لہو آواز کی تہ پر جما تھا/رفیق سندیلوی

Verses

لہو آواز کی تہ پر جما تھا
اور اس پر اک پرت آواز کا تھا

پرندہ ڈوبتا تھا آبِ یخ میں
اور آبِ یخ ہوا میں ڈوبتا تھا

ستونِ خواب پر بارش کی چھت تھی
اور اُس چھت پر چراغ اور آئینہ تھا

بدوشِ صاعقہ تھی کوئی میت
اور اُس کو ابر کاندھا دے رہا تھا

کفِ تجرید پر رکھا تھا پانی
اور اس سے اک ہیولا پھوٹتا تھا

رفیق سندیلوی
Rafiq Sandeelvi

سنہری اونٹ ہم نے لے لیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

سنہری اونٹ ہم نے لے لیا تھا
مگر اس سے زیادہ خوں بہا تھا

ڈرامہ ہم نے وہ دیکھا کھ جس کا
ہزاروں سال کا دورانیہ تھا

پسِ کہسار خیمے تھے نہ سائے
اب آنکھیں تھیں ہوا تھی اور کیا تھا

جمی تھی دھوپ سطحِ آئنہ پر
اور اس کا عکس چھاؤں سے اٹا تھا

مچی تھیں میری آنکھیں اور منہ پر
کوئی انگور کا گچھا جھکا تھا

رفیق سندیلوی

سلگنا ہی مقدر میں لکھا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

سلگنا ہی مقدر میں لکھا تھا
کہ میرا بر ِ اعظم آگ کا تھا

مرا جغرافیہ تھے سرخ شعلے
دھواں ہی میری سرحد بن گیا تھا

جڑیں کیا پھیلتیں میری زمیں میں
میں اک چھوٹے سے گملے میں اگا تھا

بوقتِ صبح میں کیا دیکھتا ہوں
کھ سایہ شام کا پھیلا ہوا تھا

کھلیں جب نصف شب کو میری آنکھیں
کوئی آسیب بستر پر جھکا تھا

رفیق سندیلوی

جب اِندر کا اکھاڑا ہو رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

جب اِندر کا اکھاڑا ہو رہا تھا
میں کالے دیو کے ہتھے چڑھا تھا

پری انسان پر عاشق ہوئی تھی
سنہرے دیو کو سکتہ ہوا تھا

پرستاں میں اُداسی چھا گئی تھی
اچانک ختم جلسہ ہو گیا تھا

پری کے سبز پر نوچے گئے تھے
مجھے بھی قید میں ڈالا گیا تھا

مری فرقت میں وہ لاغر ہوئی تھی
میں اُس کے ہجر میں کانٹا ہوا تھا

رفیق سندیلوی

جدھر جاتے ادھر اک راستہ تھا/rafiq sandeelvi

Verses

جدھر جاتے ادھر اک راستہ تھا
تم اندھے ہو ہواؤں نے کھا تھا

زمیں،عورت،حویلی اور مویشی
سبھی کچھ غدر میں لُٹ پُٹ گیا تھا

کجاوے،باغ،جھولےاور پنگھٹ
پرانا وقت یاد آنے لگا تھا

برہنہ پشت پر لگتے تھے کوڑے
غلامی کا زمانہ آ گیا تھا

رکی تھیں گھر میں آدم خور راتیں
اندھیرا مجھکو کھانے دوڑتا تھا
رفیق سندیلوی

وہ میری میزبانی کر رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

وہ میری میزبانی کر رہا تھا
میں دستر خوان پر بیٹھا ہوا تھا

دھرے تھے میرے آگے سات کھانے
اور اُن میں لمس اس کے ہاتھ کا تھا

چمک اٹھی تھی میری بھوک جیسے
میں صدیوں سے غذا ناآشنا تھا

نوالے بھی بہت نمکیں تھے لیکن
عجب اُس کے لبوں کا ذائقہ تھا

شراب اور گوشت کی اپنی تھی لذت
مگر اس کے بدن کا جو مزا تھا
رفیق سندیلوی

عجب حادثہ

Verses

عجب حادثہ
---------------
حوادث کی بھیڑ میں،
اس اجڑے گلستاں میں، کبھی کلیاں نو بہار تھیں
لیکن اب کے ساون اور برکھا کی ہواوں نے کچھ ایسا اثر دکھایا
کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھلکھلاتے گلستان گلاب کی سرخ پتیاں ،
زمیں پہ بکھری لاشوں کے مصداق ،
خونی مناظر کی طرح،
باغ کے مالی کو پیغام دے رہی ہیں
کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیز ہوائیں جھنجھوڑ دیتی ہیں اور اکثر کایا پلٹ کہ رکھ دیتی ہیں ،
لیکن ہماری ان مذکورہ سرخ پتیوں کا رس ،
اسی خمیر میں شہیدان وطن کی طرح جذب ہو کر رہ جائے گا،
اور
امید واثق ہے کہ ساون کہ اس کہر آلود اور برکھا کی شدت کی ہواوں کے بعد،
اس گلشن میں جو نئے گلاب کھلیں گے ان کے عرق میں ہماری لال پتیوں کا رس ہو گا،
اور اب کے بہار جو پھول کھلیں گے وہ زیادہ جاذب نظر ہوں گے،

شکیل چوھان آزادکشمیر

Laher laher laherati haien

Verses

Transcreation of urdu on English
Laher laher laherati haien
Nazer nazer takrati haien
Raat ki rani ,mahek failaker
Pel pel moatter karti haien
Transcreation of urdu into English
Wave each whirl dance
Sight each meet smile
Spread fragrance, night queen
Bathed in fragrance moment each .
Dabir Ahmed shaikh

Jana haie

Verses

Na samjhena na samjhna haie
Kutch khona na pana haie
wakt ke sailen rawan mein ab
Dour dour chley jana haie.

Daag mele hein itne

Verses

Daag mele hein itne
Aakash mein tare jitney
Sager mein katre jitney
Aankh mein aansoo utney
Chand kirnoon ka jaal buney
Tareeki jugmug jugmug ho uthey
Subhe dem Jab phul khile
Dil ke taar gun guna uthe
Jab jab pedh pe kaga bule
Aasha ke deep jaj jaluthe
Taroo bheri raat me Dabir
Raat ki raani jhum jhum uthe