اجالا's picture

انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

انا پہ چوٹ پڑے بھی تو کون دیکھتا ھے؟
دھواں سا دل سے اٹھے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

میرے لیے کبھی مٹی پہ سردیوں کی ھوا
تمھارا نام لکھے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

اجاڑ گھر کے کسی بے صدا دریچے میں
کوئی چراغ جلے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

ھجوم شہر سے ہٹ کر،حدود شہر کے بعد
وہ مسکرا کے ملے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

جس آنکھ میں کوئی چہرہ،نہ کوئی عکس طلب
وہ آنکھ جل کے بجھے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

ہجوم درد میں کیا مسکرائیے کہ یہاں
خزاں میں پھول کھلے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

ملے بغیر جو مجھ سے بچھڑ گیا محسن
وہ راستے میں رکے بھی تو کون دیکھتا ھے؟

اجالا's picture

راہ وفا میں اذیت شناسائیاں نہ گئیں

راہ وفا میں اذیت شناسائیاں نہ گئیں
کسی بھی رت میں ھماری اداسیاں نہ گئیں

تنی ھے ابر کی چادر بھی آسماں پہ مگر
شعاع مہر تیری بے لباسیاں نہ گئیں

تیرے قریب بھی رہ کر تجھے تلاش کروں
محبتوں میں میری بد حواسیاں نہ گئیں

خدا خبر کہاں کنجوں کے قافلے اترے؟
سمندر کی طرف بھی تو پیاسیاں نہ گئیں

خزاں میں بھی تو مہکتی غزل پہن کے ملا
مزاج یار تیری خوش لباسیاں نہ گئیں

بسنت رت میں بھی مندر اداس تھے"محسن"
کہ دیوتاؤں سے ملنے کو داسیاں نہ گئیں

اجالا's picture

وہ بھی کیا دن تھے کہ پل میں کر دیا کرتے تھے ہم

وہ بھی کیا دن تھے کہ پل میں کر دیا کرتے تھے ہم
عمر بھر کی چاھتیں ہر ایک ھرجائی کے نام

وہ بھی کیا موسم تھے جن کی نکہتوں کے ذائقے
لکھ دیا کرتے تھے خال و خد کی رعنائی کے نام

وہ بھی صحبتیں تھیں جن کی مسکراھٹ کے فسوں
وقف تھے اہل وفا کی بزم آرائی کے نام

وہ بھی کیا شامیں تھیں جن کی شہرتیں منسوب تھیں
بے سبب کھلے ھوئے بالوں کی رسوائی کے نام

اب کے وہ رت ھے کہ ہر تازہ قیامت کا عذاب
اپنے جاگتے زخموں کی گہرائی کے نام

اب کے اپنے آنسوؤں کے سب شکستہ آئینے
کچھ زمانے کے لیے،کچھ تنہائی کے نام

wish's picture

کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں

کسی سے حال دلِ زار مت کہو سائیں
یہ وقت جیسے بھی گزرے گزار لو سائیں

وہ اس طرح سے ہیں بچھڑے کہ مل نہیں سکتے
وہ اب نہ آئیں گے ان کو صدا نہ دو سائیں

تمہیں پیام دئیے ہیں صبا کے ہاتھ بہت
تمہارے شہر میں ہیں تم جو آ سکو سائیں

نہ مال و زر کی تمنا نہ جاہ حشمت کی
ملیں گے پیار سے ہم ایسے لوگ تو سائیں

کہیں تو کس سے کہیں اور سنے تو کون سنے
گزر گئی ہے محبت میں ہم پہ جو سائیں

اکیلے جاگتے رہنے سے کچھ نہیں ہو گا
تمام خواب میں ہیں تم بھی سو رہو سائیں

wish's picture

جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے

جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
ہم نے سب کچھ کر دیکھا ہے

برگِ آوارہ کی صورت
رنگِ خشک و تر دیکھا ہے

ٹھنڈی آہیں بھرنے ولو
ٹھنڈی آہیں بھر دیکھا ہے

تیری زُلفوں کا افسانہ
رات کے ہونٹوں پر دیکھا ہے

اپنے دیوانوں کا عالم
تم نے کب آکر دیکھا ہے

انجم کی خاموش فضا میں
میں نے تمھیں اکثر دیکھا ہے

ہم نے اس بستی میں جالب
جھوٹ کا اُونچا سر دیکھا ہے

wish's picture

آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں

آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں
اڑتے پتوں کے پیچھے اڑاتا رہا شوق آوارگی

اس گلی کے بہت کم نظر لوگ تھے،فتنہ گر لوگ تھے
زخم کھاتا رہا مسکراتا رہا ،شوق آوارگی

کوئی پیغام گل تک نہ پہنچا مگر پھر بھی شام و سحر
ناز باد چمن کے اٹھاتا رہا شوق آوارگی

کوئی ہنس کے ملے غنچئ دل کھلے چاک دل کا سلے
ہر قدم پر نگاہیں بچھاتا رہا شوق آوارگی

دشمن جاں فلک ،غیر ہے یہ زمیں کوئی اپنا نہیں
خاک سارے جہاں کی اڑاتا رہا شوق آوارگی

wish's picture

عشق میں نام کر گئے ہوں گے

عشق میں نام کر گئے ہوں گے
جو تیرے غم میں مر گئے ہوں گے

اب وہ نظریں اِدھر نہیں اُٹھتیں
ہم نظر سے اُتر گئے ہوں‌ گے

کچھ فضاؤں‌ میں انتشار سا ہے
ان کے گیسُو بکھر گئے ہوں گے

نور بکھرا ہے راہ گزاروں میں
وہ ادھر سے گزر گئے ہوں‌ گے

میکدے میں‌ کہ بزمِ جاناں تک
اور جالب کدھر گئے ہوں‌ گے

wish's picture

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
مجھ کو انسان سے اوتار کیا

دشتِ غربت میں دلِ ویراں نے
یاد جمنا کو کئی بار کیا

پیار کی بات نہ پوچھو یارو
ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا

کتنی خوابیدہ تمناؤں کو
اس کی آواز نے بیدار کیا

ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب
ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا

Syndicate content