شفیق خلش

Verses

غزل
شفیق خلش

دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ
جینے مرنے کا مِرے ، اِک تو سبب بن جاؤ

ہو مثالوں میں نہ جو حُسنِ عجب بن جاؤ
کِس نے تم سے یہ کہا تھا کہ غضب بن جاؤ

آ بسو دل کی طرح گھر میں بھی اے خوش اِلحان
زندگی بھر کو مِری سازِ طرب بن جاؤ

رشک قسمت پہ مِری سارے زمانے کو رہے
ہمسفرتم جو لِئے اپنے یہ چھب بن جاؤ

میں نے چاہا تھا سرِصُبْحِ جوانی بھی یہی
تم ہی سانسوں کی مہک، دل کی طلب بن جاؤ

کچھ تو احساس چَھٹے دل سے اندھیروں کا مِرے
زیستِ تاریک کو اِک شمعِ شب بن جاؤ

دل میں رکھتا ہُوں محبّت کا خزانہ جاناں
چھوڑکرسارا جہاں میری ہی اب بن جاؤ

ذات قربت سے ہمیشہ ہی منوّر چاہوں
کب کہا اُس سے خلش رونقِ شب بن جاؤ

شفیق خلش

کیا خوب کربلا میں نبھائ حسین نے

Verses

کیا خوب کربلا میں نبھائ حسین نے

کیا خوب کربلا میں نبھائ حسین نے
نانا کے دیں کی لاج بچائ حسین نے

.یوں تو کربلا میں پیاسے لگے حسین.
مے معرفت کی سب کو پلائ حسین نے

یہ ادنی سا شاعر کیا ان کی شان لکھے؟؟؟
کس کس کی لاش نہ جا کے اٹھائ حسین نے

جان دے دو مت جھکو باطل کے سامنے
امت تلک کربلا سے یہ بات پہنچائ حسین نے

نیزے پہ چڑھ کے بھی تلاوت قرآن ہوئ
کیا یزيد کے سینے میں آگ لگائ حسین نے

سر کٹا کہ ازل تک امر وہ ہوۓ عثمان
کیسی ارفع کی کربلا میں کی کمائ حسین نے

رحمت ہی رب نے بناۓ محمد

Verses

رحمت ہی رب نے بناۓ محمد

بھلائ سے رب نے سجاۓ محمد
رحمت ہی رب نے بناۓ محمد

قدرت اپنی جو عیاں کرنی ہوئ
امت کو پھر رب نے دکھاۓ محمد

اس مثل نہ ہوئ ہوگی ولادت کسی کی
اللہ کیا خوب دنیا میں آۓ محمد

خدا،انبیا،فرشتے پھر عاصی امت
ہر اک کے دل کو ہیں بھاۓ محمد

شان کسی کی اس سے بڑھ کر کیا ہو
خدا خود بھی کرتا ہے ثناۓ محمد

زمانے بھر کے عیبی بھی مھذب ہوۓ
یہ کس نہج پر ان کو لاۓ محمد

شیطاں يوں تو نھیں بھاگتا تھا ان سے
کہ عمر ہی تو ہیں فقط دعاۓ محمد

عثماں جی نصیب اپنا بھی ہو کبھی جوبن پر
کہ خدا تم کو بھی دکھاۓ محمد